انسانیت  کے کمال کا دشمن  شیطاں

تحریر : محمد اشرف ملک

بعض لوگ اپنی ذات کو  جہالت اور ظلم کی بنیاد پر اتنا خراب کر تے ہیں کہ یہ فساد اور  خرابی ان کے وجود کا حصہ بن چکی ہوتی ہے ان کی بولنے میں یعنی ان کی زبان میں فساد پایا جاتا ہے، ان کی آنکھوں میں فساد پایا جاتا ہے، ان کا چلنا ،حرکت کرنا، سوچنا، لکھنا، تقریر کرنا شیطانی اہداف کےلئے ہوا کرتا ہے۔ ان کے پاس جتنے وسائل ہوں، جتنی دولت ہو ، جتنی استعداد ہو ان سب کو ظلم اور شیطان کی راہ میں استعمال کرتے ہیں۔

شیطان دوسرے افراد کے توسط سے ایسے  انسان کے ذہن میں اپنی طرف متوجہ کرنے کا وسوسہ ڈالتا ہے، فوسوس الیہ۔ جب انسان اس کی طرف متوجہ ہو تا ہے تو شیطان آکر ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا شروع کرتا ہے مسہم طائف من الشیطن، اس کے بعد شیطان انسان کے باطن پر قبضہ کرتا ہے، یوسوس فی صدورالناس اب یہ شخص ایسا ہے کہ شیطان اس کا دوست بن چکا ہے یہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ فہو لہ قرین۔ اس سے بات آگے چلتی ہے تو یہ کسی بڑی شیطانی ٹیم کا، گروہ کا، جماعت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور وہ جماعت کوئی اہل علم کی جماعت نہیں ہوتی، بزرگ اور مخلص علماء اور اہل تدین افراد پر بھی مشتمل نہیں ہوتی بلکہ یہ گروہ حزب الشیطن ہوتا ہے۔ اس سے آگے بات چلتی ہے تو  یہ شخص  شیطانی طاقتوں کے بارے میں اپنے دل کے اندر نرم گوشے رکھ کر  اخوان الشیاطین کے زمرے میں آتا ہے اور  راہ حق کو چھوڑ کر  جب اتنا گمراہ ہو چکا ہوتا ہے تو   یہ اپنا گروہ بناتا ہے۔ چھوٹے شیطان اس کی چھتری میں آتے ہیں اور   سب شیطانی ایجنٹ  بن کر  اولیاء الشیطان کا مصداق بن جاتے ہیں۔ آگے منزلیں طے کرتے ہوئے  ایسے انسان خود شیطان  بن جاتے ہیں  جن کو اللہ تعالی شیاطین الانس والجن بتاتا ہے۔

امریکہ شیطان بزرگ

آج امریکہ  ، اسرائیل اور ان کے اتحادی  نمرود یت، فرعونیت  ، یزیدیت کی مکمل تصویر بن کر  اسلامی ممالک پر  اپنا تسلط جمانے کے لئے شام پر حملہ کر کے  اپنی ابلیسیت  و شیطانیت کا  روز روشن کی طرح مظاہرہ کر چکے ہیں۔  آج سے کئی سال پہلے   ان تمام باطل  قوتوں کے  مرکز  امریکہ کو  جس ہستی نے شیطان بزرگ کا نام دیا ،وہ اپنے زمانے  کا  بت شکن    فرزند فاتح خیبر  ،  فرزند فاتح بدر و احد  و خندق   امام خمینی (رہ) ہیں۔ امام خمینی نے امت مسلمہ  کو متحد ہو کر شیطان بزرگ  اور غاصب اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی۔ لوگوں کو کیمو نیزم ، سوشلیزم، لیبرالیزم و سیکولاریزم جیسے باطل نظاموں سے نکل کر  بعثت پیغمبر   اکرم (ص)  کی  طرف متوجہ کیا اور دنیا کے سامنے اسلام ناب محمدی کے نظام کا  نقشہ  بھی پیش کیا اور اس کی بنیاد بھی رکھی۔

بعثت پیغمبر اکرم (ص) ۲۷ رجب المرجب کا دن

شیعہ کے نزدیک اس دن روز مبعث ہے یعنی وہ دن ہے کہ جس میں پیغمبر اکرم پر چالیس سال کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی آئی ہے۔اہل سنت کے نزدیک اس دن سفر معراج ہواہے۔

