باسمہ تعالی

تین شعبان امام حسین(ع) کی ولادت  کا دن

کیا معلوم ہے  تین  شعبان کونسا دن ہے ؟ اس دن  کس کی ولادت  ہوئی ہے ؟   تین شعبان سید الانبیاءحضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے، سید الاولیاءحضرت علی  (ع)کے بیٹے، سید ۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ (ع) کے لخت جگر  اور جوانان جنت کے سردار مولا امام حسن  (ع)کے بھائی  حضرت امام حسین (ع)کی ولادت با سعادت کا دن ہے۔ اسی  مناسبت سے امام حسین (ع)

کے تمام ماننے والے اہل اسلام کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔

عظمت امام  حسین (ع)

امام حسین (ع)کی ذات گرامی  کمال  کی اس معراج کا نام ہے  کہ جو  ہر متلاشی حق کے لئے ہدایت کا چراغ اور کشتی نجا ت ہے ۔جو ہر حال میں امام ہے  بیٹھا ہو تب بھی امام ہے  کھڑا ہو تو اس حالت میں بھی امام ہے یعنی سراپا ہدایت ہے ، کسی کے ساتھ صلح کرے  تو اس حالت میں بھی امام ہے اور کسی کے ساتھ جنگ کرے  تب  بھی امام ہے۔امام حسین (ع)  کا خداوند کی ذات پر بھروسہ  اور رسول اللہ کی سیرت طیبہ پر عمل کرنا ایسا عمل ہے کہ جس کی وجہ سے آج دین بھی زندہ ہے اور حسین (ع)بھی زندہ ہےیہی وجہ ہے کہ  سید الانبیا نے  فرمایا کہ  حسین منی و انا من حسین ، حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

لا یبایع مثلہ

امام حسین (ع)نے سخت سے سخت حالات میں بھی  دین خدا  کی پاسداری کی ہے، اپنا، اپنے نانا اور بابا کا امت کو تعارف کروایا ہے  ۔ جس طرح  خود ختمی مرتبت (ص)نے  کئی مقامات پر امام حسین(ع) کا تعارف کروایا ہے  امام حسین (ع)نے بھی لوگوں کو  انتہائی مہم مقامات پر اور مہم حالات میں بتایا ہے کہ  میں  کون ہوں ؟   میں کس کا فرزند ہوں؟   میرا بابا کون ہے؟ میری ماں کون ہے ؟ اور میں کس کا نواسہ ہوں ؟ میں خاندان تطہیر سے ہوں ، میری  ہستی  اور میری رگوں میں  خاتون جنت کا خون ہے تو  پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلی لا یبایع مثلہ ،  میرے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ۔

امام حسین (ع) اور ہم

کیا آج اپنے مولا امام حسین(ع)کی ولادت با سعادت  کے دن   ان  کا ماننے والے ہر مسلمان  کو ، ہر مومن  کو، دنیا کے اندر موجود  مادیت  پرستی ، لوٹ مار، کرپشن،  دہشت گردی ، ظلم ، بی دینی ، استعمار کی غلامی،  بی ہویتی  ، فقر، گدائی، ذلت و  خواری   اور اس طرح کی تمام  پستیوں  اور ان پستیوں میں   غرق افرا د کے سامنے،  کیا ببانگ دہل  نہیں کہنا چاہئے کہ ۔۔۔ مثلی لا یبایع مثلہ ؟  میں حسینی ہوں، میں علوی ہوں، میں محمدی ہوں، میں نمازی ہوں و ۔۔۔۔

ذکر   امام حسین (ع)و ذکر حضرت یوسف  (ع)

امام حسیں (ع) اس  ہستی کا نام ہے کہ جس کا ذکر کرنا بھی  ثواب، ذکر کو سننا بھی ثواب  اور ،ذکر کروانا بھی ثواب ہے ۔یا حسین  یا حسین کرنا ، اپنے قلب   و وجود  و ہستی میں   سیرت حسین کو لیکر آنا  ، وہ وسیلہ   اور کشتی نجات ہے کہ  جو بہت  ہی جلد انسان کو  تقرب خدا عطا کرتی ہے۔ ذکر حسین کی حکمت اور فلسفہ کو  سمجھنے کے لئے ہمیں سنت رسول  اور قرآن مجید  کی تعلیمات کو دیکھنا اور مطالعہ کرنا ہو گا ۔سنی عالم دین  ڈاکٹر   طاہر القادری کہتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب کے یوسف ہیں، جبکہ  امام حسین (ع)،  حضرت  محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوسف ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت یعقوب کے یوسف کا ذکر اتنا زیادہ کرے جبکہ امت  مسلمہ تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوسف کا ذکر کرنے سے کترائے اور گھبرائے تو ایسے تعلقِ غلامی کے دعویٰ پر لعنت ہے۔ اللہ  تعالی نے قرآن مجید میں حضرت یوسف کا ذکر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے  اگر دقت کریں تو معلوم ہو گا  کہ  حضرت یوسف کے مندرجہ  ذیل  واقعات بیان ہوئے ہیں:

