• اسلامی تحریک پاکستان صوبہ سندھ کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا
  • عزاداری مذہبی و شہری آزادیوں کا مسئلہ، قدغن قبول نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ

تازه خبریں

اوآئی سی کانفرنس انعقاد خوش آئند، اسلامی ممالک کے مسائل کے حل کےلئے متفقہ حکمت عملی اپنائیں ، ساجد نقوی

اوآئی سی کانفرنس انعقاد خوش آئند، اسلامی ممالک کے مسائل کے حل کےلئے متفقہ حکمت عملی اپنائیں ، ساجد نقوی

اوآئی سی کانفرنس انعقاد خوش آئند، اسلامی ممالک مسائل کے حل کےلئے متفقہ حکمت عملی اپنائیں ، ساجد نقوی
جب تک ظالم کا ظلم اور مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ، یوم یکجہتی صرف دن تک محدود،قائد ملت جعفریہ پاکستان

راولپنڈی /اسلام آباد20 دسمبر2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان)قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مسئلہ افغانستان کےلئے او آئی سی ممالک کا مل بیٹھنا خوش آئند ، خطے میں امن و استحکام کےلئے پرامن افغانستان لازم ہے، اسلامی دنیا جب تک اپنے مسائل کےلئے متفقہ حکمت عملی نہیں اپنائے گی اس وقت دنیا متوجہ نہیں ہوگی، انسانی ترقی کےلئے یکجہتی لازم اصول مگر اقوام متحدہ صرف دن مختص نہ کرے عالمی یوم یکجہتی پر مظلوم کشمیریوں، فلسطینیوں کے حق میں اپنی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کےلئے جرات مندانہ اقدام بھی اٹھائے، جب تک ظالم کا ظلم اور مظلوم کو انصاف نہیں ملتا ،عالمی یوم یکجہتی صرف دن تک ہی محدود رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کے 17ویں غیر معمولی وزرائے خارجہ اجلاس اور علمی یوم یکجہتی پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علام سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ اسلامی ممالک سمیت اقوام متحدہ اور اہم ملکوں کے وزرائے خارجہ، نمائندگان اور مبصرین کی پاکستان کی میزبانی میں افغانستان کےلئے ہونیوالی کانفرنس میں شرکت اور متفقہ قرارداد خوش آئند اقدام ہے، افغانستان کا مسئلہ عالمی استعماریت کا پیدا کردہ ہے جس کے اثرات نے پاکستان سمیت پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں ایک عرصہ سے لے رکھاہے، قابض افواج کے انخلاءکے بعد افغان عوام کےلئے مشکلات مزید بڑھی ہیں اور بے چینی و اضطراب کی کیفیت ہے اگر افغانستان کے استحکام کےلئے ایسے ہی مزید سنجیدہ اقدامات اٹھائے گئے تو نہ صرف افغانستان بلکہ خطہ میں بھی استحکام آئے گا اس کےلئے ضروری ہے کہ اقوام عالم خصوصاً اسلامی دنیا مسئلہ افغانستان کےلئے تیز ترین اقدامات اٹھائے ۔ انہوںنے مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا ایک ہال میں اکٹھے ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ جب تک اسلامی ممالک اپنے مسائل کے حل کےلئے متفقہ حکمت عملی نہیں اپنائینگے نہ صرف دنیا کی توجہ سے محروم رہیں گے بلکہ ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ مشکل ترین ہوگا، مسئلہ افغانستان کےسا تھ ساتھ مسئلہ کشمیر و فلسطین بھی اسلامی دنیا کے سب سے اہم ترین مسائل ہیں، مسئلہ افغانستان کے لیے اقدامات کے ساتھ ان مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہےں ۔انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی یوم یکجہتی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ اقوام متحدہ جسے دنیا کی رہنمائی کرنا تھی، جسے مظلوم کاساتھ اور ظالم کا ہاتھ روکنا تھا مگر افسوس یہ عالمی فورم صرف بیانات اور مختلف ایام کے مختص کرنے تک رہ گیاہے، اقوام متحدہ کو کم از کم اس عالمی یوم یکجہتی کی نسبت سے مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق میں اپنی منظور کردہ قراردادوں کےلئے ہی جرات مندانہ اقدام اٹھانا چاہیے ۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عالمی یوم یکجہتی پر مظلوم کشمیریوں ، فلسطینیوں اور تمام مظلوم طبقات کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے اپنے عزم کو بھی دہرایا