امریکی پابندیوں سے تہران کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی، محمد جواد ظریف
امریکی پابندیوں سے تہران کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی، محمد جواد ظریف

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتے کو دوحہ بین الاقوامی اجلاس سے اپنے خطاب میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے مذاکرات کی کوئی وجہ نہیں پائی جاتی، کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، بارہ شرطیں لگانے والے ملک کے ساتھ ہرگز کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔

انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ امریکی پابندیوں سے تہران کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی اور ایران اپنے تیل کی فروخت اور عالمی برادری کے ساتھ مفاہمت کا عمل جاری رہے گا اور شکست اسی ملک کو ہو گی جس نے ایران کے ساتھ مفاہمت کا راستہ ترک کر دیا۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ ایسی حالت میں ایران پر علاقے کے امور میں مداخلت کا الزام عائد کر رہا ہے کہ خود مغربی ایشیا میں مداخلت کر کے بحران کا باعث بنا ہوا ہے۔

محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران نے صرف ان ہی ممالک میں اپنے فوجی مشیر روانہ کئے کہ جنھوں نے ایران سے باضابطہ طور پر اس سلسلے میں درخواست کی اور اسلامی جمہوریہ ایران شام سے صرف اسی صورت میں واپس آئے گا جب اس ملک کی حکومت سرکاری طور پر ایران سے درخواست کرے گی۔

انھوں نے ایران کی جانب سے یمن کو اسلحہ ارسال کئے جانے کے دعوے کی بھی سختی کے ساتھ تردید کی اور تاکید کے ساتھ کہا کہ یمنی عوام ان ہتھیاروں سے استفادہ کر رہے ہیں جو یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دور میں یمن نے سعودی عرب سے حاصل کئے تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے امریکہ اور برطانیہ سے ہتھیار درآمد کر کے غریب اسلامی و عرب ملک یمن کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے ، یمن پر سعودی اتحاد کی جارحیت میں اب تک دسیوں ہزار عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

انھوں نے یمن کے امن مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بحران یمن کے بارے میں سوئیڈن معاہدے سے یمنی عوام کے مسائل و مشکلات اور رنچ و آلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here