• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

سیالکوٹ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کی جائے علامہ اسد اقبال

سیالکوٹ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف جلد از جلد قانونی کاروائی کی جائے علامہ اسد اقبال

سیالکوٹ واقعے کو ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے جلد از جلد قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے زمہ داران کو سزائیں دینی چاہیئں! علامہ اسد اقبال زیدی

اس طرح کے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ (صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ)

اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلیے فوری طور پر ضروری اقدامات کیے جانے چاہیئں۔

کراچی 04 دسمبر 2021 شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر حجۃ الاسلام علامہ سید اسد اقبال زیدی نے سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ: اس طرح کے واقعات کسی المیے سے کم نہیں، ملک میں بڑھتی شدت پسندی یقیناً قابل تشویش ہے، معاشرے میں صبر و تحمل اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سیالکوٹ جیسے واقعات سے ملکی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے جسکے اثرات تجارت سمیت سیاحت پر بھی پڑتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کے صدر نے سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے افسوسناک قتل پر اظہار مزمت کرتے ہوئے کیا۔
علامہ اسد اقبال زیدی نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو چاہیئے کہ ماضی کی طرح کیس کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے بجائے ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تحقیقات کرائیں اور قانون شکنی کرنے والوں کو قرار واقعی سزء دیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے واقعات کے بعد میڈیا پر شور شرابہ ہوتا ہے، بڑے بڑے بیانات دیئے جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد سکوت برپاء ہوجاتا ہے، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے بیانات اور میڈیا بریفنگ سے آگے بڑھتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔
سیالکوٹ جیسے واقعات اور ملک میں بڑھتی شدت پسندی کی روک تھام کیلیے ریاست بلخصوص اور اسکے ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہنگامی بنیادوں پر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