۲۷ رجب بعثت پیغمبر اکرم (ص) کا دن
۲۷ رجب بعثت پیغمبر اکرم (ص) کا دن

۲۷ رجب بعثت پیغمبر اکرم (ص) کا دن
شیعہ کے نزدیک اس ۲۷ رجب روز مبعث ہے یعنی وہ دن ہے کہ جس میں پیغمبر اکرم پر چالیس سال کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی آئی ہے، اہلسنت کے نزدیک ۲۷ رجب کی رات سفر معراج ہوا ہے۔ اہم سوال یہاں پر یہ ہے کہ اگر ۲۷ رجب شیعہ کے نزیک یوم بعثت ہے تو ان کے نزدیک واقعہ معراج کب ہے؟ اور اہل سنت کے نزدیک اگر ۲۷ رجب کی رات معراج ہے تو ان کے نزدیک یوم بعثت کونسا دن ہے؟ شیعہ کے نزدیک شب معراج ۱۷ ماہ مبارک رمضان یا ۲۱ رمضان المبارک ہے، اس کے علاوہ بہی اقوال ہیں جبکہ اہلسنت ان تاریخوں کو یا ان کے ساتہ ملتی جلتی ماہ رمضان کی راتوں کو بعثت کی تاریخیں مانتے ہیں۔ برصغیر میں شیعہ حضرات، اہلسنت کی اکثریت کی وجہ سے اس دن کی رات کو شب معراج کے طور پر مناتے ہیں جبکہ تمام شیعہ علماء کا اس میں اتفاق ہے کہ ۲۷ رجب روز مبعث یا بعث پیغمبر اکرم کا دن ہے۔ پس آج کے دن اتنی بڑی اللہ تعالی کی طرف سے جو انسانیت کو نعمت عطا ہوئی ہے او رغار حرا میں پیغمبر اکرم پر پہلی وحی سے جو بعث کا آغاز ہوا ہے ، اس مناسبت سے مبارک پیش کرتے ہیں۔
بعثت کے مہم ترین اہداف
۱) توحید کی تبلیغ
انبیاء کی بعثت کا سب سے اہم ہدف توحید کی تبلیغ تھا سارے  انبیاء لوگوں کو توحید کی طرف اور شرک سے بچنے کی طرف دعوت کرتے تھے۔ بعثت یعنی انسانیت کو اس کے کمالات تک پہنچانے کا اہتمام، بعثت یعنی لوگوں کو بتوں کی پرستش اور طاغوت کی اطاعت سے نکال کر پروردگار حقیقی کی عبادت اور بندگی کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ بعثت یعنی لوگوں کو شرک اور دین میں بدعات کے نام سے ایجاد شدہ خرافات سے نجات دلانا ہے۔ یہود و نصاری دین حقیقی کے مقابلے میں من پسند دین، یعنی دین جو ان کی خواہشات نفسانی کو پورا کرنے والا ہو اپنا نےاور اسی پر باقی رہنے پر مصر تھے۔ اہل کتاب حقائق کا انکار کرتے تھے بلکہ جاننے کے باوجود کتمان کرتے اور چھپاتے تھے۔ انبیاء کی بعث کے اہداف کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولاً أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ، اوریقینا ہم نے ہر امّت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔ ایک او جگہ پر اللہ تعالی فرماتا ہے: وَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ أَنَا فَاعْبُدُونِ، ان آیات کے مطابق  تمام انبیاء علیہم السلام لوگوں کو توحید  کی طرف اور شرک سے بچنے کی طرف دعوت دیتے تھے۔
۲) لوگوں کے لئے آیات قرآن کی تلاوت، تعلیم و تربیت
بعثت کے مہم ترین اھداف میں سے لوگوں کے لئے آیات قرآن کی تلاوت ہے پیغمبر اکرم نے اس وظیفہ کو بطریق احسن مکہ کی سرزمین پر اور مدینہ کی سرزمین پر انجام دیا۔ انتہائی افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج امت مسلہ کے اندر تلاوت قرآن بہت کم ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس کا مقام ہے کہ ملت تشیع پاکستان میں تو قرآن کی آیات کی تلاوت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تلاوت ہی نہیں ہو گی تو اس کی تعلیم کیسے حاصل ہو گی اور جب تعلیم قرآنی اسلوب اور نبوی نہج کے مطابق نہیں ہو گی تو امت کی تربیت کیسے ہو گی۔ امت کی اساس اور اسلامی معاشرہ کی بنیاد رکنھے کے لئے قرآن نے جو پیغمبر اکرم کا وظیفہ بتایاہے وہ کچھ یوں ہے:
