العالم نے خبردی ہے کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی علما اور عوام کے اس مطالبے کو ماننے پر مجبور ہوگئی کہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کی غیر قانونی نظربندی ختم کی جائے۔
اس سے پہلے بحرین کی الوفاق پارٹی کے سیکریٹری جنرل شیخ حسین الدیہی نے اعلان کیا ہے کہ بحرینی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی غیر قانونی نظر بندی کو ختم کردے گی اور ان کی شان میں کسی بھی طرح کی گستاخی نہیں کرے ۔
بحرینی حکومت نے جون دوہزار سولہ میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی شہریت منسوخ اور ان پر مقدمہ دائر کرکے الدراز علاقے کو جہاں ان کاگھر واقع ہے محاصرہ کررکھا ہے۔
دوسری جانب آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے ملک کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں پر اپنے حملے تیز کردئے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کی گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔
آل خلیفہ حکومت کے سیکورٹی اہلکاروں نے الہملہ ، بوری، عالی، الدیر، کرباباد اور العکر علاقوں پر حملے کئے ہیں۔ بحرینی ذرائع نے بھی سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کے حملوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔
خبروں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے دمستان میں محمود حبیب جعفر نامی نوجوان کو چھرے والی گولیوں سے نشانہ بنایا ہے۔ عالمی سطح پر ان گولیوں کے ا ستعمال پر پابندی ہے۔
آل خلیفہ حکومت جھوٹے د‏عوؤں اور سیکورٹی کے ہتھکنڈوں کے بہانے ملک کے سیاسی کارکنوں کو کچلنے کا راستہ ہموار کر رہی ہے اسی لئے اب تک سیکڑوں سیاسی کارکنوں اور نوجوانوں کوگرفتار کیا ہے۔
بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے پرامن عوامی تحریک جاری ہے۔ بحرینی عوام اپنے ملک میں سیاسی اصلاحات، جمہوریت اور آزادی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here