امتوں کے زوال کے اسباب اول مظلوم کائنات امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی نگاہ میں
امتوں کے زوال کے اسباب اول مظلوم کائنات امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی نگاہ میں

امتوں کے زوال کے اسباب اول مظلوم کائنات امیرالمومنین حضرت علی (ع) کی نگاہ میں

تحریر: ملک محمد اشرف 
ایک واضح اور بدیہی قانون ہے کہ جو کچھ کائنات میں ہوا ،ہو رہا ہے یا ہو گا وہ علل و اسباب کے تحت ہے۔ یہ اسباب و علل ہی ہیں جو کسی چیز کے وجود میں آنے کا یا اس کے فاسد و زائل ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ کسی معاشرہ، قوم یا امت کا عروج یا زوال بھی اسباب و علل کے تحت ہوا کرتا ہے۔ جب امت میں بد عملی، بد خلقی، غفلت، بے راہ روی اجتماعی طور پر گھر کر جاتی ہے تو تباہی و بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے ، تاریخ نے ایسےکئی مناظر اپنے اندر محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔امتوں کے عروج وزوال کی داستانیں قرآن مجید ، پیغمبر اکرم ص اور معصومین ع کے کلام میں جابجا موجود ہیں،جن پر فکر کرنے سے سنن الٰہی کے سنہرے اصول مل سکتے ہیں ۔چونکہ ہمارا موضوع “امتوں کے زوال کے اسباب ” نہج البلاغہ کی روشنی میں ہے اس لئے زیادہ تر امیر المومنین حضرت علی ع کے کلام مبارک کی روشنی میں ہی امتوں کے زوال کے اسباب سے بحث کریں گے۔ اگرچہ بنیادی طور پر امتوں کے زوال کے اسباب امام علی ع کے کلام میں تلاش کریں تو ایک لمبی فہرست بنتی ہے لیکن ہم اپنے مقالے کی گنجائش کو مدنظررکھتے ہوئے صرف چندبنیاد ی اسباب بیان کریں گے۔ اصل بحث میں داخل ہونے سے پہلے ضروری ہے کہ امت، زوال اور سبب کے مفاہیم کو روشن اور واضح کریں۔
۱) الہی نمایندہ کی اطاعت نہ کرنا
تاریخ میں جب بھی الہی نمایندہ چاہے وہ نبی ہو یا امام یا نبی و امام کا نمایندہ ہو ،امت یعنی انسانوں کے گروہ کی طرف سے اس کی پیروی نہ کی گئی ہو بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تکذیب بھی کی گئ ہو تو اس امت اور انسانوں کے گروہ کا زوال اور سقوط حتمی شکل اختیار کر لیا کرتا ہے۔ امت مسلمہ محمدیہ سے پہلے کی امتوں نے جب اپنے اپنے زمانے میں الہی نمایندہ اور الہی رہبر کی پیروی نہ کی تو زوال اور سقوط ان کا مقدر ٹھرا۔ امت حضرت موسی ہو یا امت حضرت عیسی یا قوم نوح ہو یا قوم ثمود عاد و لوط یا بطور مطلق بنی اسرائیل جب انہوں نے انبیاء الہی کی تکذیب کرنا شروع کی بلکہ ان کو قتل کیا تو تباہی و بربادی اور زوال و سقوط ان امتوں کا مقدر ٹھرا۔ حضرت نوح کی قوم نے جب ان کی تکذیب کی تو تب اللہ نے اس امت پر عذاب کیا ، حضرت نوح کی تمام دعوت کے باوجود یہ لوگ منکر رہے ۔ اس کا ذکر اللہ نے سورہ نوح میں یوں فرمایا ہے:
”نوح” نے کہا،پروردگارا! میں نے اپنی قوم کورات دن ( تیری طرف) دعوت دی۔۔ لیکن میری دعوت نے حق سے فرار کے علاوہ ان میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ وہ ایمان لے آئیں تاکہ توانہیں بخش دے ، توانہو ں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ٹھونس لیں، اوراپنے لباس سے چہروں کوڈھانپ لیا، اورمخالفت پراصرار کیا، اور شدّت کے ساتھ استکبار کیا۔ اس کے بعد میں نے انہیں ظا ہر بظاہر (توحید اورتیری بندگی کی طرف ) دعوت دی۔ پھر میں نے علی الا علان اور پوشیدہ طورپر بھی انہیں تیری طرف بلایا۔
امت مسلمہ کی اکثریت جو اب تک کئی مشکلات کا شکار ہے اس کی ایک بنیادی وجہ پیغمبر اسلام کے بعد حضرت علی ع کی رہبریت اور امامت سے انکار ہے ۔ کوفہ کے لوگوں کی بھی بد بختی اور گمراہی کا اصلی سبب امام ع کی اطاعت نہ کرنا ہے ۔ اس کے بعد اس گروہ کی تقدیر میں زلت و رسوائی کو ایسے ہی رکھ دیا گیا جیسے یہود کے لئے زلت و رسوائی مقدر بنی تھی۔اس سے بڑھ کر اس امت کا زوال اور بد بختی کیا ہو سکتی ہے کہ معاویہ جیسا شخص اپنے آپ کو خلیفۃ الرسول ثابت کرتا ہے اور چالیس سال اسلامی معاشرہ اور امت مسلمہ کے سیاہ و سفید کا مالک بن بیٹھتا ہے ۔ اس میں سے بیس سال پورے عالم اسلام پر اس کی حکومت ہوتی ہے اور ۲۰ سال صرف شام کا طاقتور حکمران ہوتا ہے۔ کیا الہی نمایندہ کی رہبری کو ترک کرنے کی یہ سزا نہیں ہے کہ یزید ، ابن زیاد، مروان اور مروان کے نالائق بیٹے امت مسلمہ کی تقدیر کے فیصلے کرتے ہیں۔