یتلوا علیهم آیاته و یزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمه و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین
تزکیہ نفس یعنی باطنی طہارت ، اس کے بعد مرحلہ تعلیم کا ہے ۔ اگر تعلیم بغیر صفائے باطنی کے ہو تو اس کا بہت نقصان ہے کہ جس کے کئی واقعات تاریخ میں ثبت ہیں۔ پیغمبر اکرم کی وفات سے لیکر آج تک مسلمانوں کی پستی اور ذلت کے جو اسباب ہیں ان میں سے بنیادی عنصر تعلیم آیات بغیر تزکیہ نفس کے ہے۔ پس اگر بعثت کے اہداف پر دقت کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ صرف رسول کی بعثت نہیں بلکہ انسانیت کی بعثت، کتب الہی کی بعثت، عقاید حقہ کی بعثت، اعمال صالحہ کی بعثت اور اخلاق حسنہ کہ بعثت ہے۔
۳) بلنداخلاق کی تکمیل
پیغمبراکرم ص اپنی زبانی بعثت کے اہداف میں سے فرماتے ہیں کہ انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق، کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ وہ معاشرہ کہ جس میں پیغمبر اکرم تشریف لائے وہ ہر قسم کی اخلاقی برائی میں مبتلا تھا تو ضرورت تھی کہ اس معاشرہ میں اخلاق کے کمال کا مظاہرہ کر کے اسے ٹھیک کیا جائے ، آنحضرت نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ قرآن نے آپ ص کے اخلاق کی یوں گواہی دی کہ : انک لعلی خُلُق عظیم۔ آج بعثت کے دن کی مناسبت سے تمام مسلمانوں کو بالعموم اور ملت تشیع اور اس ملت کے علماء کرام کو حسن اخلاق کا اعلی ترین مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اس حوالے سے پاکستان میں عقائد حقہ کی ترویج میں پیغمبر اکرم کی سیرت طیبہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے جس اخلاق حسنہ کا مظاہرہ محسن ملت علامہ صفدر حسین نجفی اور آیت اللہ محمد حسین نجفی نے کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دین مبین اسلام کی تبلیغ میں اخلاقہ حسنہ کا بہت بڑا کردار ہے جس کی طرف علماء اور طلاب دین کو ہمیشہ متوجہ رہنا چاہئے۔
۴) میثاق فطرت اور اللہ کی نعمات کو یاد دلانا
انبیاء کی بعثت کے مقاصد میں سے یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ اقوام کو ملتوں کو، بشریت و انسانیت کو میثاق فطرت پر لائیں اور ان کو اس عہد کی وفا کروائیں جو انہوں نے خدا سے اپنی فطرت پاک اور سلیم کے ساتھ کیا تھا ، عقل باطنی اور رسول ظاہری شریعت ظاہری جیسی عظیم نعمتوں کی اہمیت کو جو بھول چکے ہیں اسے یاد کروائیں جسے امیرالمومنین حضرت علی ع یوں فرماتے ہیں: لِیَستَأدُوهُم میثاقَ فِطرَتِهِ وَ یُذَکِّروهُم مَنسِیَّ نِعمَتِه ۔
الٰہی نعمتیں، وجودکی نعمت ،صحت و سلامتی کی نعمت،عقل و فہم کی نعمت اور اس نیک اخلاق کی نعمت جسے خدا نے ہمارے اندر ودیعت فرمایا ہے،انسان ان تمام نعمتوں سے غافل ہیں اورانسان بھول جاتےہیں ؛پیغمبرآکرانہیں یاد دلاتے ہیں۔
عید مبعث کے حوالے سے اہم پیغام
۱) پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت ، سیرت اور اہداف بعثت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنا
