شہید ضیاء الدین رضوی ؒ کے فرزند سید حسین رضوی سے خصوصی گفتگو
شہید ضیاء الدین رضوی ؒ کے فرزند سید حسین رضوی سے خصوصی گفتگو
شہید ضیاء الدین رضوی ؒ کے فرزند سید حسین رضوی سے خصوصی گفتگو
بسم اللہ الرحمن الرحیم
*انٹرویو سید حسین رضوی*
[فرزند شہید علامہ ضیاء الدین رضویؒ]
سلام علیکم ورحمۃاللہ بسم اللہ الرحمن الرحیم
*انٹرویو سید حسین رضوی*
[فرزند شہید علامہ ضیاء الدین رضویؒ]
سلام علیکم ورحمۃاللہ
دفترقائد ملت جعفریہ قم المقدسہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے اپنے قیمتی لمحات اور قیمتی اوقات سے ہمیں وقت عنایت فرمایا۔ دفتر قائد ملت جعفریہ (قم المقدسہ) شہید راہ ولایت علامہ سید ضیاءالدین رضوی رضوان اللہ تعالی علیہ کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے۔ ہم اسی حوالے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، کیونکہ آپ ان کے فرزند ہیں ان کی شخصیت  اور زندگی کے مختلف پہلووں کے حوالے سے آپ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے ہمارا *پہلا سوال ہے: شہید راہ ولایت کی شہادت کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی اور اس وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟*
*سید حسین رضوی* : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے میں آپ تمام برادران اور دفتر قائد ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے زحمت کی اور یہاں تشریف لائے۔ شہید کی شہادت کے وقت میری عمر سترہ سال تھی۔ اس وقت پوری ملت تشیع پریشان تھی اور تمام افراد مضطرب تھے ،یہی کیفیت ہماری بھی تھی ۔ ذاتی طور پہ کوئی ایسی پریشانی نہیں تھی  لیکن اجتماعی حوالے سے تمام لوگ پریشان تھے کیونکہ یہ شہادت کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا شاید اس بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شہید کے ساتھ کبھی ایسا سانحہ بھی رونماہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے تمام لوگ پریشان تھے ،لہٰذا ہم بھی ملت کے دیگر افراد کی طرح پریشان تھے۔
*سوال : شہید کے فرزندان یعنی آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں اور شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت کے اسلوب اور اولاد کی تربیت کے اسلوب کے حوالے سے کچھ فرمائیے؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کے کل پانچ فرزند ہیں ، میرے علاوہ میرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، تربیتی لحاظ سے اکثر اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ ہمیں دینی معارف اور احکام سے آگاہ کریں۔ وہ خود ہمیں توضیح المسائل پڑھاتے تھے اور ایک دوسری عقائد کی کتاب تھی جو ہم بہن بھائیوں کو گھر میں پڑھایا کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ہم دینی معارف سے آگاہ ہوں اور اپنی شرعی تکالیف و عقائد کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
*سوال: شہید رضوان اللہ تعالی جب گلگت گئے تو عوامی مقبولیت کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ جوان، بوڑھے، بچے، خواتین اور ان میں ایک ولولہ اور انقلاب آیا۔ پوری ملتِ گلگت بلتستان حتی کہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کی نظریں شہید کی طرف تھیں، اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے کہ شہید کی مقبولیت اور ان کی عوامی پذیرائی و کامیابی کی اصل وجہ کیا تھی؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کے جو دوست احباب شہید کے ساتھ رہے ہیں ان سے میں نے سنا ہے اور اگر آپ خود بھی شہید کی زندگی کا تجزیہ کریں تو یہ نکتہ آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا۔  