آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73ویں برسی

آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73ویں برسی

آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73 ویں برسی عقیدت واحترام سے منائی جارہی ہے۔ کراچی میں قائد کے مزار پرشہری حاضری دے کر اپنے عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ یہ دن ایک ایسے عظیم رہنما کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا ا و ر ان کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔ 

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کیا پاکستان کو قائد کے فرمودات و نظریات کی طرز پر قائم کرلیا؟ ریاست آج جن مشکلات کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ بابائے قوم کے نظریات پر عمل پیرا نہ ہونا ہے، ان ر وشن اصولوں سے روگردانی کی وجہ سے وطن عزیز کا بہت زیادہ نقصان ہوچکااب یہ ملک مزید نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا،عدل و انصاف، گڈگورننس اور آئین کی بالادستی و قانون کی حکمرانی کو قائم کرکے قائد اعظم کے پاکستان کو موجودہ گھمبیر اور سنگین مسائل و مشکلات سے نجات دلائی جاسکتی ہے، وزیراعظم نے بھی مینار پاکستان پر بابائے قوم کے نظریات کے مطابق ملک کو چلانے کا اعلان کیا تھا مگر تین سال گزرنے کے باوجود اس کی جھلک نظر نہیں آئی ۔بانی پاکستان کے یوم وفات کے موقع پر اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ قائد اعظم نے جن اصولوں اور مقاصد کے لیے آزاد مملکت کی جدوجہد کی تھی اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور انہوں نے پاکستان کی شکل میں ایک عظیم کامیابی حاصل کی۔ آج ہمیں اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ کیا ہم قائداعظم کے روشن اصولوں پر عمل پیرا ہیں؟ اور جن مقاصد کے لیے عزت وناموس اور جانوں کے نذرانے دئیے گئے وہ حاصل ہوگئے ہیں؟ قائد اعظم نے جس ملک کی بنیاد ڈالی تھی اس میں جمہوریت کو اساسی حیثیت حاصل تھی، عدل وانصاف، امن وامان سے بھرپور معاشرے کا قیام تھا،عوام کو ان کے بنیادی اور شہری حقوق و آزادیوں کی پاسداری کا یقین دلایا گیا تھا اور اقتدار میں عوام کو بنیادی حیثیت دی گئی تھی اگر آج حالات کا معروضی جائزہ لیا جائے تو اس ملک میں شہری آزادیوں کی نفی ، بدامنی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، غربت، تعلیمی پسماندگی کے ساتھ اخلاقی پستی جیسے قبیح واقعات نے جہاں عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی یہ عوامل بدنامی کا سبب بن رہے ہیں، افسوس بے بس عوام امن و سکون کے متلاشی ہیں لیکن ان کے جان و مال اور حقوق کا تحفظ کرنے میں ریاست اپنا وہ کردار ادا نہیں کرپائی جواس کے فریضے میں شامل تھا۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے وزیراعظم عمران کو مینار پاکستان پر 2018ءکی تقریر اور وزیراعظم بننے کے بعد14 اگست 2020ءمیں عوام سے کئے گئے وعدے یاد لاتے ہوئے کہاکہ تین سال حکومت گزرنے کے باوجود ابھی تک عوا م سے کیاگیا وعدہ پورا نہ کرسکے تو اس کی وجہ کیاہے؟خود بطور چیئرمین تحریک انصاف اور وزیراعظم پاکستان کے وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ملک موجودہ صورتحال میں قائد اعظم کے ویژن پر عمل پیرا نہیں ہے ۔ حکمرانوں کو سنجیدگی کے ساتھ بابائے قوم کے نظریات اور اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا تبھی ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جاسکتاہے۔ انہوں نے بابائے قوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم بیسویں صدی کے عوام دوست، اصول پسند، بے لوث، سچے اور عظیم مسلمان رہنماء تھے لہٰذا ہم ان کے وضع کردہ اصولوں پر عمل کرکے ہی پاکستان کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکتے ہیں۔