اسلامی مقدسات کی توہین پر مبنی ہندوستانی فلم کی مذمت کرتے ہیں علمائے شیعہ پاکستان
اسلامی مقدسات کی توہین پر مبنی ہندوستانی فلم کی مذمت کرتے ہیں علمائے شیعہ پاکستان

اسلامی مقدسات کی توہین پر مبنی ہندوستانی فلم کی مذمت کرتے ہیں علمائے شیعہ پاکستان

علمائے شیعہ پاکستان کے زیر اہتمام ملت تشیع کی عظیم دینی درس گاہ جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں ایک مذمتی اجلاس منعقد ہوا جس
میں شیعہ علما کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔اس مذمتی اجلاس کا پس منظر حال ہی میں انڈیا کے ایک شہری وسیم رضوی کی جانب سے
کچھ اسلامی واقعات پر مشتمل ایک توہین آمیز فلم بنانے کا اعلان ہے۔جس میں اسلامی مقدسات کی توہین کی گئی ہے ،جو کہ نہایت
قابل مذمت عمل ہے

شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ اسی وسیم رضوی نے پہلے فلم بنا کر ہندو مسلم فساد کے ذریعے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور اب وہی مسلمانوں کو لڑانا چاہتا ہے۔استعماری قوتیں اپنے مقاصد کے لیے ایسے اقدامات کرتی ہیں۔ انہوں اس حساس مسئلے پر پروگرام کرنے پر چئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا شکریہ کا پیغام مفسرقرآن شیخ محسن علی نجفی کو پہنچایا۔

علمائے کرام نے اعلامیہ کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا:
1۔ اُمہاتُ مومنین پر بننے والی یہ فلم در حقیقت شان رسولﷺ میں گستاخی ہے جس کی مذمت کی جاتی ہے اور فلم
بنانے والے سے برات کا اعلان کیا جاتا ہے۔
2۔حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فلم کے کسی بھی حصے کے پاکستان میں نشر ہونے پر پابندی لگائی جائے ،میڈیا اور
سوشل میڈیا پر اس کے پھیلاو کو روکا جائے ،فیس بک اور یوٹیوب کی انتظامیہ سے رابطہ کر کے اس پر پابندی لگوائی جائے۔جو لوگ
اس فلم کو پھیلا کر معاشرے میں انتشار پیدا کریں انہیں مودی کی سازش کا سہولت کار سمجھا جائے۔
3۔پاکستان کے اہل ایمان مودی کی اس سازش کو اپنے اتحاد و وحدت سے ناکام بنا دیں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں جو افتراق
پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
4۔ایسے وقت میں جب پوری دنیا کی مسلم دشمن قوتیں مسلمانوں کے خلاف متحدہو چکی ہیں ہمیں ان سازشوں کو سمجھ کر انہیں ناکام
بنانا ہو گا۔
5۔جو لوگ امت میں انتشار کی کوشش کر رہے ہیں ان کا کوئی مسلک نہیں وہ فقط اور فقط مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here