ریاست مدینہ بنانے کے دعوﺅں کی بجائے مسلمہ تقاضے پورے کئے جائیں،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 
ریاست مدینہ بنانے کے دعوﺅں کی بجائے مسلمہ تقاضے پورے کئے جائیں،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 

ریاست مدینہ بنانے کے دعوﺅں کی بجائے مسلمہ تقاضے پورے کئے جائیں،  قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی 
 چیف جسٹس کا بیان قابل تعریف، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی ملکی ترقی کےلئے ضروری،شہری و عوام حقوق کا تحفظ، چیف ایگزیکٹو

کے اختیارات کا درست استعمال اور فرد کو جائز مقام دیئے بغیر ملک فلاحی ریاست نہیں بن سکتا، قائد ملت جعفریہ پاکستان 
 راولپنڈی / اسلام آباد12ستمبر2018 ء(جعفریہ  پریس ) پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ پاکستان واقعتاً ریاست مدینہ کے خواب کی تعبیر کےلئے معرض وجود میں آیا، بابائے قوم نے فرمایا تھا کہ پاکستان کو اسلامی قوانین کی تجربہ گاہ بنایا جائےگا، افسوس ملک کو اسلامی فلاحی جمہوری ریاست بنانے کی بجائے سیکورٹی سٹیٹ میں تبدیل کردیاگیا، ریاست مدینہ کے دعوﺅ ں کی بجائے مسلمہ تقاضے پورے کئے جائیں، اختیارات کے درست استعمال، آئین و قانون کی بالادستی، شہری و عوامی حقوق کا تحفظ، چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کا درست استعمال ، فرد کی عزت، حیثیت اور جائز مقام سمیت ناجائز پابندیوں کے خاتمے سے ہی ریاست مدینہ کا تصور ابھر کر سامنے آئےگا، چیف جسٹس آف پاکستان کے خیالات کو سراہتے ہیں ۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بابائے قوم کے 70 یوم وفات پر اپنے پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہاکہ بابائے قوم کے فرمودات ہیں کہ پاکستان کو اسلامی قوانین کی تجربہ گاہ بنایا جائے گا یعنی ریاست مدینہ کو رول ماڈل بناتے ہوئے اسلامی فلاحی و جمہوری ریاست بنائینگے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو نہ صرف آزادی ہوگی بلکہ انسانی مساوات کی عظیم مثال قائم کرینگے افسوس آج کے روز ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ملک کو اسلامی فلاحی جمہوری ریاست بنانے کی بجائے سیکورٹی سٹیٹ میں تبدیل کردیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ آج کل ریاست مدینہ کاتذکرہ اور دعوی بارہا کیا جارہاہے لیکن ریاست مدینہ کے تقاضوں کوپورا کرنا ضروری ہے، ریاست مدینہ بنیادی انسانی حقوق پر قائم ہوئی جہاں قانون کی حکمرانی، عوام کے بنیادی شہری حقوق کا تحفظ، معاشرے کے نچلے طبقات کے ساتھ مساوات اور دشمنوں تک سے حسن سلوک کی مثالیں واضح ہیں۔ پاکستان کو صحیح معنوں میں ریاست مدینہ بنانے کےلئے گڈگورننس ، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی قائم کرنا ہوگی، اختیارات کا درست استعمال حق چیف ایگزیکٹو کے پاس ہونا چاہیے جو مشاورت سے یہ حق استعمال کرے اور عوام کو ریاست کے فیصلوں پر جوابدہ بھی ہو، شہری آزادیوں کا تحفظ، فرد کی عزت، حیثیت و جائز مقام دیا جائے، لوگوں کو بنیادی شہری حقوق کی آزادی،آزادی اظہار، بلاوجہ قدغنوں اور شورٹی بانڈ جیسے حیلوں کا خاتمہ ، آئے روز لاپتہ افراد کا سلسلہ بندہونا چاہیے،پارلیمان پاکستان کو صحیح معنوں میں متحر ک اور اتنا بااختیار کہ ایگزیکٹو کواس کے سامنے جوابدہ بنایا جائے اگر یہ تقاضے پورے کئے گئے تو کہا جاسکتاہے کہ ریاست

مدینہ کی جانب ملک کو گامزن کردیاگیاہے بصورت دیگر ماضی کے دعوﺅں کی طرح یہ بھی دعوے ہی رہیںگے۔
    انکا مزید کہناتھاکہ چیف جسٹس آف پاکستان فل کورٹ سے خطاب کے دوران کہاکہ پا کستان بابائے قوم کے و ژن سے ہٹ گیا ، واقعتاً پاکستان آج اس سمت میں گامزن ہی نہیں جس کا تعین بابائے قوم نے کیا تھا ، اگر آج اسی وژن پر ملک برقرار ہوتا تو چیف جسٹس آف پاکستان کو انصاف کی فراہمی ، نظام کی خرابیوں ، بیڈ گورننس، آزادی اظہار پر قدغنوں کا گلہ نہ کرنا پڑتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here