ان کی کامیابی اور مقبولیت کا جو اصل راز تھا وہ شاید ان کا تقوی تھا اور دوسری بات یہ کہ شہید اہل عمل میں سے تھے اور زمانہ شناس تھے،وہاں پہ جو بھی مختلف مسائل ہوتے تھے یا کوئی فوری اشو اٹھتا تو ان میں شہید خود صف اول میں ہوتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ عوام سے یا جوانوں سے کہیں کہ آپ احتجاج کریں یا آپ روڈ پہ نکلیں ، اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی ۔ مختصر یہ کہ مختلف قسم کےواقعات اور قومی ایشوز میں وہ ہمیشہ صف اول میں ہوتے تھے ۔ گلگت میں رسم ہے کہ ائمہ کی ولادت کے موقع پرپہاڑوں پہ چراغاں ہوتا ہے، ایک دفعہ حکومت نے پہاڑوں پہ چراغاں کی اجازت نہیں دی گرچہ سالوں سے وہاں پہ چراغاں ہوتا آرہا تھا  لیکن اس سال حکومت نے کوشش کی کہ چراغاں نہ ہوپائے تو اس وقت شہید ذاتی طور خُود پہاڑ پر چراغاں کرنے گئے اور وہاں سے چراغاں کرکے لوٹے۔ اسی طرح ہنزہ میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں اہلِ تشیع کو مسجد تعمیر نہیں کرنے دیا جارہاتھا، اس مسئلے پر ایک تحریک چلی چلو چلو ہنزہ چلو کے نام سے، اس تحریک میں بھی شہید سب سے آگے رہے اور خود ہنزہ چلے گئے۔ اسی طرح دیگر واقعات ہیں کہ جب بھی کوئی ایسا وقت آتا شہید خُودصف اول میں ہوتے تھے ۔تقوٰی اور میدانِ عمل میں سب سے آگےہونا یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ تھی یا لوگوں کی جو محبتیں تھیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ تھیں۔
*سوال : الحمدللہ شہید نے جو بابرکت زندگی گزاری وہ ان کی فعالیت پر بین دلیل ہے جو ایک طولانی موضوع ہے ہم فقط آپ سے درخواست گزار ہیں کہ ان کی زندگی کی فعالیت و اقدامات کے چند ایک  اہم پہلووں پہ روشنی ڈالیے؟*
*سید حسین رضوی* : جب شہید گلگت تشریف لے گئے اس وقت ۱۹۸۸؁ء کا سانحہ رونما ہوچکا تھا ۔ ۱۹۸۷؁ءچونکہ میری پیدائش ہے تو بزرگان اور علماء سے جو باتیں سنی ہیں وآپ کے سامنے رکھوں گا۔ اس وقت گلگت کے حالات انتہائی خراب تھے، مومنین کے درمیان اجتماعی طور پرمایوسی کاعالم تھا ، گرچہ علماء اپنی توانائی کے مطابق وہاں پہ کوشش کر رہے تھے لیکن ایسی کوئی شخصیت نہیں تھی کہ جو آگے بڑھتی اور سیاسی مذہبی حقوق کا دفاع کرتی۔دوسری طرف  تکفیری عوامل اور گروہوں کی جانب سے کفر کے فتوے بھی لگ رہے تھے ۔ شہید جب گلگت تشریف لے گئے تو سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا وہ جوانوں کو منظم  اور ملت میں اتحاد قائم کیا۔
 سب سے پہلے خود شہید نے ہی وہاں پہ نماز جمعہ قائم کی اس سے پہلے وہاں نماز جمعہ نہیں ہوتی تھی شہید نے پہلی دفعہ گلگت میں نماز جمعہ پڑھائی ۔ ااگر آپ دیکھیں تو ۱۹۸۸؁ء اور ۱۹۹۴؁ء کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ سانحہ ۸۸؁ء کے بعد ملت جو کہ مایوسی کے عالم میں تھی ، پھر اک مختصر عرصے کے بعد ۱۹۹۴؁ء میں ایسی پوزیشن میں آتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی حکومت بناتی ہے۔۱۹۹۴؁ء کے الیکشن میں تحریک جعفریہ نے اپنی حکومت بنائی۔ 