اہم سوال یہاں پر یہ ہے کہ اگر ۲۷ رجب شیعہ کے نزیک یوم بعثت ہے تو ان کے نزدیک واقعہ معراج کب ہے؟ اور اھل سنت کے نزدیک اگر ۲۷ رجب شب معراج ہے تو ان کے نزدیک یوم بعثت کونسا دن ہے؟ شیعہ کے نزدیک شب معراج ۱۷ ماہ مبارک رمضان یا ۲۱ رمضان المبارک ہے اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں جبکہ اہلسنت ان تاریخوں کو بعثت کی تاریخیں مانتے ہیں۔شیعہ  اور سنی ہر دو کے نزدیک رسول اکرم ایک سے زیادہ بار معراج پہ گئے ہیں۔ علامہ طباطبائی نے اسے دو بار قبول کیا ہے۔برصغیر میں شیعہ حضرات، اھلسنت کی اکثریت کی وجہ سے اس دن کی رات کو شب معراج اور دن کو روز معراج کے طور پر مناتے ہیں۔

اس وقت بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم پیغمبر اکرم (ص)کی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں، دنیا میں ایسے افراد کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں کہ جن کو اگر آنحضرت کی شخصیت کے ابعاد واضح کئے جائیں تو وہ  غیر مسلمان ہیں تو مسلمان اور اگر مسلمان ہیں تو مومن اور اگر مومن ہیں تو حقیقی مومن میں  تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے تحریر و تقریر کے زریعہ اپنی جگہ پر لیکن اس سے بھی بڑھ کر اپنی زندگیوں میں، اپنے عمل میں، اپنی سماجی، اجتماعی اور سیاسی زندگی میں پیغمبر اکرم (ص)کی سیرت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

اہداف بعثت کو قلبا  درک کرنے کی ضروت

ہم سب کو  فلسفہ بعثت، ضرورت نبوت، اہداف بعثت کو سمجھنے ، درک کرنے اور وجدانی طور پر لمس کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔  آج  اسلامی ممالک    کافی حد تک نظریاتی طور پر بھی اور عملی طور پر بھی اسی طرف اپنا رخ کرتے جا رہےہے جس طرف انہیں سیکولاریزم   کے پالیسی ساز لیکر جانا چاہتے ہیں۔ انسانی اور بشری قوانین کو الہی  قوانین پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ امت مسلمہ میں  تحقیقی اور  علمی طور پر مسائل کو حل کرنے کا مادہ کافی حد تک کم ہو چکا  ہے۔ آپس میں انتشار و افتراق بڑھتا جا رہا ہے ۔  تمام اسلامی ممالک کے اندر   بلا استثناء کوئی ایسی  یونیورسٹی ، کوئی ایسی دانشگاہ ، کوئی  ایسا جامعہ ، کوئی ایسا مدرسہ  کوئی ایسا  دارالعلوم  نظر نہیں آتا کہ  جس کا تمام ماحول، جس کے در و دیوار ، جس کی انتظامیہ ، جس کے استاد ، معلم و شاگرد  اہداف بعثت  کے حصول کے لئے دن رات مشغول نظر آتے ہوں۔

اہداف بعثت  پر مشتمل معاشرہ کی تشکیل کے لئے  متحد ہونے کی ضرورت

اگر بعض افراد ہیں اور واقعا ہیں  کہ جن کی کوششوں کی وجہ سے آج  اسلام   زندہ ہے ، اسلامی اقدار زندہ ہیں تو یہ ان لوگوں کی شخصی اور ذاتی کوششون کا نتیجہ ہے۔ ان افراد کو آپس میں ملنا ہو گا ، ملانا ہو گا ، قوت و طاقت کو مضبوط کرنا ہو گا، بعثت پیغمبر اکرم کی  نعمت عظیم سے ، آیات و روایات کی روشنی میں آیندہ کا  وژن معین کرنا ہو گا ۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جو لوگ موثر ہیں ان کے توسط سے کئی اداروں کو، کئی تنظیموں اور تحریکوں کو  حتی کئی ممالک کو آپس  میں اسلامی  و الہی اہداف کے تحت ملنا ہو گا۔ اپنی مساجد، اپنی درسگاہیں ،  اپنی یونیوسٹیاں، اپنے ادارے ، اپنی استعدادیں، اپنے جوانوں کی قوتیں ، اپنے محلے، اپنے معاشرے   اس طرح بدلنے ہوں گے  جس طرح  اللہ  چاہتا ہے ، جس طرح ہمارے رسول چاہتے ہیں ، جس طرح اللہ کی کتاب اور   معصومین (ع) کی تعلیمات  ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔یہ سب کچھ ممکن ہے ،  ہو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہم مخلصانہ کوشش کریں  اور  اللہ سے مدد مانگیں ، معصومین (ع) سے توسل اختیار کریں  ، امام زمان (عج) کے نائب برحق  مقام معظم رہبری  ( مد ظلہ العالی)کے فرمودات  اور ان ہی کے تعیین شدہ نمایندگان  کی راہنمائی میں سفر کمال طے کریں ۔ آخر پر دعا ہے کہ اللہ  ہمیں  اہداف بعثت  کو اپنی زندگی میں اور اللہ کی زمین پر اجراء کرنے کی توفیق عطا  فرمائے۔ آمین

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here