ایسے حالات تدریجی طور پر نمودار ہوتے ہیں جب علی ع جیسے امام حق کہ جس کے بارے میں پیغمبر نے فرمایا کہ :
عَلِيٌ‏ مَعَ‏ الْقُرْآنِ‏ وَ الْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ. عَلِيٌ‏ مَعَ‏ الْحَقِ‏ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ وَ الْحَقُّ يَدُورُ حَيْثُ مَا دَارَ عَلِيٌّ.
وہی علی امت رسول کے سامنے یہ فرماتا ہوا نظر آتا ہے:مگر اس کا کیا علاج کہ میں کل تک امرونہی کا مالک تھااور آج دوسروں کے امرو نہی پر مجھے چلنا پڑ رہا ہے۔ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں:
میں نے تمہیں جہاد کے لیے ابھار ا ، لیکن تم (اپنے گھروں سے ) نہ نکلے ۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کے لیے پکارا اور للکارا۔ لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں ۔ کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو، حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو، میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو ۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کے لیے تمہیں آمادہ کرتا ہوں، تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولاد سبا کی طرح تتر بتر ہو گئے ہو ۔
امت مسلمہ یا کوفہ کے خاص گروہ جو امام کو امام ماننے کے باوجود امام کی پیروی نہیں کر رہا تھا یہاں پر امام علی ع ان کو اولاد سبا کے ساتھ نسبت دے رہے ہیں ۔امام یا نمایندہ الہی کی رہبریت ہی سے مرکزیت باقی رہتی ہے ۔امت کے درمیان امام کا وجود چکی میں کیل کی طرح ہےکہ لوگ اس کے ارد گرد نظم و نسق کے ساتھ رہتے ہیں ان میں کوئی بھی اگر اپنی گردش سے منحرف ہو جائے تو اس کا بنیادی ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔ امام فرماتے ہیں:میں چکی کے اندر کا وہ قطب ہوں جس کے گرد چکی گھومتی ہے جب تک میں اپنی جگہ پر ٹھہرا رہوں اور اگر میں نے اپنا مقام چھوڑ دیا ، تو اس کے گھومنے کا دائرہ متزلزل ہو جائے گا۔ خدا کی قسم یہ بہت برا مشورہ ہے ۔
امام اور رہبر کی اطاعت اور پیروی امت کو گرداب حوادث میں حیران اور سرگردان ہونے سے بچاتی ہےتاکہ اپنے زمانے اور اس کے حوادث سے انسان امان میں رہیں اور ٹیڑھے راستے پر جانے سے خود کو بچا کے رکھ سکیں، اگر امت اس حیثیت کو قبول نہ کرے تو ایسے زوال کا شکار ہوتی ہے کہ اس سے نکلنا اس کے بس میں نہیں رہتا اور ہمیشہ سرگردان رہتی ہے ۔ لوگ بدیہی ترین چیزوں کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ امت موسی نے ولی خدا اور نبی خدا کی نا فرمانی کی تو کئی سال ریگستانوں میں سرگردان رہے حتی کہ ۱۹۴۸ سے پہلے تک ان کا مشخص امت ہونے کی حیثیت سے کوئی مستقل محل نہیں تھا۔ امام ع فرماتے ہیں:
تم بنی اسرائیل کی طرح صحرائے تیہ میں بھٹک گئے اور اپنی جان کی قسم میرے بعدتمہاری سرگردانی و پریشانی کئی گنا بڑھ جائے گی۔ کیونکہ تم نے حق کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قریبیوں سے قطع تعلق کر لیا اور دور والوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے ۔ یقین رکھو کہ اگر تم دعوت دینے والے کی پیروی کرتے تو وہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے راستہ پر لے چلتا اور تم بے راہ روی کی زحمتوں سے بچ جاتے اور اپنی گردنوں سے بھاری بوجھ اتار پھینکتے۔
