بتایا جائے ملک کے اصل سٹیک ہولڈرز کون ہیں، وزیراعلیٰ کے بیان نے ابہام پیدا کردیا ، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی
نیا عمرانی معاہدہ ضروری تو پارلیمنٹ میں تمام طبقات و شعبہ ہائے زندگی کے نمائندگان کی مشاورت سے طے کرکے پورے ملک میں یکساں لاگو کیا جائے ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد12 دسمبر 2017 ء(دفتر قائد ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ بتایا جائے کہ ملک کے اصل سٹیک ہولڈرز کون ہیں؟،نئے عمرانی معاہدہ پر صرف باتیں نہ کی جائیں اگر نیو سوشل کنٹریکٹ کرنا ہے تو پھر اسے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر لاگو کیا جائے ، پورے ملک و قوم کو پابند کیا جائے کہ اس پر سختی سے کاربند رہیں،وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان نے بہت سے ابہام پیدا کردیئے جنہیں دور کیا جانا ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے وزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ یبان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ نئے عمرانی معاہدہ بارے جو بیان وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اس سے بہت سے ابہام جنم لے رہے ہیں جنہیں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ شہبازشریف کہتے ہیں کہ سٹیک ہولڈرز نیا عمرانی معاہدہ تشکیل دیں لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ اصل سٹیک ہولڈرز کون ہیں؟ اور دوسری بات اگر سٹیک ہولڈرز کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار ہے تو پھر اس میں دیگر اداروں کو شامل کرنے کی بات کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ، ہونا تو یہ چاہیے کہ جب نئے عمرانی معاہدے کی بات کی جارہی ہے تو پھر اس کا منبع پارلیمنٹ کو قرار دے کر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اور مختلف طبقات کی نمائندگی کرنیوالے افراد کو اعتماد میں لیا جائے اور طویل مشاورت کی جائے ۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ کا اختیار اگر سٹیک ہولڈرز کے پاس ہے تو پھر فیصلہ سازی میں کسی اور کا کردار نہیں ہونا چاہیے ،جب یہ فیصلہ کرلیا جائے تو پھر پورے ملک و قوم سمیت تمام اداروں کےلئے یکساں ہونا چاہیے اور پھر تمام اکائیوں کو اس پر عمل درآمد کا پابند بھی بنایا جانا چاہیے۔ واضح رہے کہ کافی عرصہ قبل ملک کے معروضی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ہم نے ہی سب سے پہلے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کی مختلف پہلوﺅں میں بگڑتی صورتحال میں نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے اور اس وقت بھی یہ باور کرایا تھا کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here