کفر و تکفیر کے جو نعرے لگتے تھے اس حوالے سے عرض کروں کہ شہید اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی اور حامی تھے اور انہوں  نے اس حوالے سے کافی کوششیں بھی کیں۔ مخالفین کو اس حوالے سے مسلسل اتحاد کی دعوت دی جاتی رہی اور وہ اتحاد بین المسلمین کیلے منعقد ہونے والے تمام پروگرامز میں شریک ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب گلگت میں ایک مولوی نے اہل تشیع کے ہاتھ سے ذبح ہونے والے جانور کا  کھانا حرام قرار دیا تو ایسے میں شہید نے اپنے گھر میں اہلسنت علماء کی دعوت کی اور وہ سب تشریف بھی لائے۔ کفر و تکفیر کے فتوٶں کیوجہ سے جو فضا قائم ہوئی تھی اورجس سے عوامی سطح پر دشمنی بڑھ رہی تھی ، شہید کا یہ اقدام اس سلسلے کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔  ۔اس کے علاوہ جو کفر کے فتوے لگ رہے تھے اس دوران شہید نے اتحاد بین المسلمین کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے یہ کوشش کی کہ وہ تکفیری مولویوں کو مناظرے کی دعوت دیں وہ بھی تفرقے کے انداز یا فضا میں نہیں بلکہ شہید کا یہ کہنا تھا کہ اگر ہمارا عقیدہ غلط و باطل ہے تو آپ ہمارے پاس  آئیں دلیل کے ساتھ ثابت کریں ، اگر آپ ہمارے پاس نہیں آسکتے تو مجھے کوئی جگہ بتا دیں اپنی مسجد میں یا کسی اور جگہ میں آپ کے پاس آوں گا، میں آپ کو بتاوں گاکہ ہمارے عقائد کیا ہیں۔ اس کے علاوہ شہید کا سب سے بڑا اقدام نصاب تعلیم کے حوالے سے تھاانہوں نے اپنی توانائی کے مطابق کوشش کی کہ نصاب تعلیم میں اصلاح کروائیں۔ کیونکہ اس نصاب تعلیم کی وجہ سے جوانوں کے عقائد پہ بہت زیادہ منفی  اثر پڑ رہا تھا اس لئے انہوں نے کوشش کی کہ سب کے لئے قابل قبول نصاب مرتب ہو اور ملت تشیع کے عقائد کے خلاف جو مواد  نصاب تعلیم میں شامل ہے وہ اس نصاب سے ہٹایا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے تحریک چلائی اور کوشش کی کہ یہ مسئلہ حل ہوسکے اور اس کے لئے بھرپور کوششیں کیں لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا  اور اس سے پہلے وہ شہید ہوگئے۔
*سوال : آپ نے شہید کی تحریک نصاب تعلیم کے حوالے سے فرمایا کہ وہاں پہ جو حالات اور معروضی حقائق تھے اس کے پیش نظر شہید نے تحریک نصاب تعلیم کو شروع کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی  نےتحریک نصاب تعلیم میں شہید کا ساتھ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے شہید نے تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ سے دوری و علحیدگی اختیار کی تھی ۔ اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے؟*
*سید حسین رضوی* : یہ باتیں محض پروپیگنڈے کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ یہ اک افواہ ہے جو کہ پھیلایا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نصاب تعلیم کا جو مسئلہ تھا وہ محض ایک مذہبی ایشو تھا لیکن شہید کے جو مخالفین تھے انہوں نے حتی اس مسئلے میں بھی کوشش کی کہ شہید کے لئے مشکلات کھڑی کریں اور جو بات آپ نے کہی کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں تحریک جعفریہ کا ساتھ نہیں تھا تو اس وقت جو افراد نصاب تعلیم کی تحریک میں شہید کے ساتھ تھے وہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے اور وہی ہر موقع پر شہید  کے ساتھ تھے مثلا مرحوم شہید غلام حیدر نجفی صاحب، شیخ مرزا علی نگری صاحب، دیدار علی صاحب وغیرہ یہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے جو نصاب تعلیم کی تحریک میں صف اول میں شامل تھے۔جب بھی مشکلات آتی تھیں کوئی بھی ایشو ہوتا تھا تو شہید انہی افراد کو مسائل کے حل کے لئے اور مذاکرات کے لئے بھجواتے تھے ۔ ایسی بات ہم نے خود شہید سے کبھی نہیں سنی یا شہید کے نزدیک جو افراد تھے ان میں سے کسی سے ہم نے یہ بات نہیں سنی کہ شہید کا قائد ملت جعفریہ کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔شہید کا انٹرویو جو شہادت سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے کراچی میں ریکارڈ کروایا اس میں وہ واضح اور دوٹوک انداز میں یہ کہہ رہے کہ قائد محترم نے نصاب تعلیم کے مسئلے میں میرا ساتھ دیا ہے۔