حضرت علی کی رہبری کا انکار کرنے سے اور پھر خصوصا کوفہ کے لوگوں کا امام ع کی اطاعت کما حقہ نہ کرنے سے جو انسانیت کو اور خصوصا امت مسلمہ کو نقصان ہوا آج بھی اس نقصان کو احساس کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جنگ جمل، جنگ صفین اور واقعہ کربلا، بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں مظالم اور قتل و کشتار کا صحیح تجزیہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ اب تک امت مسلمہ کی زبون حالی جو ہے اور روز بروز غیروں کی غلامی اور الہی قوانین کے اجراء در اصل صالح اور اسلامی اصولوں کے مطابق قیادت اور رہبری کی پیروی نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔
۲) اختلاف و تفرقه
کسی امت یا قوم و ملت کے زوال کا ایک بنیادی عنصر آپس کا اختلاف اور تفرقہ بندی ہے، اسلام میں اتحاد اور اتفاق پر بہت زور دیا گیا ہے قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے:اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔
ایک اور جگہ پر ارشاد ہے:وَ لا تَكُونُوا كَالَّذينَ تَفَرَّقُوا وَ اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ ما جاءَهُمُ الْبَيِّنات‏۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اہل حق، حق کا دفاع کرنے کے لئے آپس میں متحد نہیں ہوتے جبکہ اہل باطل، باطل کی حمایت میں آپس میں ایک ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ درد ہے جسے امام ع یوں بیان کرتے ہیں:تعجب ہے تعجب ہے! خدا کی قسم دل بیٹھا جاتا ہے اور غم میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے  یہ دیکھتے ہوئے کہ وہ باطل پر رہ کر متحد ہیں اور تم حق پر ہوکر بھی الگ الگ ہو۔
بسر یمن پر چھا گیا ہے ۔ بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ وہ (مرکز) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز ) حق سے پراگندہ و منتشر۔ تم امرِ حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں ۔ وہ اپنے ساتھی (معاویہ ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے ۔ وہ اپنے شہروں میں امن بحال رکھتے ہیں اور تم شورشیں برپا کرتے ہو میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔
جب تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو امام ع کے اس فرمان کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قوموں کے زوال و تنزلی اور بد حالی کے تقدم وتخلف میں آپسی اختلاف و انتشار اور تفرقہ بازی اور باہمی نفرت و عداوت کلیدی رول ادا کرتے ہیں، چاہے کوئی ملت اور قوم حق پر ہی کیوں نہ ہو اگر اس میں تفرقہ بازی ہے تو اس کے نصیب میں زوال ہو گا اور اگر باطل پر ہے لیکن متحد ہے تو ظاہری فتح اس کے حصہ میں آئے گی۔ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اقوام و ملل کے اندر جب تک اتحاد و اتفاق پایا جاتا رہا تب تک وہ فتح ونصرت اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے رہے اور جیسے ہی انہوں نے اتحاد و اتفاق کے دامن کو چھوڑ کر اختلاف و انتشار پھیلانا شروع کیا تو ان کو سخت ترین ہزیمت و شکست اور ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا نیز ساتھ ہی ساتھ اتحاد و اتفاق اور اجمتاعیت کے فقدان کی وجہ سے ان قوموں کا نام صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ اس بات کی طرف امام ع یوں متوجہ فرماتے ہیں:
غور کرو !کہ جب ان کی جمعیتیں یک جا ،خیالات یکسو اور دل یکساں تھے او ران کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور تلواریں ایک دوسرے کی معین و مددگار تھیں اور ان کی بصیرتیں تیز اور ارادے متحد تھے ،تو اس وقت ان کا کیا عالم تھا ،کیا وہ اطراف زمین میں فرمانروا اور دنیا والوں کی گردنوں پر حکمرا ن نہ تھے؟اور تصویر کا یہ رخ بھی دیکھو !جب ان میں پھوٹ پڑگئی ۔یکجہتی درہم برہم ہو گئی ۔ان کی باتوں اور دلوں میں اختلافات کے شاخسانے پھوٹ نکلے ،او ر وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے اور الگ جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے تو ان کی نوبت یہ ہوگئی کہ اللہ نے ان سے عزت و بزرگی کا پیراہن اتار لیا اور نعمتوں کی آسائش ان سے چھین لیں اور تمہارے درمیان ان کے واقعات کی حکایتیں عبر ت بن کر رہ گئیں ۔
