خدا وند متعال نے ماہ مبارک رمضان میں قرآن مجید اور وطن عزیز کی صورت میں ہمیں دو عظیم نعمتیں عطا فرمائیں۔ علامہ عارف حسین واحدی
خدا وند متعال نے ماہ مبارک رمضان میں قرآن مجید اور وطن عزیز کی صورت میں ہمیں دو عظیم نعمتیں عطا فرمائیں۔ علامہ عارف حسین واحدی

خدا وند متعال نے ماہ مبارک رمضان میں قرآن مجید اور وطن عزیز کی صورت میں ہمیں دو عظیم نعمتیں عطا فرمائیں۔ علامہ عارف حسین واحدی

راولپنڈی: شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نےڈاکٹر غضنفر مہدی کی طرف سے آرٹس کونسل ہال میں ماہ رمضان اور قیام پاکستان کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ھوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے ھمیں ماہ مبارک میں دو بہترین تحفے عطا فرمائے،قرآن مجید اور وطن عزیز پاکستان۔

علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ قرآن کریم جو منشورِ حیاتِ انسانی، مکمل اور جامع ضابطہ حیاتِ بشر ھے، کمالِ انسانی اور تزکیہ نفس کا سب سے بڑا ذریعہ ھے اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے انسان اور کائنات کی تخلیق کی ان اھداف اور مقاصد کو سمجھنے اور ان تک پہنچنے کے لئے قرآن کریم میں غور و فکر اور تدبر کی اشد ضرورت ھے اللہ تعالیٰ کی یہ عظیم الشان کتاب خود برملا اس کی دعوت دیتی ھے مگر افسوس یہ ھے کہ ھم نے اس کو صرف تلاوت اور reading تک محدود رکھا ھوا ھے گرچہ اس کی تلاوت یقینا باعث ثواب ھے اس کے مفاھیم اور انسان ساز تعلیمات تک پہنچنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی بلکہ مرحومین کوبخشوانے،سر پر اٹھا کر اپنی حیثیت منوانے،کمائی اور کاسبی کا ذریعہ بنانے وغیرہ تک رکھا ھوا ھے اس کتابِ عظیم کی مظلومیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں جسکےترجمہ ومفاھیم اور تعلیمات کو سمجھے بغیر ہم کہ سکیں کہ ہم نے اس کتاب کو پڑھ لیا ھے مگر اللہ تعالی کا یہ مقدس قرآن اتنا مظلوم ھے کہ جس کی ہم صرف تلاوت (reading)کر لیتے ھیں اور پھر دعوی کرتے ھیں کہ ہم نے قرآن کریم پڑھا ھوا ھے، اور عملی زندگی میں بھی ہم ہر ماہرِ فن کی خدمات حاصل کرتے ھیں اور ھر فن کی کتاب کو (follow)کرتے ھیں مگر وہ کتاب جس کو اللہ تعالی نے لاریب کہا ھے اور تبیان لکل شیئ فرمایا ھے افسوس کہ ھمارے معاشرے میں اس کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی گئی جو اس نعمت الہی کی ناقدری ھے۔

مرکزی سیکریٹری جنرل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھی ماہ مبارک میں اللہ تعالی کا عطیہ ھے اس لئے شب قدر میں ہمیں عطا کیا گیا ہے پاکستان بنا تھا قربانیوں کے ساتھ،اور بنا تھا عظیم مقاصد کے لئے ، ریاست مدینہ بنانے کے لئے، ایک آزاد،خود مختار،ترقی یافتہ ملک کے طور پر آگے بڑھنے کے لئے،اسلامی عادلانہ نظام کو قائم کرنے کےلئے۔مگر کسے پتہ تھا کہ ہم سترسال بعد بھی انگریز کے غلام ہی رہینگے سودی نظام ھم پر مسلط رھے گا، لوٹ کھسوٹ اور رشوت و کرپشن ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دے گی،ہماری آنے والی نسلیں بھی اغیار کی مقروض ہو جائیں گی،کسی غریب کے لئے انصاف کا حصول ایک خواب بن جائے گا،بے روزگاری اور مہنگائی سے عوام چیخ اٹھے گی،ہر پارٹی عوام کو دھوکا دیتے ھوئے بلند و بانگ دعوؤں کے ذریعے اور تبدیلی کے نعرے لگا کر حکومت کے حصول کے بعد اپنی عیاشیوں،بیرون ملک جائدادیں بنانے اور بینک بیلنس کےلئے، بےنامی اکاؤنٹس کے ذریعے ،منی لانڈرنگ کے ذریعے ،چور بازاری ، لوٹ مار کے ذریعے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں گے۔ افسوس کہ اللہ تعالی کی اس مبارک مہینے میں عطا کردہ اس نعمت کا بھی یہ حشر ھوا۔

آخر میں انہوں نے دعا کرتے ہوئے فرمایا۔ اے اللہ کریم تجھے واسطہ اپنے حبیب کا ہمیں ان نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما۔قرآن کریم کی مقدس تعلیمات کے ذریعے اپنے اندر،ملک و ملت کے اندر،اپنے سماج کے اندر،عالمی سطح پر اور خاص کر اپنے اذہان میں ایک تغیر و تبدل اور ایک واقعی انقلاب لانے میں کامیاب ہو سکیں یہ ان دو نعمتوں کی قدردانی بھی ھے اور ہماری اصل کامیابی بھی ھے پھر جشن نزول قرآن اور جشن آزادی پاکستان کو حقیقی اور واقعی معانی بھی نصیب ھوں گے۔ انشااللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here