وزیر خارجہ ڈاکٹر محد جواد ظریف نے امریکا کے پی بی ایس ٹی وی سے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب ایران کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت پر برہم کیوں ہے؟ ، کہا کہ ایران کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت کا سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو گروہ بھی دہشت گرد گروہ داعش اور جبہت النصرہ سے جنگ کرے گا ایران اس کی حمایت کرے گا ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا کے گوشہ و کنار میں نفرت پھیلانے والے تمام گروہوں کا سلسلہ سعودی حکومت کے طرفداروں اور حامیوں سے جاکے ملتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آج دنیا میں انتہا پسندی کی ترویج سعودی پیسوں سے کی جارہی ہے ۔

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے جنگ یمن میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یمن میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی مفاد نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یمن کے حالات اتنے بحرانی ہونے سے پہلے، تہران نے ریاض کو ایک پیغام ارسال کرکے ، اس مسئلے کے حل میں تعاون کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا تھا لیکن سعودیوں نے ایران کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ۔انھوں نے ایران کی میزائلی توانائی کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اپنے دفاع کے وسائل خود تیار کرنا ضروری ہے کیونکہ امریکا نے ایران پر عراق کی صدام حکومت کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے زمانے سے دفاعی وسائل تک ایران کی دسترسی روکنے کی کوشش کی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here