جب تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیاجاتا، تبدیلی کے دعوے محض دعوے رہیں گے، علامہ عارف واحدی
جب تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیاجاتا، تبدیلی کے دعوے محض دعوے رہیں گے، علامہ عارف واحدی
جب تک عوام کو ریلیف فراہم نہیں کیاجاتا، تبدیلی کے دعوے محض دعوے رہیں گے، علامہ عارف واحدی
حکومت دعووں کی بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے ،شہری آزادیوں پر قدغن ویسی ہی ہے جیسا سابق دور میں تھی، تو تبدیلی کہاں، شیعہ علماءکونسل پاکستان مختلف ممالک کے تعریفی دوروں کے باوجود ڈالر کی اڑان میں کمی نہیں آرہی، مہنگائی کا جن بے قابو ہورہا ہے، 80 فیصد آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے
راولپنڈی /اسلا م آباد11نومبر 2018ء( جعفریہ ]پریس) شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا ہے کہ عالمی بینک کی رپورٹ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، حکومت دعووں کی بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے، مختلف ممالک کے تعریفی دوروں کے باوجود ڈالر کی اڑان میں کمی نہیں آرہی، مہنگائی کا جن بے قابو ہورہا ہے، تبدیلی اصل میں اس وقت رونما ہوگی جب عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف پہنچے گا، شہری آزادیوں کا مسئلہ حل ہوگا اور سی پیک کو صحیح معنوں میں ترقی کی شاہراہ میں تبدیل کیاجائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ بینک کی رپورٹ اور آئے روز بڑھتی مہنگائی پر رد عمل اور مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کی 80 فیصد آبادی بنیادی سہولیات سے محروم ہے ، اسی سہولیات کے فقدان اور تلاش روزگار کے سبب عوام کی بڑی تعداد ملک کے دور دراز علاقوں سے شہروں کا رخ کرتے ہیں مگر بڑھتی مہنگائی کے باعث ان کی بنیادی ضروریات پھر بھی پوری نہیں ہوپاتیں- ان کا کہنا تھا کہ اگر دیہی علاقوں کی صورت حال پر دعوو¿ں کے بجائے ماضی میں عملی اقدام اٹھایا جاتا تو شائد یہ صورتحال نہ ہوتی، انکا کہنا تھا موجودہ حکومت کو چاہیے کہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے، سی پیک کی بات بارہا کی جارہی ہے مگر اسے موٹروے کی طرح صرف ایک شاہراہ نہ بنایا جائے بلکہ صحیح معنوں میں ترقی کی شاہراہ تب ہی بن سکتی ہے اگر ترقی سے محروم دیہی علاقوں میں صنعتی انقلاب لایا جایے اور جہاں صنعتی زون قائم کئے جارہے ہیں وہیں مختلف علاقوں میں سمال انڈسٹریز کی سہولیات فراہم کی جائیں اسی صورت میں ملک میں بے روزگاری کو کسی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں تقریباً 70 فیصد کے قریب آبادی نوجوان نسل پر مشتمل ہے لیکن افسوس نوجوان نسل کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔علامہ عارف حسین واحدی کا مزید کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے دوروں اور معاشی پیکج کے اعلانات کے باوجود ڈالر کی قیمت میں کوئی کمی نہیں آئی، مہنگائی ایسی منہ زور ہوچکی ہے کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتی، حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے ابھی تک خواص کے ساتھ عوام کو بھی سمجھ نہیں آرہی، ہر دوسرا شخص پریشانی میں مبتلا ہے، حکومت کو چاہئے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ یقینی بنائے اسی صورت ہی کہا جاسکتا ہے کہ واقعی ملک میں تبدیلی آچکی ہے اور واقعی نیا پاکستان بھی بن چکا ہے، بصورت دیگر اگر اس حکومت نے بھی وہی پالیسیاں جاری رکھیں جو فی الوقت جاری ہیں تو جن طبقات نے موجودہ حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا شائد وہ برقرار نہ رہے۔ ​

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here