1.حضرت یوسف علیہ السلام کی خواب کا ذکر    ۲۔ بھائیوں کے شکار کرنے کا ذکر ۳۔ باپ کے ڈر اور خدشہ کا ذکر کہ بھیڑیا کھا جائے گا

4.جھوٹا خون لگانے کا ذکر  ۵۔ مصر میں بیچ دینے کا ذکر  ۶۔بھائیوں کے ناروا سلوک کا ذکر۷۔ اپ سے جو گفتگو ہوتی ہے، ان کلمات کا ذکر

8.جنگل میں بے آباد کنویں میں گرانے کا ذکر  ۹۔ قافلے کے آنے کا ذکر  ۱۰۔کنویں سے نکالے جانے کا ذکر  ۱۱۔ آپ کے جوان ہونے تک کا ذکر

۱۲۔ عزیز مصر کی بیوی کے آپ پر فریفۃ ہونے کا ذکر ۱۳۔ اس کے مطالبہ پر آپ کے بچ کر چلے جانے کا ذکر ۱۴۔قید کا  ذکر ۱۵۔ خواب کی تعبیر بتانے کا ذکر

 

سوال یہ ہے کہ ان تمام تفصیلات سے احکام شریعت اور حلال و حرام کے کون سے احکام اخذ ہوتے ہیں۔۔۔؟ کیا ان سے نماز، روزہ، حج زکوٰۃ کی تعلیمات میسر آتی ہیں۔۔۔؟ انگلیاں کٹنے کے واقعے سے شریعت کے کتنے حلال و حرام، فرائض واجبات اور سنتیں معلوم ہوتی ہیں؟دراصل ان واقعات  میں مذکور جزئیات سے حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر، طہارت، استقامت، عظمت، شان اور مضبوطی کردار اور  اللہ کی ذات پر مکمل   اعتقاد اور یقین  کا پتہ چلتا ہے۔  حضرت یوسف  نے ایک کافر اور بت  پرست معاشرہ کو   الہی اور توحیدی معاشرہ بنا یا  تو امام حسین نے اس  وقت کے طاغوتی معاشرہ  اور الہی  اقدار سے منحرف  معاشرہ    کہ جس میں  حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کیا جا رہا تھا  قیام کیا اور اسلام  حقیقی کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔

ذکر امام حسین (ع) کو روکنے کی  یزیدی و  استعماری  کوششیں اور ان کا مقابلہ

آج  دنیا کے اندر جتنی  اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں وہ اپنے لئے الگو اور نمونہ  مولا امام حسین کو قرار دیتی ہیں ۔ اسی بنیاد پر طاغوت اور استعمار کی  پوری کوشش اس بات پر ہے کہ ذکر حسین کو روکا جائے ۔ امام خمینی  رہ نے دشمن کی ان تمام ساشوں کو  سمجھتے ہوئے اس کے تمام حربوں کو ناکام بنانے کے لئے  انقلاب اسلامی  کے لئے قیام امام حسین کے کئی ابعاد کو روشن اور واضح کیا اور اپنی تمام  محنت و کو شش میں روشنی کا منار امام حسین کو قراردیا۔ اس دور کے اندر  مقام  معظم رہبری عالمی طور پر  دشمن کی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے  امام حسین  کی تعلیمات اور خصوصا اربعین حسینی کو  اسلام اور شیعہ کی  ایک بہت بڑی طاقت کے طور پر اظہار فرماتے ہیں۔

پاکستان  میں ذکر امام حسین (ع) کو عام کرنے میں  قائد ملت   علامہ ساجد نقوی  زید عزہکی کوششیں

پاکستان کے اندر ذکر  امام حسین کو روکنے یا اسے اس کے اصلی  راہ سے ہٹانے کی  خاطر دشمنان آل محمد کی طرف سے بہت زیادہ  کوششیں کی گئی ہیں  اس پر دشمن نے کافی مقدار میں  ڈالر خرچ کئے ہیں   اور سینکڑوں کی تعداد میں مومنین کو شہید کیا ہے ۔ ان   سخت سے سخت  حالات میں دشمن کی تمام کوششوں کو  وہاں کے بزرگ علماء نے اور خصوصا  نمایندہ ولی فقیہ  قائد ملت جعفریہ  آیت اللہ  سید ساجد علی نقوی  زید عزہ نے  اپنی بصیرت سے  ناکام بنایا ہے۔ قائد  محترم اپنی کئی تقاریر میں فرما چکے ہیں  کہ  ذکر امام حسین (ع) ہمارا بنیادی حق ہے اور اس کے  دفاع کے للئے ہم  ہر  قربانی دیں گے ۔ مومنین کو حکم فرماتے ہیں کہ جس کا جی چاہے  جہاں چاہے جب چاہے مجلس امام حسین اور ذکر امام حسین کروائے۔ اس ذکر کو جتنا زیادہ سے زیادہ کیا جائے اتنا ہی کم ہے۔ اللہ تعالی پاکستان میں  بحق امام  حسین  تمام مسلمین ، بزرگ علما اور خصوصا قائد ملت کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

