حضور اکرم کے سب سے پہلے محافظ و مربی حضرت ابو طالب ؑ اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ ہیں
حضور اکرم کے سب سے پہلے محافظ و مربی حضرت ابو طالب ؑ اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ ہیں

حضور اکرم کے سب سے پہلے محافظ و مربی حضرت ابو طالب ؑ اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ ہیں

راولپنڈی/ اسلام آباد 15 مئی 2019ء (جعفریہ پریس    )

    قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اسلام کے سب سے پہلے محسن اور حضور اکرم کے سب سے پہلے محافظ و مربی حضرت ابو طالب ؑ اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ ہیں۔ حضرت ابو طالب ؑ نے اپنی قوت و حشمت و مقام اور اپنی اولاد اور حضرت خدیجہ الکبری ؑ نے اپنے پاکیزہ مال و دولت کے ذریعے شجر اسلام کو ایسی توانائی عطا کی کہ اس کا سایہ پوری کائنات پر ہوا اور آج تک اسلام کی ترویج و ترقی حضرت خدیجہ الکبری ؑ کی قربانیوں کی مرہون منت ہے۔

ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری ؑ کے یوم وفات پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ملیکة العرب‘ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری ؑ نے خواتین میں سب سے پہلے دین حقہ یعنی اسلام پر عمل پیرا ہوکر اورتصدیق رسالت کرکے ایک دانشمند خاتون ہونے کا ثبوت دیا۔ رسالت کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے اقدامات ان کے ‘ان کی زیرکی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اپنے اس عمل اور اپنے جذبہ صادق سے اسلام کی بنیادیں استوار کیں۔ آپ نے اپنے پاکیزہ مال سے نبوت کو ایسا سہارا عطا کیا جس کے بعد اسلام کو اطراف و اکناف عالم میں پھیلنے کا موقع ملا۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جب دین اسلام اپنے ابتدائی مراحل طے کررہا تھا‘ جب پیغمبر اکرم تن تنہا حق کی تبلیغ میں مصروف تھے‘ جب کفار و قریش اپنے مال و طاقت اور افرادی قوت سے نبی اکرم کے مقابل آگئے توایسے میں جناب خدیجہ الکبری ؑ نے حضور اکرم سے اپنا دائمی رشتہ جوڑ کر ایسا لازوال اور غیر متزلزل سہارا فراہم کیا جس کے ممنون خود پیغمبر گرامی رہے۔ بی بی نے واقعی آنحضرت کی رفیقہ حیات ہونے کا ثبوت دیا چونکہ پیغمبر اکرم کی ذات اللہ کے راستے اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی جبکہ ام المومنین پیغمبر اکرم کے دکھ درد میں برابر شریک رہیں اور زندگی کے تمام فرائض میں بھرپور حصہ لیا۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے تمام طبقات انہی متبرک و مقدس ہستیوں کے اعلی و پاکیزہ کردار سے سبق سیکھیں۔

جاگیردار‘ صنعت کار اور سرمایہ دار اپنے دین اور اپنے وطن کی خدمت کا درس حضرت خدیجہ الکبری ؑ سے حاصل کریں۔ دین و ملک کو لوٹنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کی بجائے اپنا مال و دولت بھی دین اسلام اور ملک و ملت کے لئے صرف کریں‘ اسی میں خوشنودی خدا و رسول خدا ہے اور اخروی نجات اور ملک کی کامیابی و ترقی کا راز مضمر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here