جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ انتہاء پسند لشکروں اور قاتلوں کو شیلٹر فراہم کرنے کی بجائے انہیں قانونی کٹہرے میں لایا جائے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، افسوس دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں مگر ذمہ داروں کی جانب سے مجرمانہ چپ سادھ لی گئی ہے، مخصوص سوچ کو ترک نہ کیاگیا ، انتہاء پسندوں کو چور دروازے سے نوازنے کی پالیسی ترک نہ کی گئی اور موجودہ صورتحال پر سنجیدگی سے غور نہ کیاگیا تو ملک میں انارکی و افراتفری پھیل سکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حسن ابدال میں ایک ڈاکٹر ، ہنگو شہر میں 2 مختلف مکاتب فکر کے اساتذہ کی شہادت اور مانسہرہ میں مسجد کو بم دھماکے سے اڑانے کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا۔ قائد ملت جعفریہ نے کہاکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک جانب انسانیت سوز مظالم جہاں کھلی لاقانونیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور وہیں دوسری جانب مذہب کے نام پر یہ قبیح کاروبارکرکے مذہب کی رسوائی و بدنامی کا باعث بنا جارہاہے۔ اس طرح کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور واضح ہورہاہے کہ انتہاء پسند و دہشت گرد لشکروں کو شیلٹر فراہم کیا جارہاہے، دہشت گرد سرعام دندناتے پھر رہے ہیں اورآئے روز ایسے واقعات رونماہورہے ہیں مگر حقائق سے آج تک آگاہ نہیں کیاگیا ایسا لگتاہے کہ حیلے بہانے تراش کر انہیں چھپایا جارہاہے یاپھر شیلٹر فراہم کرکے اکاموڈیٹ کئے جانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایسے حالات میں مجرموں کو قانونی کٹہرے میں لانے کی بجائے کھلی چھٹی دینے سے امن وامان کی صورتحال مزید خراب ہونے کا احتمال ہے اور ذمہ داروں کی مخصوص انداز کی سوچ سے ملک میں افراتفری پھیل سکتی ہے اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو پھر حالات کنٹرول سے باہر اور ملکی داخلی سلامتی کیلئے خطرات لاحق ہوجائینگے ۔
قبل ازیں حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مذکورہ بالا واقعات میں شہید ہونیوالے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہاکہ مشکل کی اس گھڑی میں مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here