حضرت فاطمة الزهرا  و  مکتب اهلبیت ع  کی حفاظت

تحریر : ملک اشرف                        

الله تعالی نے هر  انسان کو اختیار دیا هے اور اسی اختیار هی کی بنیاد پرهر شخص نیک یا برا بنتا هے.جو شخص اپنے اختیار سے نیکی کی طرف قدم  بڑهاتا هے خدا وند اس کے لئے هدایت کے دروازے کھول دیتا هے اور هدایت عمومی کی نسبت اس کی بیشتر هدایت کرتا هے.اس کے لئے ایسے اسباب مهیا هو جاتے هیں که جن تک خدا کی توفیق کے بغیر اس شخص کی رسائی ممکن نهیں هوتی.جو شخص اپنے اختیار سے کمال کی منزلیں تو کرنا چاهتا هے اور اپنی فکر و سوچ کی صلاحیتوں کو، اپنی قلبی کیفیات کو اور کردار و رفتار کو  الهی اصولوں اور طریقوں کے مطابق کرنا چاهتا هے تو  الله تعالی اپنے اولیاء کی محبت و مودت اس کے دل میں داخل کردیتا هے . یه شخص علماء حقه کی محافل میں بیٹھ کر آل محمد ص کی تعلمیات سے اپنی فکری قوت کو پروان چڑهاتا هے اور کردار و عمل کا ایک عظیم نمونه بن کر معاشره کی راهنمائی کے لئے  سامنے آتا هے اور لوگ اس کے علم  و کردار کے نور سے خود کو منور کرتے هیں. ایسا شخص سست نهیں هوتا، کاهلی اور تنبلی اس سے کوسوں دور هوتی هے همیشه کوشش میں رهتا هے  اور قوم و ملک و ملت کے حساس مسائل میں خاموش  اور تماشائی بن کر نهیں بیٹھتا بلکه  جهاں پر ضرورت هو صرف ایسا نهیں که وهاں پر اپنی فکر و سوچ کو استعمال کرتا هو بلکه ضرورت پڑے تو اپنی زندگی  کو بھی قربان کر دیتا هے.

بعض افراد الله تعالی کی طرف سے دئے هوے اس اختیار کو غلط استعمال کرتے هیں ، لیکن ان کا  هر قسم کا فیصله کرنا ان هی کے اختیار هی سے هوتا هے جس کے نتیجه و اثر کا، ان کو اس دنیا میں یا اس دنیا میں سامنا ضرور کرنا پڑنا هے.ایسا شخص یا ایسے لوگ  اپنی سوچ و فکر کو، اپنی محبت و نفرت کو  اور اپنی مدد و تعاون کو اور اپنے کردار و رفتار کو  الله کے بتائے هوئے  اور عقل انسانی کے تعلیم کئے هوئے راستوں پر نهیں چلاتے بلکه  خواهش نفسانی کی پیروی کرتے هوئے خود بھی گمراه هوتے هیں اور  کئ معاشروں کے لئے بھی تاریکی اور اندھیرے کا سبب بنتے هیں. ایسے افراد همیشه کمال کے مخالف هوا کرتے هیں، اهل کمال اور اهل علم سے دشمنی کرتے هیں،  معاشره کے اندر نفاق کا سبب بنتے هیں اور همیشه حق اور اهل حق  پر ظلم کرتے هیں. ایسے افراد دین کے نام پر سب کچھ کر رهے هوتے هیں اور مختلف لوگوں کو اپنی مکاری  کے سبب اپنے ساتھ ملانے میںوقتی طور پر کامیاب تو هو جاتے هیں لیکن الله تعالی جو قادر مطلق هے ان  کی مکاری اور دھوکه بازی کو عیان کر دیتا هے اور وه همیشه کے لئے  زلیل و رسوا هو جاتے هیں . جن لوگوں نے  پیغمبر اکرم ص کے بعد  آل محمد  کو اپنی زندگیوں کے لئے نمونه بنایا انھوں نے بھی یه کام اپنے اختیار سے کیا اور جن لوگوں نے آل محمد ع و  مکتب آل محمد ع سے دشمنی کی انھوں نے بھی یه کم اپنے اختیار سے کیا.

