آزادی کا حصول اور اس کی قیمت علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر ۔ اسلامی تحریک پاکستان
آزادی کا حصول اور اس کی قیمت علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر ۔ اسلامی تحریک پاکستان

 

علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر ۔ اسلامی تحریک پاکستان
علامہ محمد رمضان توقیر مرکزی نائب صدر ۔ اسلامی تحریک پاکستان

انسانی تاریخ میں آزادی کا تصور ‘ آزادی کا حصول ‘ آزادی سے رہنے کی خواہش ‘ آزادی کے تحفظ اور آزادی کی قیمت کی ادائیگی نہایت کلیدی اور بنیادی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ انسان کی فطرت میں ہی آزاد رہنے اور زمین پر سکون اور خود مختاری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہش بہت شدت سے رکھ دی گئی ہے جس کی وجہ انسان کی اولین خواہش

ہوتی ہے کہ اپنے انفرادی امور میں بالخصوص اور اجتماعی امور میں بالعموم آزاد رہے اور اس کی آزادی ہر قسم کی خطرات سے پاک ہو۔ آزادی کے حصول کے لیے انسانوں نے انفرادی کوششیں کی ہیں اور جاری رکھی ہوئی ہیں جبکہ انسانوں نے جب سے معاشرے تشکیل دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے تب سے اپنے گھر سے لے کر خاندان تک ‘ خاندان سے لے کر قوم قبیلے تک ‘ قبیلے سے لے کر خاص علاقے تک ‘ خاص علاقے سے لے کر خطے اورملک تک آزادی کے لیے کوشاں و سرگرم رہا ہے۔ 
آزادی کی اس کوشش میں یا اس کشمکش میں یا اس جنگ میں انسانوں نے ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جنگوں اور قبضوں کا راستہ اختیار کیاہے۔ ابتدائی زمانے میں طاقت کی بنیاد پر اپنی آزادی برقرار رکھنے اور دوسروں کی آزادیاں سلب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ ایک طبقے نے اپنی آزادی کے دفاع میں دوسرے فریق کا مقابلہ کیا جبکہ دوسرے فریق نے پہلے فریق کو اپنا غلام اور ماتحت رکھنے اور اپنی آزاد سلطنت کی توسیع کے لیے چڑھائی کی۔ اس تصادم میں جہاں ایک فریق کی آزادی سلب ہوکر غلامی میں تبدیل ہوئی وہاں باہمی مقابلہ اور قتل و غارت کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھوئے اور لاکھوں اموال کے نقصانات اور خسارے کا منہ میں بھی دیکھنا پڑا۔ آزادی کے نام پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے کو غلام بنانے اور ایک دوسرے کے علاقوں پر قابض ہونے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور شاید دنیا کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
انسانی تاریخ میں ہندوستان کی تاریخ بھی اپنے مقام پر خاص اہمیت کی حامل ہے جہاں دیگر خطوں اور علاقوں کی طرح جنگیں بھی ہوئیں قبضے بھی ہوئے۔ بیرونی مداخلتیں بھی ہوئیں۔ مذہبی اور نسلی اور خاندانی حکومتیں بھی قائم ہوئیں اور عسکری و فوجی مارشل لاء بھی لگے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں دیگر مذاہب کے مقابلے میں جنگیں لڑنا اور اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا خصوصی مقام کا حامل ہے جس طرح دیگر اقوام یا دیگر اہلِ مذہب اپنی مذہبی و معاشرتی آزادیوں کے حصول کے خواہشمند رہے ہیں اور ان آزادیوں کے تحفظ کے لیے قربانیاں دینے کے جذبات سے سرشار رہے ہیں اسی طرح اہل اسلام بھی اپنی مذہبی آزادیوں کے حصول اور معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی بسر کرنے کے لیے دیگر مذاہب کے مقابلے میں زیادہ جذبے اور ولولے کے ساتھ سرگرم رہے ہیں۔ مذہب سے یہی محبت اور عقیدت ہندوستان میں مسلمانوں کو ایک آزاد ریاست حاصل کرنے کا محرک ثابت ہوئی۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب بالخصوص ہندد مذہب کے پیروکاروں اور رہنماؤں کی خاص روش اور انگریز حکمرانوں کی طرف سے اس روش کی حوصلہ افزائی نے مسلمانوں کے اندر علیحدگی کا جذبہ پیدا کیا۔ اور مسلم قائدین کی طرف سے دیا گیا دو قومی نظریہ اس تقاضے پر سونے پہ سہاگہ کا مصداق بنا اور دو قومی نظریے کی تشکیل و ترویج کے بعد جہاں تحریک آزادی تیز ہوئی وہاں ہر قسم کی قربانی کا جذبہ بھی تیز تر ہوا جس کی وجہ سے آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے قریب پہنچا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم آزادی کا تذکرہ کرتے وقت اور آزادی کی تقریبات مناتے وقت آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں۔ آزادی کے لیے چکائی گئی قیمت کو فراموش کردیتے ہیں اور آزادی کے راستے میں بہائے گئے خون کا ذکر نظر انداز کردیتے ہیں۔ آزادی کی خوشیوں میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ شہداء کا حق بھی یاد نہیں رکھتے۔ ہماری نسلوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے آباء و اجداد نے اس خطہ ارضی کے حصول کے لیے کتنے مصائب برداشت کیے ہیں کتنے آلام سہے ہیں۔ کتنی ماؤں کے بیٹے ذبح ہوئے ہیں۔ کتنی بہنوں کے سہاگ اجڑے ہیں کتنے ضعیفوں نے اپنے جواں سال بیٹوں کی لاشیں دیکھی ہیں۔ کتنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں اور ناموس پامال ہوئی ہیں کتنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو غلام بنا کر ان سے شادیاں رچائی گئی ہیں۔ کتنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کو اغواء کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔ کتنے نونہال اور معصوم بچوں کو ماؤں کے سامنے ذبح کیا گیا ہے۔کتنی املاک پر قبضے کئے گئے ہیں۔ کتنے گھروں کو ان کے مکینوں سمیت جلایاگیا ہے۔کتنے مسلمان کھر سے بے گھر ہوئے ہیں۔ کتنے مسلمان پاکستان میں داخل ہونے کی خواہش دل میں لے کر راستے میں ہی قتل ہوگئے ہیں ۔ کتنے امیر لوگ اس وطن میں آزادی کا سانس لینے کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر غربت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کتنے عوام نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آزادی کو ممکن بنایا ہے۔ کتنے لوگوں نے اس ملک کی بنیادوں میں اپنے خون سے استحکام عطا کیا ہے۔ کتنے ہزار لوگوں نے خود کو مرحوم ‘ محکوم ‘ مظلوم اور مجروح کرکے ہمارے لیے آزادی کا راستہ صاف اور ہموار کیا ہے۔ ہمیں ان قربانیوں کو ان سے مزین واقعات کو تسلسل کے ساتھ دہرانا چاہیے بالخصوص ماہ اگست میں جب ہر طرف آزادی کا جشن اور تذکرہ ہوتا ہے تب ان قربانیوں کے ذکر کی محافل کا خاص اہتمام کیا جائے۔
آزادی کے حصول کے لیے دی جانے والی قربانیوں کے بعد یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ قتل ہونے اور خون دینے کا سلسلہ تھما نہیں۔ بلکہ آزادی کے حصول کے بعد آزادی کے دفاع کا سلسلہ مزید قربانیوں سے لبریز ہے۔ پاکستان کی دشمن قوتوں اور اسلامی وحدت و اخوت کے قاتل عناصر اب بھی پاکستان کی آزادی کو برداشت نہیں کررہے۔ سیاسی میدان میں سازشیں‘ سرحدوں کی خلاف ورزیاں اور جھڑپیں‘ خارجی معاملات میں پاکستان کو زیر کرنے کی سازشیں ‘ معاشی طور پر پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں اور داخلی طور پر پاکستان میں انتشار و افتراق جاری رکھنے کے سلسلے جاری و ساری ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں کو انہی سازشوں کے تسلسل میں قتل و غارت گری میں جھونکایا گیا ہے انہی علاقوں میں ہماری ماں دھرتی ڈیر ہ اسماعیل خان بھی شامل ہے جہاں اب تک ہزاروں لوگوں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جہاں مسلح افواج سے منسلک جوانوں نے قربانی دی ہے وہاں رینجرز اور پولیس کے جوانوں نے بھی اپنا خون پیش کیا ہے۔ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ڈیر ہ اسماعیل خان کو متعدد امتیازات حاصل ہیں ان میں دو امتیازات یہ ہیں کہ ایک تو گذشتہ بیس پچیس سال سے بلا توقف یہاں قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے دیگر علاقوں میں کبھی کبھار واقعات ہوتے ہیں اور اس کے بعد یا واقعات کا خاتمہ ہو جاتا ہے یا ایک طویل وقفہ آجاتا ہے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام کسی وقفے کے بغیر پاکستان کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دوسرا امتیاز یہ کہ زندگی کے مختلف میدانوں اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے جتنے افراد ڈیرہ اسماعیل خان میں شہید اور زخمی ہوئے ہیں اس قدر پاکستان کے دیگر علاقوں میں نہیں دیکھے گئے۔ یعنی دشمن نے ہر شعبے سے چن چن کر لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اگر داخلی اور مقامی سطح پر قربانیوں کے سلسلے کو بغور دیکھا جائے اور دقت سے غور کیا جائے اور ریکارڈ ملاحظہ کیا جائے تومجھے ایک اور بات پر بھی فخر محسوس ہوتا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دیگر مکاتب اور مسالک کی نسبت سب سے زیادہ قربانیاں اہل تشیع مکتبِ فکر نے پیش کی ہیں ۔ گاؤں گاؤں ‘ شہر شہر ‘ محلہ محلہ حتی گلی گلی میں شہداء کی قبور اور شہداء کی جائے شہادت اس بات کی گواہ ہیں کہ جس طرح اس ملک کو بنانے میں ہمارا خون اور مال صرف ہوا ہے اسی طرح اس ملک کو بچانے میں بھی ہمارا ہی مال اور خون صرف ہورہا ہے۔ 
پاکستان کے دفاع و تعمیر میں ہونے والے شہداء کا ذکر کرنے کا مقصد کسی خوف کا شکار ہونا نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کمزوری ظاہر کرنا ہے بلکہ جہاں خارجی دشمن کو باور کرانا ہے کہ وہ جتنی سازشیں کرلے جتنے منصوبے بنالے جتنے مظالم ڈھا لے جتنے ایجنٹ اور آلہ کار بنا لے ہم نہ پہلے ان سے ڈرے ہیں اور نہ مستقبل میں ان سے خوف کھائیں گے۔ وہاں ہم نے داخلی دشمن کو بھی باور کرانا ہے کہ جتنا انتشار پھیلا سکتے ہو پھیلا لو ‘ جتنے خود کش حملے کرسکتے ہو کرلو‘ جتنے دھماکے کر سکتے ہو کر لو ‘ قتل و غارت کا جتنا بازار گرم کرسکتے ہو کر لو ‘ مسلمانوں کو جتنا کافر بناسکتے ہو بنا لو ‘ مسلمانوں کے اندر جتنی فرقہ واریت پھیلا سکتے ہو پھیلا لو ‘ جوانوں کو جتنا جنونی بنا سکتے ہو بنا لو ‘ ڈالروں اور اپنے غلیظ عقائد کی خاطر پاکستانی عوام کو خون کی بھینٹ جتنا چڑھا سکتے ہو ‘ چڑھا لو ‘ جتنی ٹارگٹ کلنگ کرسکتے ہو کرلو۔ لیکن ہم تمہارے منفی عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے قربانیاں تو دیتے رہیں گے مگر اسلام اور پاکستان پر تمہارے قبضے کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ پاکستان اور اس کی آزادی کے دفاع میں سرگرم ریاست اور اس کے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کما حقہ ادا کرنی چاہیے اور پاکستان بھر میں بالعموم اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بالخصوص ایک ہی کمیونٹی کو قربانی کا بکرا بنانے کی روش اور پالیسی پر غور کرنا چاہیے صرف غور نہیں بلکہ پالیسی اور روش تبدیل کرنی چاہیے صرف تبدیل نہیں بلکہ عمل درآمد بھی کرنا چاہیے۔ ورنہ آزادی برائے نام رہے گی۔ جس ملک میں عوام غلامانہ زندگی سے بھی بدتر حالات کا شکار ہوں وہاں آزادیوں کا راگ الاپنا بے معنی ہوتا ہے ۔ یاد رکھیے عدل و انصاف اور آزادی و حریت کی لافانی مثال علی ؑ ابن ابی طالب نے فرمایا تھا ’’حکومتیں کفر سے تو چل سکتی ہیں ظلم سے نہیں ‘‘۔ آئیے یوم آزادی کے موقع پر عہد کریں کہ پاکستان کے ریاستی ادارے ‘ انتظامی ادارے ‘ حکومتی ذمہ داران ‘ عدل دینے کے ذمہ دار ادارے ‘ سیاسی و مذہبی ادارے اور عوام سب مل کر ہر قسم کے ظلم کا خاتمہ کریں گے اور ہر قسم کے عدل کا قیام کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here