• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

دنیا میں پائیدار امن اقوام متحدہ کی جرات مندی سے جڑا ہے مگر عالمی ادارہ بے بس ہے

سقوط ڈھاکہ ،سانحہ اے پی ایس ملکی تاریخ کے سنگین ترین واقعات ہیں ،قائد ملت علامہ ساجد نقوی

سقوط ڈھاکہ ،سانحہ اے پی ایس ملکی تاریخ کے سنگین ترین واقعات ہیں ،علامہ ساجد نقوی
بحیثیت قوم ہمیں غور کرنا ہوگا ہم نے غلطیوں سے کیا سبق سیکھا ؟دشمن پاکستان کے امن کو مختلف حیلوں سے تباہ کرنے کی سازش کررہاہے، جسے قومی یکجہتی کے ذریعے ناکام بنانا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان
راولپنڈی / اسلام آباد 15دسمبر 2021ء(جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں 16دسمبر کا ہی سیاہ دن تھا جس میں ملکی تاریخ کے سنگین واقعات سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس رونما ہو ئے جن کو کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے ،سقوط ڈھاکہ کو 5دہائیاں بیت گئیں، جب پاکستان دو لخت ہوا، چھ سال قبل اسی روز پشاور میں دہشتگردوں نے ایسا گھناﺅنا کھیل کھیلا کہ اے پی ایس میں سکول میں مشغول تعلیم بچوں سمیت 140سے زائد افرادکو بے دردی سے شہید کر دیا، زندہ قومیں تاریخ اور تلخ حقائق سے سبق سیکھتی ہیں بحیثیت قوم ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہم نے ان غلطیوں سے کیا سبق سیکھا ؟ہمیں دشمن کو پہچاننا ہوگا اور ان سازشوں کوقومی یکجہتی کے ذریعے ناکام بنانا ہوگا۔16دسمبر کے حوالے سے اپنے پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ سانحہ اے پی ایس پاکستان کی تاریخ کے ان المناک سانحات میں سے ایک اندوہناک واقعہ ہے جب تعلیم میں مشغول بچوں سمیت 140ہم وطنوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا ایک جانب وہ غم سے نڈھال تھے تو دوسری جانب افسوس ان مظلوم ورثاءاور والدین کو فوری انصاف کی فراہمی کےلئے بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑیں ،یہ ہمارے نظام پر بڑا سوال ہے اسکے ساتھ ساتھ سانحہ اے پی ایس کے بعد بھی ایسے سانحات کا سلسلہ تھما نہیں ،کچھ روز قبل ایک سری لنکن کے ساتھ ہونیوالا ناروا سلو ک بھی اسی انتہاءپسندی و دہشت گردی کا شاخسانہ ہے۔ اس طرح کے واقعات کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیاگیا مگر افسوس اس کی رو ح کے مطابق عمل درآمد نہ کیاگیا جبکہ قوم کو جس تربیت کی ضرورت تھی ، ذہن سازی کی ضرورت تھی اس جانب بھی کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایاگیا ، ہم بارہا متوجہ کرچکے ہیں کہ ریاست و حکومت اس سلسلے میں ذمہ داریوں کو نبھائے جبکہ علمائ، میڈیاسمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی معاشرے سے انتہاءپسندی اور شدت پسندی کے خلاف اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوسکیں کیونکہ ایسے سانحات جہاں انتہائی قابل مذمت، ظلم، سنگین وہیں یہ قوموں کو جھنجھوڑتے ہیں اور ان سے سبق حاصل کیا جاتاہے۔سقوط ڈھاکہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہناتھا کہ عظیم قومیں تلخ تجربات اور تلخ حقائق سے سبق سیکھتی ہیں ۔بحیثیت قوم ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہم نے ان غلطیوں سے کیا سبق سیکھا؟ملک میں سیاسی ہم آہنگی ، جمہوریت کی تقویت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی صرف بیانات کی بجائے عملی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے، اختلاف رائے کو دبانے کی بجائے باہمی احترام سے مسائل کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ انا کی بجائے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ سازی بھی ضروری ہے ، دشمن ملک میں نفرت ، فرقہ بندی ، انتہاءپسندی پھیلانے کے ساتھ ساتھ مختلف حیلوں سے امن کو تباہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے یہ سازشیں اتحاد اور ایک قوم بن کر ہی ختم کی جاسکتی ہیں۔