شناخت کرکے مارنے کا عمل ریاست پر حملہ ہے کراچی ضلع ملیر کراچی میں مسجد میں شرپسندی کی مذمت
شناخت کرکے مارنے کا عمل ریاست پر حملہ ہے کراچی ضلع ملیر کراچی میں مسجد میں شرپسندی کی مذمت

شناخت کرکے مارنے کا عمل ریاست پر حملہ ہے کراچی ضلع ملیر کراچی میں مسجد میں شرپسندی کی مذمت کرتے ہیں

شناخت کرکے مارنے کا عمل ریاست پر حملہ ہے ،  قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
2012ءمیں تین سانحات کوہستان ، چلاس اور لولوسر میں شناخت کرکے 57افراد کو شہید کرنے والوں کےخلاف اقدامات کئے جاتے تو آج یہ صورتحال پیش نہ آتی، قائد ملت جعفریہ

 گزشتہ رات مسجد و امام بارگاہ سلمان فارسی ملیر کراچی میں شرپسندوں نے داخل ہو کر قرآن مجیدکی بے حرمتی ، مسجد کو نقصان پہنچانے اور علم پاک کو شہید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔

راولپنڈی /اسلام آباد19 اپریل 2019 ء     
جعفریہ پریس :     قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد فائرنگ کرکے 14افراد کو قتل کئے جانے پر مذمت اور اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ اس ملک میں شناخت کرکے قتل کرنا پہلی مرتبہ نہیں ہو ا ،اس سے قبل بھی 2012ءمیں سانحہ کوہستان میں 28فروری 2012ءکو شناخت کے بعد 18افراد کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا، 3اپریل 2012ءکو سانحہ چلاس میں شناخت کے بعد 14افراد کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا اور 16اگست2012ءکو سانحہ لو لو سر میں شناخت کے بعد 25افراد کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیاتھا ۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ شناخت کرکے مارنے کا عمل ریاست پر حملہ ہے یہ عمل مسلسل دوہرایاجاتا رہا یہ عمل انتہائی سفاکیت پر مبنی اور وحشت ناک عمل ہے اگر اُس وقت اقدامات کئے جاتے اور انہیں روکا جا تااور57 بے گناہ مسافروں کے قاتلوں کاسراغ لگاکر انہیں گرفتار کرکے تختہ دار پر لٹکایاجاتا تو آج یہ صورتحال پیش نہ آتی ۔ علامہ ساجد نقوی کا کہناتھا کہ و ہ سانحہ کوسٹل ہائی وے کے متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انکے ساتھ مکمل اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان ایک عرصہ سے دہشتگردی کا شکار ہے، دہشتگردی کے خاتمے کےلئے مزید ٹھوس اور موثر کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔علاوہ ازیں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گذشتہ رات شرپسندوں کے مسجد و امام بارگاہ سلمان فارسی سٹیل ٹاون ضلع ملیر کراچی میں رات گئے گھس کر قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے ، ممبر کو نقصان پہنچانے، علم پاک شہیدکرنے اور توڑ پھوڑکرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی قبیح گھناونی حرکت ہے چونکہ ایسے مجرموں کور وکنے کیلئے ابھی تک ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے اس لئے سرکشی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جس کے بہت سے نمونے موجود ہیں جن میں سے ایک یہ واقعہ ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجرموں کے خلا ف فی الفور ٹھوس کارروائی عمل میں لاتے ہوئے انہیں قانون کے شکنجہ میں جکڑ کر جلد کیفرو کردار تک پہنچایا جائے اور مستقبل کیلئے موثرلائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here