اس وقت بہت زیادہ ضرورت ہے کہ ہم پیغمبر اکرم (ص) کی شخصیت ، سیرت اور اہداف بعثت کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کریں، دنیا میں ایسے افراد کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کو اگر آنحضرت کی شخصیت کے ابعاد اور بعثت کے اہداف واضح کئے جائیں تو اگر وہ  غیر مسلمان ہیں تو مسلمان اور اگر مسلمان ہیں، تو مومن اور اگر مومن ہیں تو حقیقی مومن میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ہمیں اس حوالے سے تحریر و تقریر کے ذریعہ اپنی جگہ پر لیکن اس سے بھی بڑھ کر اپنی زندگیوں میں، اپنے عمل میں، اپنی سماجی، اجتماعی اور سیاسی زندگی میں پیغمبر اکرم (ص) کی بعثت کے اہداف کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
۲) دشمن کی سازشوں اور مکاریوں کو سمجھنا
پیغمبر اکرم ص نے اور ان کی عترت نے اسلام کے جو سنہری اصول پیش کئے آج جہاں پر مسلمان ان سے غافل ہیں وہیں پر دشمنان اسلام ان اصولوں اور انبیاء کی بعثت کے اہداف کو مٹانے اور کم رنگ کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ دشمن نے عمومی سطح پر اسلام ہی کے نام سے بعض جہادی گروہ تیار کر کے اسلام کے تابناک چہرہ کو داغدار کرنے کی اپنی ہر کوشش کی ہے۔ اسی طرح دشمن آج ، شیعہ مذہب کی تخریب خود نام نہاد شیعہ افراد کے زریعہ سے کر رہا ہے، ہماری مجالس جو تبلیغ دین کا ایک بہت بڑا زریعہ تھیں ان کی کیا شکل ہو چکی ہے کس طرح معصومین ع کے فرامین کو اپنی طرف سے بیان کر کے شرک بیان کیا جاتا ہے۔ مسلمات دین کی توہین کی جاتی ہے۔
۳) زمانہ غیبت میں علماء حقہ کی سرپرستی میں رہنا اور ان کی حمایت کرنا
پاکستان کے علماء حقہ نے ہر زمانہ کے اندر بعثت پیغمبر اکرم کے اہداف کو مد نظر رکھ کر پاکستانی ملت کی راہنمائی کی ہے۔ جس میں مرجع علیقدر حضرت آیۃ اللہ محمد حسین نجفی کی ساٹھ سالہ خدمات اظھر من الشمس ہیں۔۔ آیت اللہ محمد حسین نجفی نے دین حقہ کی تعلیم نجف اشرف سے حاصل کرنے کے بعد تبلیغ کا حق ،سید الانبیاء کی سیرت پر چلتے ہوئے ادا کیا ۔ پاکستان کی شیعہ قوم کی تربیت پیغمبر اکرم کی بعثت کے اہداف، امام حسین ع کےقیام کے اہداف، مجالس کی اصلاح اور کمالات کی منزلیں طے کرنے کے لئے جب ایمانی جذبہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عمل اور خصوصا خلوص عمل کی طرف قوم کو متوجہ کیا۔یہ نجفی صاحب کا خدا پر توکل کرنا ہی تھا کہ جس کی بدولت آج شیعہ قوم کی اکثریت علماء کی سرپرستی میں بدعات و خرافات کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان عمل میں آچکی ہے۔ اس حوالے سے ملت کے ہر ذمہ دار فرد کا وظیفہ ہے کہ وہ آیۃ اللہ محمد حسین نجفی کی خدمات جو ملت کو شرک اور بی عملی کی زندگی سے بچانے کے لئے اور اہداف بعثت انبیاء کو زندہ رکھنے میں ہیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہئیے ۔ البتہ ایسے مجایدین ملت و دین کی مخالفت دشمنان دین یا کم فہم افراد کی طرف سے ہونا بھی ایک واقعی امر ہے، بعثت پیامبر اکرم کے بعد مشرکین مکہ آنحضرت کے سخت مخالف ہوئے۔حضرت ابوزر، حضرت عمار اور خود امیرالمومنین ع اور آل محمد ص کو پیغمبر اکرم کی بعثت کے اہداف کو زندہ رکھنے میں کن کن مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ پس آیۃ اللہ محمد حسین نجفی ہوں یا ملت تشیع پاکستان کی واقعی معنا میں شرک، خرافات اور بدعات سے بچنے میں اور اہداف بعثت پیغمبر اکرم کو حاصل کرنے میں جو علماء اعلام راہنمائی فرما رہے ہیں ان کی حمایت اور تائید میں کسی صورت میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو بعثت پیغمبر اکرم ص کے جو اہداف ہیں ان کو بطور ملت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here