گھر  میں ولادت اور خوشی کی کیفیات

اس دنیا میں آنے والا ہر بچہ ہدیہ آسمانی ہے، خدا کی خلقت کا شاہکار اور معجزہ ہوا کرتا ہے۔ ہر انسان ایک معصوم بچہ کو دیکھ کر اپنے دل اور وجود میں خوشی محسوس کرتا ہے۔  جس گھر میں  ، جس باپ کے سامنے اس کے ہاتھوں پر یہ معجزہ خداوندی ہو، جس ماں کی آغوش میں یہ ہدیہ  آسمانی  آئے ، ان کی خوشی ، ان کی مسرت ، ان کی لذت کا حال   میں کیا بتاوں، میں تو ابھی  اس تجربہ سے ۔۔۔۔۔۔ یہ خوشی، یہ مسرت، یہ لذت  وہی بتا سکتا ہے، وہی درک کر سکتا ہے   جو اس تجربہ سے گزرا ہو  کہ اس ہدیہ آسمانی و الہی  کے  ماں کی گود میں آنے کے بعد ماں کے دل کی کیا کیفیات ہوتی ہیں،  ماں کی خوشیوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے  سمندر کی طرح دل کی گہرائیوں میں خوشیوں کا کیا جوبن ہوتا ہے۔ باپ کے پورے وجود میں کیا ہی اطمینان اور سکون آجاتا ہے، روحی ، نفسیاتی اور معنوی حالات میں تبدیلیوں  کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گھر کے در و دیوار سے نعمات خداوندی کی معطر خوشبوئیں  گھر کے ماحول کو معطر کر دیتی ہیں۔ رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوتیں شروع ہوتی ہیں، ہر کوئی ان کی خوشی میں خوش ہوتا ہے۔ اگر یہ دنیا پر آنے والا کوئی عام بچہ نہ ہو اور عام گھر میں بھی نہ آئے  امام حسین(ع) ہوں اور اہلبیت (ع) کے گھر آئے تو  آپ خود اندازہ لگائیں کہ  کیا سماں ہو گا۔

آو سب مل کر  در اہلبیت (ع) سے  مولا کی ولادت  کی عیدی لیں

جو صاحبان اب تک  میری   اس تحریر میں میرے ساتھ ہیں تو ان  سب کی خدمت میں گزارش ہے کہ آو سب مل کر عالم  خیال میں مدینہ النبی چلتے ہیں، دروازہ   سیدالاولیاء پر، دروازہ  سیدۃ  النساء پر، دروازہ  سیدالانبیاءپر ، دروازہ جوانان جنت کے سردار پر اور وہاں تین شعبان  چار ہجری  کو  کیا مناظر ہیں؟   اب آپ ہیں  اور یہ  اللہ کی  مصطفی، مرتضی،  مجتبی ہستیاں کہ جن میں مولا حسین  کی ظاہری زندگی کا پہلا دن ہے لیکن آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو چکا ہے  عالم میں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔  اس مولود با برکت سے  اللہ کی رحمت کے دروازے کھل چکے ہیں، رحمت للعالمین اپنی طرف سے،اور خاتون جنت کی طرف سے  اللہ کے حکم سے استقبال فرما رہے ہیں، لوگوں کو سیراب کر رہے ہیں اللہ کے فرشتے حسین(ع) کی خوشی میں حسین (ع) کے ماننے والوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔

اب یہاں پر کچھ باتیں آپ   ان ذوات مقدسہ سے کریں لیکن خود کریں۔۔۔۔۔ البتہ عیدی لینا نہ بھولنا

کچھ باتیں میں نے کرنی ہیں ۔۔۔۔مولا۔۔۔۔مولا ۔۔۔۔مولا۔۔۔مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولا اور باتیں تو آپ سے کر لی ہیں  یقینا آپ لطف فرمائیں  گے لیکن  میری اس سال کی عیدی اگر مصلحت سمجھیں تو یہ ہے کہ  مجھے بھی اور جس  جس کی اولاد نہیں  یا اولاد نرینہ نہیں ہے  انہیں  اپنے مقام خاصہ کے زریعہ اللہ  تعالی سے اولاد دلوا دیجئے۔ بارگاہ رب العزت  میں دعا ہے کہ اللہ تعالی امام حسین  (ع) کے صدقہ میں مومنین کی مشکلات اور پریشانیوں کو ختم فرمائے۔ آمین

 

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here