اسلام آباد:ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی آفس میں علمی تحقیقی کمیشن کی طرف سے ایک اھم اجلاس ھوا جس میں موضوع بحث (پیغام پاکستان بیانیہ)تھا-جناب لیاقت بلوچ،جناب علامہ افتخار نقوی،جناب ثاقب اکبر،علامہ عارف واحدی،قاضی ظفر الحق،پروفیسر ابراھیم،آصف لقمان قاضی،میاں محمد اسلم اور دیگر ذمہ داران شریک ھوئے اور موضوع پر اظہار خیال کیا-
اس نشست میں اس کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا۔بعض حضرات نے اس حوالے سے اعتراضی نکات اٹھائے اور کہا کہ اس پر دو ھزار کے لگ بھگ علمائ کرام کےدستخط موجود ھیں مگر اب بھی بھی اس میں کافی قابل اعتراض نکات موجود ھیں ،تو علامہ عارف واحدی نے توجہ دلائی کہ علمائ کرام کے دستخط ھیں وہ فتوے اور بائیس نکاتی اعلامیہ پر ھیں باقی جو اس موضوع پر کتاب لکھی گئی ھے اس پر اگر اعتراضات ھیں تو وہ الگ مسئلہ ھے،اصل فتوٰی اور بائیس نکاتی اعلامیہ سب مسالک کے جیّد علمائ کرام کا متفقہ ھے اور اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس کی تائید کر چکی ھے ھمیں بھی اس کی
تائیدکرنی چاھئے چونکہ یہ ایک اھم دستاویز ھے کئی عشروں سے ملک میں جو امن و امان کی بگڑتی صورتحال ھےان معروضی حالات میں یہ بہترین بیانیہ ھے جس سے ملک میں امن و امان اور اتحاد و وحدت کی صورتحال بہتر ھو سکتی ھے چونکہ اس بیانیہ میں خودکش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ھے جہاد کے آغاز کا اعلان صرف اسلامی ریاست کو ھو گا کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہ ھو گا اس کے علاوہ اس میں تکفیر کو جرم قرار دیا گیا ھے جو اس سارے فتنے کی جڑ ھے ،تمام مسالک کےمقدسات کے احترام کو لازم قرار دیا گیا ھے ،تو میرے خیال میں مل یکجہتی کے قیام کے بھی بنیادی مقاصد یہی ھیں تو میری رائے یہ ھے کہ اسکی بھرپور تائید کرنی چاھئے-
علامہ عارف واحدی نے مزیدکہا کہ اس بیانیہ میں یہ واضح طور پر موجود ھے کہ اس ملک کے آئین کے مطابق قانون سازی قرآن و سنت کےمطابق ھو گی اور قانون اس حوالے سے پہلے ھی موجود ھے جو ضابطہ فوجداری کا دفعہ 295–298 ھے اس کے مطابق عمل درآمد ھو-
باقی راھنماوں نے بھی اس بیانیہ کی بھرپور تائید کی اور طے ھوا کہ بیانیہ سے ھٹ کر جو کتاب کے مندرجات ھیں ان پر بحث کےلئےالگ نشست رکھی جائے گی-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here