 آپ کے اٹھائےگئے سوال میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ محض اک پروپگینڈہ ہے۔ ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
*سوال : آپ نے فرمایا کہ شہید نے ۱۹۸۸؁ء سے ۱۹۹۴؁ء کے درمیان چھ سال سے بھی مختصر عرصے کی ان کی جدوجہد تھی کہ تحریک جعفریہ اور ملت تشیع کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حوالے سے شہید کا جو مبنی اور ذاتی نظریہ کیا تھاکہ مذہبی لوگوں کو میدان سیاست میں آنا چاہئےیا نہیں؟ اس حوالے سے شہید کا ذاتی نظریہ کیا تھا؟* 
*سید حسین رضوی*: شہید کی عملی زندگی کےجائزےاور مشاہدے سے ہیی معلوم ہوتا ہے کہ شھید مذہبی سیاست کے حامی تھے، اگر وہ مذہبی سیاست کے  قائل نہ ہوتے تو میدان سیاست میں وارد بھی نہ ہوتے، اس حوالے سے ان کا نظریہ یہ تھا خصوصًا گلگت بلتستان اور پاکستان کے حالات کےتناظر میں کہ وہ یہ چیز ناگزیر سمجھتے تھے کہ مذہبی افراد کو میدانِ سیاست میں وارد ہونا چاہئیے کیونکہ وہاں کی سیاست میں اگر آپ اپنے حقوق حاصل کرنا چاہیں تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ سیاست کے اندر وارد ہوں ۔ دوسری جو پارٹیاں ہیں ان میں گرچہ شیعہ افراد موجود ہیں لیکن وہ ملت تشیع کے اوپرہونے والے مظالم یا ملت تشیع کے جو حقوق ہیں ان کےدفاع  کے لئے وہ آواز نہیں اٹھاتے تھے۔ اس صورت حال میں شہید اپنے لئے لازمی اور ضروری سمجھتے تھے کہ میدان سیاست میں وارد ہوں ۔ 
*سوال : اگر دیکھا جائے تو اختصار کے ساتھ شہید کی زندگی میں اہم  اہداف جو تھے کیا ان کا حصول ممکن ہوا ہے؟ ان کی شہادت کے بعد ان کے مشن اور اہداف کو زندہ رکھنے میں ، ان کے حصول میں  کیا ہم کامیاب ہوگئے ؟ اگر نہیں ہوئے تو اس کے علل و اسباب کیا ہیں ؟*
*سید حسین رضوی* : شہید جب تک خود زندہ تھے ان کی کوشش یہی تھی کہ ملت تشیع کے اجتماعی حقوق ، عقیدتی حقوق اور سیاسی حقوق کا دفاع کیا جائے اور شہید اپنی زندگی میں اس حوالے سے کامیاب بھی تھے۔ یہ ضروری نہیں کہ جتنے مسائل ہیں سب کےسب حل ہوجائیں لیکن شہید میدان میں موجود تھے اور جب تک زندہ تھے کوشش کر رہے تھے اس بنیاد پر وہ کامیاب رہے ۔ مثلا نصاب کا مسئلہ یا دیگر جو مسائل تھے ان میں شہید کامیاب رہے کیونکہ شہید کے اس تحرک کا ہی نتیجہ تھاجس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ملت تشیع کی پوزیشن بہت مستحکم اور مضبوط تھی۔ خود شہید اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں کہ : حکومت کوئی بھی فیصلہ لینا چاہے تو اس سے پہلے یہ بات مدنظر رکھتی ہے کہ ملت تشیع کا اس فیصلے پر ردعمل کیا ہوگا۔
لیکن اب ان کی شہادت کے بعد آپ پوچھیں کہ ہم شہید کے رستے پر ہیں یا نہیں ؟ ان کے اہداف کو حاصل کرپائے ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آج ہم نہ صرف شہید کے راستے پر نہیں ہیں بلکہ شہید کے دکھائے گئے راستے سے منحرف ہوگئے ہیں یعنی شہید اگر دائیں طرف جارہے تھے تو ہم بالکل اس کے برعکس بائیں طرف جارہے ہیں اس وقت ایسے حالات ہیں۔ میں پاکستان کی بات نہیں کررہا میں گلگت بلتستان کی خصوصًا گلگت شہر کی بات کر رہا ہوں کہ ہم مکمل طور پر  شہید کے راستے کی مخالف سمت میں حرکت کر رہے ہیں اور شہید کے مشن و اہداف سے روز بروز دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم گلگت میں مختلف مشکلات کا شکار بھی ہیں۔ اس کی جو اصل وجہ ہے وہ یہی ہے کہ جو راستہ شہید نے ہمیں بتایا تھا ہم اس راستے سے منحرف ہوچکے ہیں۔
