دینی تعلیم کو سرکاری حیثیت اور درسگاہوں کو خود مختاری کےساتھ مراعات دی جائیں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید  ساجد علی نقوی

اتحاد تنظیمات المدارس کو یونیورسٹی کا درجہ، الشہادة العالیہ و شہادة العالمیہ کے امتحانات ، اسناد اور دیگر امور کو یونیورسٹی سے ملحق کیا جائے،تمام وفاق المدارس کے علیحدہ امتحانی بورڈ قائم کئے جائیں، قائد ملت جعفریہ پاکستان اسلام آباد 08 دسمبر 2017 ء(  دفتر قائد  )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ دینی درس گاہوں کو خود مختاری کےساتھ دیگر تعلیمی مراکز کی طرح مراعات دی جائیں، دینی تعلیم کو سرکاری حیثیت دی جائے، دینی مدارس کو طب کے مختلف شعبہ جات کی طرز پر تسلیم کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس کو یونیورسٹی کی حیثیت دینے کے ساتھ الشہادة العالیہ اور شہاد ة العالمیہ کے امتحانات، اسناد اور دیگر امور کو یونیورسٹی سے ملحق کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے ملک کے مختلف علاقوں سے آئے علمائے کرام اور اساتذہ کرام کے وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا ۔قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ دینی مدارس نے ملک میں دینی شعور اجاگر کرنے ،اسلامی تہذیب کو متعارف کروانے اور فروغ دینے اور تعلیمی کمی کو پورا کرکے شرح خواندگی میں اضافہ کیا ہے اور آبادی کے ایک بڑے حصے کو تعلیم و شعور کے زیور سے آراستہ کرکے ملک کی خدمت میں اپنا کردار ادا کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ جدید تقاضو ں کے پیش نظر مدارس میں نظام تعلیم کو البتہ اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ دینی درس گاہوں کو خود مختاری کے ساتھ دیگر تعلیمی مراکز کی طرح مراعات دی جائیں، دینی تعلیم کو سرکاری حیثیت دی جائے۔ انہوںنے کہاکہ جس ط رح طب کے مختلف شعبہ جات کو تسلیم کیاگیا اسی طرز پر اسے بھی باقاعدہ نظام تعلیم تسلیم کیا جائے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ دینی درس گاہوں کی خود مختاری کو چھیڑے بغیر اصلاحات کی جائیں تو یہ خوش آئند ہوں گی۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہاکہ اتحاد تنظیمات المدارس کو یونیورسٹی کی حیثیت دی جائے ، الشہادة العالیہ اور شہادة العالمیہ کے امتحانات، اسناد اور دیگر امور کو یونیورسٹی سرانجام دے۔ یونیورسٹی کے تحت ہر وفاق کا امتحانی بورڈ الگ قائم کیا جائے جو ثانویہ عامہ اور ثانویہ خاصہ کے امور کو سرانجام دے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here