خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ، عوامی امنگوں کے مطابق قابل عمل حل تلاش کیا جائے،قائدملت جعفریہ ساجدنقوی

خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ، عوامی امنگوں کے مطابق قابل عمل حل تلاش کیا جائے،قائدملت جعفریہ ساجدنقوی

بھارت ہٹ دھرمی چھوڑکر مظلوم کشمیریوں کواستصواب رائے کا حق دے، انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیر و فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کےلئے اپنا مثبت کر دار ادا کریں،کشمیری بھائیوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے، یوم سیاہ کے موقع پر پیغام

راولپنڈی /اسلام آباد26 اکتوبر 2021 ئ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کیا جائے، کشمیرکی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے، مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، بھارت ہٹ دھرمی چھوڑے اور مظلوم عوام کواستصواب رائے کا حق دے، جنوبی ایشیاکا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے ،پاکستان موثر سفارتکاری کے ذریعے سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک میں عوام پر بے پناہ مظالم کو بے نقاب کرچکا اب ضرورت اس امرکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے ، اقوام متحدہ اور او آئی سی کو بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور بھارتی ظالمانہ اقدامات کو روکنے میں کر دار ادا کریںاور انسانی حقوق کی تنظیمیں مظلوموں کی آواز بنیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی تسلط اور ناجائز قبضہ کو 7دہائیوں سے زائد عرصہ قبل جب27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی قابض فوجیں سرزمین کشمیر پر اتار کر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی، اس حوالے یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سینکڑوں کشمیری شہید کئے جاچکے، پیلٹ گنزکے استعمال سے جوانوں کے ساتھ بزرگ شہریوں ، خواتین اور بچوں تک کو نشانہ بنایاگیا اور بینائی سے محروم کردیاگیا ، سید علی گیلانی جیسی بزرگ شخصیت بھی دوران اسیری ہی خالق حقیقی سے جاملی لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جبکہ دوسال قبل سفا کیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے غاصب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تک ختم کردی اور اب مودی سرکار اوچھے ہتھکنڈوں سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے اور کشمیر کے باسیوں کو ہر لحاظ سے ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی سازش کررہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے آگے بڑھا جائے اور طبقات کو اعتماد میں لیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں قابل عمل حل مرتب کیا جائے اور اس کے مطابق عملی اقدامات کئے جائیں ۔

ز