پیغمبر اکرم ص کی وفات کے بعد خاندان اهل بیت عپر کس قدر ظلم هوئے که جن کی ابتدا  مولا امیر المومین ع اور  خاتون جنت پر هونے والے ظلم سے هوئی . آج  سید ه فاطمه زهرا سلام علیها کی شهادت کا دن هے ، کیا کوئی تصور کر سکتا هے  که رسول کی بیٹی جس کا رسول اتنا زیاده احترم کرتے تھے که  دشمن سے دشمن افراد بھی بی بی کی اس فضیلت کو نهیں چھپا سکے. اسی بی بی کے دروازه کو جلا دیا جانا اور  بی بی  پر ظلم و مصائب کی انتهاء کا  شروع هونا، حضرت محسن ع کی شهادت کا واقع هونا و ……

جب یه واقعه هوا تو اهل مدینه کیا کسی اور جگه پر گئے هوئے تھے یا کسی زندان میں بند کر  دئے گئے تھے یا کسی مصلحت کی بنیاد پر خاموش تماشائی بن کر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے تھے یا ان کو بٹھا دیا گیا تھا؟ جنگ بدر و احد و خندق و خیبر میں شرکت کرنے والے کئی صحابه ابھی تک تو زنده تھے وه سب کهاں تھے؟  اگر مدینه میں هی تھے تو  ان کی  آنکھوں کے سامنے اتنا بڑا ظلم کیسے هوا؟

میں جب آج کے  واقعات کو، آج کی تاریخ کو یا آج کی امت مسلمه یا  آج  کی پاکستانی  شیعه قوم اور اس کے بهت سارے امورمیں خاموش تماشائی بنے هوئےکئ افراد کو دیکھتا هوں تو ان حالات کو جو حسنین شریفین کی ماں کے ساتھ گزرے، ان کو سمجھنا میرے لئے تو کوئی مشکل نهیں ره جاتا اس لئے که  جیسے :

اس زمانے میں امام حق کا ساتھ نهیں دیا گیا اسی طرح آج بھی علماء حق کا ساتھ نهیں دیا جاتا بلکه ان کے خلاف بعض اوقات  بعض نا فهم افراد طوفان بد تمیزی برپا کرتے هیں، جیسے اس زمانے میں  باب مدینة العلم  کو نظر انداز کیا گیا اسی طرح آج بھی وه علماء حقه که جنهوں نے اپنی زندگی علوم آل محمد کی تحصیل، تبلیغ اور مدارس دینیه کی تاسیس اور تدبیرمیں گزار دی اور گزار رهےهیںان کےساتھ  دینے کے لئے لوگوں کو روکا جاتا هے، ممبر پر گمراه لوگوں کو لایا جاتا هے اور  مسلمانوں کو  بالعموم اور شیعه قوم کو بالخصوص، شیعه حقایق سے دور رکھنے کے لئے هر حربه استعمال کیا جاتا هے.

خاتون جنت حضرت سیده فاطمة الزهراء سلام الله علیها نے اسلام حقیقی ، عقاید حقه  اور اهداف حقه کا  جس طرح دفاع کیا اسی طرح هر دور کے اندر اهل حق زمانے کے تقاضوں اور حالات کے مطابق اسی راه پر چل کرعقاید حقه کی حفاظت کرتے رهے هیں اور کر رهے هیں. پاکستان کے اندر دشمنان اهلبیت علیهم السلام نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا که شیعیان حیدر کرار کے لئے مسائل کھڑے کئے جائیں، یهان تک کوششیں کی گئیں که ان کو ایران یا عراق بھیج دیا جائے یا کسی ایک خطه میں محدود کر دیا جائے حتی تکفیریوں نےتو شیعه کے لئے اپنے مذموم مقاصد کے لئے هر ممکن کوشش کی . ان تمام حالات میں مختلف  محازوں پر شیعه قوم اور شیعه علماء حق نے سیده زهراء  سلام  الله علیها کی سیرت  اور معصومینع کی سیرت طیبه کے پیش نظر  همیشه دشمن کو ناکام کیا.