اسماعیل کی اولاد اسحاق کے فرزندوں اوریعقوب کے بیٹوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو ۔حالات کتنے ملتے ہوئے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں ۔ان کے منتشر و پراگند ہ ہو جانے کی صورت میں جو واقعات رو نما ہو ئے ،ان میں فکر و تعامل کرو کہ جب شاہا ن عجم اور سلاطین روم پر حکمران تھے وہ انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوںسے خار دار جھاڑیوں ہواؤں کے بے روگ گزر گاہوں اور معیشت کی دشواریوں کی طرف دھکیل دیتے تھے اور آخر کار انہیں فقیرو نادار او رزخمی پیٹھ والے اونٹوںکا چرواہا اور بالوں کی جھونپڑیوں کا با شند ہ بنا چھوڑتے تھے ۔ان کے گھر بار دنیا جہاں سے بڑھ کر خستہ و خراب اور ان کے ٹھکانے خشک سالیو ں سے تباہ حال تھے ،نہ ان کی کوئی آواز تھی جس کے پرو بال کا سہارا لیں ،نہ انس و محبت کی چھاؤں تھی جس کے بل بوتے پر بھروسا کریں ۔ان کے حالات پراگندہ ہاتھ الگ الگ تھے کثرت و جمعیت بٹی ہوئی ، جانگدار مصیبتوں اورجہالت کی تہ بہ تہ تہوں میں پڑے ہو ئے تھے یوں کہ لڑکیا ں زندہ درگور تھیں (گھر گھر مورتی پوجا ہوتی تھی)رشتے ناتے توڑے جا چکے تھے اورلوٹ کھسوٹ کی گر م با زاری تھی ۔
آج امت مسلمہ کے افراد ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ ہیں مگر آپس کے تفرقہ و اختلاف کی وجہ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ بے جان مٹی کا ڈھیرہیں البتہ مٹی میں بھی اگر جان ہوتو بڑے بڑے تن آور شجر پیدا کر کے سائباں تو مہیا کرتی ہے ، مگر اب پوری ملت اسلامیہ کے وجود کی مٹی شاید اس سے بھی گئی گزری ہے ۔ہمارے حکمر ان اسلام اور کمالات کی جانب جانے اور ملتوں و امتوں کو لیکر جانے سے بے حسی کی چادر اوڑھ چکے ہیں۔ ان کی مذہبی حمیت اور غیرت ِدینی دم توڑ چکی ہے ، انہیں دین و ملت کے ساتھ ہونے والی کسی بھی اونچ نیچ پر کوئی دکھ و صدمہ نہیں پہنچتا۔
امت مسلمہ کے سرکردہ ممالک امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اتحاد کر رہے ہیں اور کئے ہوئے ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ٹرمپ سعودیہ عرب کو اہمیت دے کر ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور خود ٹرمپ یہودیوں کا آلہ کار ہے۔ یہود و نصاری امت مسلمہ کے لئے کبھی بھی مفید ثابت نہیں ہوئے لیکن ہمارےسرکردہ افراد ان کے غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ہمارےا ٓپس کے تفرقہ اور اختلاف کا نتیجہ ہے۔ آج استعمار کی بلند مدت پالیسیوں اور اسٹریٹجیک کی بنیاد پر کس کے وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں؟ آج دنیا میں چار سُو کس کی نسل کشی کی جا رہی ہے؟ آج ہر سو جلی نعشیں، بکھرے لاشے، کٹے اعضاء، بین کرتی مائیں، سسکتی بہنیں، اجڑے سہاگ، بلکتے بے سہارا بچے کس ملت اور امت سے وابستہ ہیں؟ آج دنیا میں کونسی قوم ظلم و جبر کی چکی میں پس رہی ہے؟ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا؟ کیا یہ سب کچھ دیکھ کے کبھی کسی کا خون کھولا؟ کب بیدار ہو گی یہ سوئی بے جان ملت؟ کب کھولیں گی اس مردہ بے ضمیر امت کی آنکھیں؟ البتہ یہ سب کچھ سزا جو مل رہی ہے اس کی ایک بنیادی وجہ امت مسلمہ کے آپس کے اختلافات اور تفرقہ بازی و ایک مرکزیت کا نہ ہونا ہے۔امت مسلمہ کی بطور عموم اور پاکستان کی ملت تشیع کے اندر مختلف قسم کے جاہل، خود غرض اور دین کی ابجد سے بھی ناواقف افراد ملت کو دن بدن تقسیم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here