• عزاداری مذہبی و شہری آزادیوں کا مسئلہ، قدغن قبول نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا

تازه خبریں

بڑے ڈیموں کے ساتھ چھوٹے ڈیمز بنادیئے جائیں تو بڑی حد تک سیلابی صورتحال کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکتاہے علامہ عارف حسین واحدی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں اور املاک کا بھاری نقصان ہواہے ہر سال بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن جیسے ہی سیلابی صورتحال ختم ہوجاتی ہے ہر چیز کو بھلادیاجاتاہے، حکومت سیلابوں کی روک تھام کیلئے طویل المدت کے ساتھ ساتھ قلیل المدت منصوبے بھی فی الفور شروع کرے،کھوکھلے دعوؤں کی بجائے حکمت عملی مرتب کی جائے تو سیلابی پانی کو استعمال میں لاکر نہ صرف توانائی بحران کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ عوام کے جان و مال بھی محفوظ ہوجائینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی دفترمیں مختلف وفودسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ ملک میں ہر دوسرے سال سیلاب آنا معمول بن چکاہے ، حالانکہ مشہورمقولہ ہے کہ عقل مند قومیں صرف ایک ہی بار سیلاب کا سامنا کرتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے اس مشکل کا تدارک کیاجاتاہے لیکن افسوس یہاں جیسے ہی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو بجائے عملی اقدامات کے فوٹو سیشنز کے ساتھ ساتھ کھوکھلے دعوے شروع کردیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ سیلابی صورتحال میں بھی قیمتی جانوں اور املاک کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فصلوں کا نقصان بھی ہوا ہے ، انہوں نے کہاکہ اگر سابق اور موجودہ حکومتیں سیلاب کے تدارک کیلئے طویل المدتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ قلیل المدتی منصوبے شروع کردیتیں تو آج صورتحال ایسی نہ ہوتی، اگر بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنادیئے جائیں تو بڑی حد تک سیلابی صورتحال کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران پر بھی قابو پایا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اب دعوؤں کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں متاثرین سیلاب کی ہنگامی بنیادوں پر دادرسی کی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے مخیر حضرات اور رفاھی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ ہم وطنوں کی مدد کیلئے بھرپور انداز میں میدان میں آئیں تاکہ ان مصیبت زدگان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کی مشکلات حل ہوں ، مصیبت زدگان کی مدد ہماری اخلاقی و ملی ذمہ داری ہے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے کارکنان بھی امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لیں۔