حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت یکم ذیقعد 173 ھجری قمری اور رحلت 10 ربیع الثانی کو قم میں ہوئی۔

 آپ امام موسی کاظم علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے ممتاز صاحبزادی تھیں۔ آپ کی آفاقی شخصیت، بے پناہ فضائل و کمالات کا مظھر تھی-

ممتازعالم دین شیخ عباس قمی اس بارے میں لکھتے ہیں: “امام موسی کاظم علیہ السلام کی صاحبزادیوں میں سب سے بافضیلت سیدہ جلیلہ معظمہ فاطمہ بنت امام موسی کاظم علیہ السلام تھیں جو معصومہ کے نام سے مشہور تھیں”۔ آپ کا نام فاطمہ اور سب سے مشہور لقب معصومہ تھا۔ یہ لقب انہیں امام ھشتم علی رضا علیہ السلام نے عطا فرمایا تھا۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا بچپن سے ہی اپنے بڑے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے بہت مانوس تھیں حضرت امام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے مقصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ شہرپہنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت (ع) کے مخالف تھے لہٰذا انھوں نےحکومتی اہلکاروں سے مل کر حضرت فاطمہ معصومہ (س)  اور ان کے قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجہ میں حضرت کے ہمراہیوں میں سے بہت سے افراد شہید ہوگئے حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور فرمایا مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے : قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔

حضرت معصومہ قم پہنچیں تو شیعوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ حضرت معصومہ (س) قم میں خدا سے راز ونیاز اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں ۔ آخر کار دس ربیع الثانی کوغریب الوطنی میں بہت زیادہ غم اندوہ دیکھنے کے بعد وفات پاگئیں اور اپنے غریب الوطن بھائی کا دیدار نہ کرسکیں ۔

قم کی سرزمین آپ کے غم میں ماتم کدہ بن گئی ۔ قم کے لوگوں نے کافی عزت واحترام کے ساتھ آپ کی تشییع جنازہ کی اور آپ کو سپرد خاک کیا ۔آپ کا روزہ آج  علم و معرفت کا گہوارہ اورتمام مسلمانوں کی زیارتگاہ بنا ہوا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here