اس حوالے سےموجوده زنده  حضرات میں سے:

سیاسی میدان میںقائد ملت جعفریه نماینده ولی فقیه آیة الله علامه سید ساجد علی نقویزید عزه کی  خدمات مکتب تشیع کے حفاظت کے لئے سنهری حروف سے لکھنے کے قابل هیں که اس فرزند زهراء  نے تمام مشکل حالات کے اندر کس طرح تکفیریت کا مقابله کیا اور دشمن کی هر سازش کو  اپنی مادر گرامی حضرت زهرا کی سیرت پر عمل کرتے هوئے ناکام کیا. پاکستان کے اندر شیعه کا مقام اور شیعه قوم کی حیثیت هر گزرے هوئے زمانے سے بهتر سے بهتر هے ، یه سب کچھ  بزرگ علماء کرام کی دور اندیشی اور آپس میں وحدت و اتحاد  کے سبب هوا هے اور انشاء الله  اسی طرح هوتا رهے گا.

میدان تبلیغ میں مکتب اهل بیتعکی حقیقی اور صحیح ترجمانی اپنے دور کے اندر جس طرح آیة  الله محمد حسین نجفیزید عزه نے کی هے وه اپنی مثال آپ هے. مولا امیرالمومین  حضرت علی علیه السلام کی امامت و ولایت کی حفاظت کے لئے جس طرح  سیده فاطمة  الزهرا نے جهاد کیا ، اسی طرح  پاکستان کی سرزمین پراس فقیه اهلبیت ع نے  تجلیات صداقت لکھ کی دشمن کی کوششوں کو ناکام  بنایا. مکتب اهلبیت کی حفاظت کے لئے،عقاید  حقه که جن کی حفاظت کے لئے رسول کی بیٹی نے هر قربانی پیش کی، اس مرد میدان و عمل نے  بھی بی بی  کے نقش قدم پر چلتے هوئے تمام شخصی  مصلحتوں سے بالا تر هو کرفقه، کلام اور تاریخ اهلبیت کے ساتھ ساتھ ادعیه اور قرآن مجید کی تفسیر لکھ کر تشنگان حقیقت کے لئے  الله تعالی کی آیات، محمد و آل محمد کےفرامین  اور ان کی سیرت طیبه کو اردو زبان میں  پیش ک دیا . آیت الله محمد حسین  نجفی کی  مکتب اهلبیت کی حفاظت کے لئے ملک کے کونے کونے کے اندر تقاریر اور مجالس  کسی سےڈھکی اور چھپی نهیں هیں.  قبله نے  آج سے تقریبا ساٹھ سال پهلےاجتهاد کی منزلیں طے کرکے  پاکستانی طلاب کے لئے نمونه بن کر واضح کردیا که همیشه مقلد هونا کمال نهیں هے بلکه مختلف مسائل میں علوم آل محمد  کے سمندر میں غوطه ورهو کر صاحب نظریه بن کر کرسی اجتهاد پرفایزهو کرصاحب فتوی هونا اور پیروان آل محمد کی سرپرستی کرنا یه کمال هے.

پاکستانی قوم میں سےاسی میدان اجتهاد میں منزل فقاهت پر فایزهو کرمکتب آل محمد کی حفاظت  کا فریضه  اپنے انداز میں  نجف اشرف کی  سرزمین پر بیٹھ کرجس طرح آیة الله حافظ بشیرحسین نجفیزید عزه  کر رهے هیں وه بھی اپنی مثال آپ هے. آیت الله حافظ بشیر حسین نجفی زید عزه  کی زندگی ، محنت و کوشش اور علوم آل محمد سے بچپن سے لگن، اس لئے که مکتب آل محمد کی صحیح معنوں میں حفاظت کی جا سکے، آج کے اردو زبان اور خصوصا پاکستانی اورانڈین طلاب کے لئے  مشعل راه هے.

