• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

حکومت نصاب تعلیم پر تحفظات دور کرے،آئمہ جمعہ خطابات میں قوم کو آگاہ کریں، علمائے شیعہ پاکستان

حکومت نصاب تعلیم پر تحفظات دور کرے،آئمہ جمعہ خطابات میں قوم کو آگاہ کریں، علمائے شیعہ پاکستان

حکومت نصاب تعلیم پر تحفظات دور کرے،آئمہ جمعہ خطابات میں قوم کو آگاہ کریں، علمائے شیعہ پاکستان
یکساں تعلیمی نصاب مرتب کرنےوالی کمیٹیوں میںتمام مکاتب فکر کو مساوی نمائندگی دی جائے، علمائے شیعہ پاکستان
قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی اور مفسر قرآن شیخ محسن نجفی کی رہنمائی میں جلد قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا راولپنڈی/اسلام آباد 28 جنوری 2022 ( جعفریہ پریس پاکستان )علمائے شیعہ پاکستان نے قومی نصاب تعلیم کو یکساں طور مرتب نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کو قومی زیادتی سے تعبیر کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یکساں قومی نصاب کے اعلان پر عملدرآمد کراتے ہوئے فوری طور پر مرتبہ نصاب کی خامیوں کو دور کرے۔ اس امر کا اظہار وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری، اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے ممبر اور ادارہ منہاج الحسین کے سربراہ علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر، شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل علامہ سید ناظر عباس تقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ اور ناظم وفاق المدارس الشیعہ پاکستان مولانا لعل حسین نے جامعة المنتظر لاہور میں ایک ہنگامی وڈیو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں کہا کہ پرائمری سطح پر پہلی سے پانچویں جماعت تک نصاب کے مرتب کرنے والی کمیٹیوں میں موجود مکتب تشیع کے نمائندوں کی تجاویز و اعتراضات کو یقین دھانی کے باوجود نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ جو کہ زیادتی کے مترادف ہے۔ جبکہ اگلے مرحلے میں نصاب کی ترتیب کے حوالے سے مڈل کی سطح یعنی چھٹی سے آٹھویں جماعت تک بھی مکتب تشیع کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ایسی صورت میں وطن عزیز پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھایا جانا والا نصاب کسی طور بھی یکساں نہیں کہلایا جا سکتا جو خود حکمرانوں کے اُس دعوے کی نفی کرتا ہے جو انہوں نے یکساں نصاب تعیلم کے حوالے سے کر رکھے ہیں۔ انہوں واضح کیا کہ اس طریقہ کار کے ذریعہ نافذ کردہ نصاب سے قومی و ملی وحدت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو نقصان پہنچے گا اور وطن عزیز پاکستان میں اتحاد و وحدت کی قائم فضا متاثر ہو گی۔ علمائے شیعہ پاکستان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نصاب کو مرتب کرنے والی جن کمیٹیوں میں مکتب تشیع کی نمائندگی موجود نہیں ہے ان میں مساوی نمائندگی دی جائے اور اس حساس مسلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نمائندوں کی پیش کردہ تجاویز و اعتراضات پر عملدرآمد کر کے نصاب تعلیم کو یکساں بنائےں، بصورتِ دیگر وہ پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اس ضمن میں انہوں نے ملک بھر میں آئمہ جمعہ کو اپیل کی کہ وہ نماز جمعہ کے خطابات میں پہلے مرحلے پر عوام کو آگہی و شعور دینے کے سلسلے کا آغاز کریں ۔جبکہ اگلے مرحلے میں قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی ، حضرت آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی اور مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی کی رہنمائی سے ترتیب دئیے گئے آئندہ کے قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
May be an image of 6 people, people sitting and text