• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

انبیائے کرام کے مزارت کو شہید کرکے امہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی سازش کی جارہی ہے،امہ کے دانشور، اکابر علماءاور محققین کو مسئلہ کے تدارک کےلئے لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا

جعفریہ پریس –قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے عراق میں انبیائے کرام کے مزارت کو نشانہ بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ایک تخریبی مائنڈ سیٹ کی ہیں جو امت مسلمہ میں افتراق و انتشار اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں، امت مسلمہ کے دانشور ، علماء بیٹھ کر اور باہمی مشاورت سے ان سانحات کے تدار ک کےلئے لائحہ عمل طے کریں ۔
اتوار کو اپنے مذمتی بیان میں قائد ملت جعفریہ پاکستان نے عراق میں انبیائے کرام حضرت یونس علیہ السلام اور حضرت شیث علیہ السلام کے مزارات کو ایک تکفیری گروہ کی جانب سے نشانہ بنانے پر تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب اس قسم کی چیزیں کرکے مسلمانوںکی نظریاتی اور عقیدتی وابستگی کو کمزور کرنے کی ناکام سعی کی جا رہی ہے تو دوسری جانب سادہ لوح مسلمانوں میں فکری و ایمانی کمزوری پیدا کرنے کی قبیح حرکت کرنے کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کئی لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام امن و آشتی اور روداری کا درس دیتا ہے اور تمام انبیائے کرام و مقدسات کے احترام و تقدیس کی جانب رغبت دلاتا ہے ایسی کارروائیاں کرنیوالوں کا امن و روداری کے مذہب سے دور کا بھی واسطہ نہیں البتہ اس سلسلے میں اب امت مسلمہ کے اکابرعلمائے کرام ، دانشور حضرات اورمحققین پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھیں اور اس مسئلے کے حل اور اس طرح کی قبیح حرکتوں کے تدارک کےلئے ٹھوس لائحہ عمل و اقدامات اٹھائیں ۔