اس کے علاوه پاکستان کے اندر مدارس دینیه  کی تاسیس، تقویت، تدبیر اورعلوم آل محمد کی ترویج و مکتب آل محمد کی حفاظت کے لئےآیت الله حافظ سید ریاض حسین نجفیزید عزه کی دن رات کی  کوششیں  اور زحمات  که جن کو بنده نے قریب سے دیکھا هے اور لمس کیا هے کسی سے پوشیده نهیں هیں.  یه سب  بزرگان طول میں اسی راه کے راهی هیں که جو رسول الله کی بیٹی فاطمه الزهرا نے اپنے بابا کی وفات کے بعد دکھایا. آج حوزه علمیه قم  هو یا حوزه علمیه نجف یا پاکستان کے مدارس دینیه کے پرنسپلز یا اساتید  ان میں سے تقریبا  نوے فی صد کے لگ بھگ حافظ صاحب قبله کے شاگردان هوں گے.بنده ناچیز بھی آج اس مقام تک اگر پهنچا هوں تو مرحله اول میںسلاله سادات اور برصغیر کی عظیم شخصیت حضرت الله  حافظ سید ریاض حسین نجفی کی شفقت و سرپرستی اور اسی استاد بزرگوار کی شاگردی اختیار کرنے اور ان کی دعاوں  کے نتیجه میں یه سب کچھ حاصل هوا هے .

سرزمین  پاکستان کے بزرگان میں سے واقعا  جو بزرگ کهلانے کے حق دار هیں  اور اپنی بزرگی سے جنهوں نے ملت تشیع کو همیشه کے لئے متحد رکھا هے اور مختلف قسم کی تقسیموں سے بچا کر رکها هے ان میں سے ایک  آیت الله شیخ محسن علی نجفیزید عزه هیں. اس عالم بزرگوار  کے شاگردان کی بھی  اکثریت  حوزه علمیه قم  اور حوزه علمیه نجف میں موجود هں.  قبله کی آل محمد کے مکتب  کے لئے زحمات  هر اپنے و غیر کے لئے روز روشن کی طرح واضح هیںکه جنهوں نے سیده فاطمه  الزهرا اور ان کی پاک آل  کے نقش قدم پر چلتے هوئے  قوم شیعه کی همیشه راهنمائی  کی هے. اس کے علاوه بھی کئی افراد پاکستان میں مکتب اهلبیت او ر دین اسلام کے لئے کام   کر رهے هیں که  جو واقعا قابل تحسین هیں.

سیده فاطمة الزهرا سلام الله علیها کے دروازه کو جلا کر ، سیده پر دروازه گرا کر جو لوگ آج سے چوده سو سال پهلےامیر المومنین حضرت علی علیها السلام کی امامت حقه اور مکتب اهلبیت کی تعلیمات کو همیشه کے لئے مٹانا چاهتے تھے ، ان کی تمام کوششوں کو جس  طرح امیرا لمومنین حضرت علی علیه السلام  اور مادر حسنین نے خاک میں ملایا  اسی طرح هر زمانه کے اندر علماء حق  اپنی استعداد اور علمی بساط کے مطابق دشمنان آل محمد کی کوششوں کو خاک میں ملاتے رهے هیں اور ملاتے رهیں گے. چونکه اس زمانه کے اندر  مکتب آل محمد کی حفاظت بلکه اسلام ، قرآن اور دین وامت مسلمه کی سرپرستی فرزند زهرا ، نایب امام زمان عج مقام معظم رهبری آیت الله سید علی خامنه ایمدظله العالیفرما رهے هیںاور پاکستان کے اندر  طول میںنماینده ولی فقیه اوربزرگ علماء کی راهنمائی اور سرپرستی میںمختلف افراد ، ادارےاور تنظیمیں  مکتب اهلبیت کی ، قرآن کی اور اسلام کی حفاظت کر رهے هیں اور انشاء الله تا ظهور امام زمان ع کرتے رهیں گے.بارگاه رب  العزت میں دعا هے که الله تعالی  سیده فاطمة الزهرا کے صدقه میںمکتب اهلبیت کی حفاظت کے سلسله میںسب کی کوششوں کو قبول  فرمائے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here