*سوال : کیونکہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور مسلمہ چیز ہے کہ شہید راہ ولایت رضوان اللہ تعالی قومی جماعت تحریک جعفریہ کے ساتھ منسلک تھے۔ ہم یہ پوچھنا چاہیں گے باقاعدہ طور پر تحریک جعفریہ میں انہوں نے کب شمولیت کی اور قومی جماعت و قائد ملت جعفریہ کے ساتھ ان کی کس حد تک وابستگی تھی ؟*
*سید حسین رضوی* : تحریک جعفریہ میں کب شمولیت اختیار کی یہ میرے علم میں نہیں ہے لیکن جہاں تک قیادت کے  ساتھ رابطے کا تعلق ہے تو شہید ان افراد میں سے تھے جو نمائندگی ولی فقیہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے رہبر معظم کے پاس تشریف لائے تھے اور   اس بارے میں سوال کیا تھا۔ اس وفد میں چند ہی افراد تھے جن میں سے ایک شہید بھی تھے۔ جب رہبر معظم کی جانب سے قائد ملت جعفریہ کی نمائندگی کی تائید ہوئی تو پھر اس کے بعد شہید ہمیشہ قائد محترم کے ساتھ ان کےحامی رہے ہیں۔ پچھلے سوال میں بھی یہ نکتہ عرض کیا تھا کہ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ نصاب کے حوالے سے بھی مختلف حوالوں سے ، سرکاری سطح پر بھی میٹنگز وغیرہ کا انعقاد ہوتا تھا تو شہید قائد محترم کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور قائد محترم کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی میٹنگز وغیرہ میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک نکتہ جو پچھلے سوال کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ  کہ میں نے خود شہید کا ایک لیٹر پڑھا تھا جس میں شہید نے ایک مدرسے کے منتظمین سےشکوہ کیا تھا ۔حکومت نے نصاب کی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے   کسی مدرسے کے بعض بزرگان کو بلایا تھا اور ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھاتاکہ گلگت میں جو تحریک چل رہی تھی اس کو نقصان پہنچایا جائے۔ شہید نے اس مدرسے کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ ہماری مدد نہیں کرسکتے توکم از کم ہمارے موقف کو نقصان نہ پہنچائیں، ہماری تحریک کو کمزور نہ کریں۔ اگر قیادت کے حوالے سے ایسا کوئی ایشو ہوتا تو حتمًا شہید اپنی کسی تحریر یا تقریرمیں  عرض کرتے۔ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ مربوط رہے ہیں ، پرویز مشرف کے دور میں جب قائد محترم کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت خود شہید قائد محترم کی رہائی کے لئے گلگت میں مختلف احتجاجی جلسوں کا انعقاد کرتے تھےاور ان میں خود صف اول میں شریک ہوتے تھے۔ بعض علماء کی طرف سے دھرنا دیا گیا یا مختلف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ان سب میں خود شہید شریک ہوتے تھے۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ شہید کا قیادت کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔
*سوال : جس طرح آپ نے ملت تشیع کے حوالے سےمختلف مشکلات کی طرف اشارہ فرمایا ۔ شہید کی ذات یقینا ہمارے لئے اسوہ ہے اور ہمارے لئے ایک آئیڈیل ہے۔ اس حوالے سے آپ کی نظر میں شہید کے کن افکارو نظریات کو احیاء کرنے کی ضرورت ہےجن پر عمل پیرا ہوکر ملت تشیع اپنی مشکلات کو دور کرسکے؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کی زندگی کےدو پہلو خصوصی طور پر اہمیت کےحامل تھے۔ اول یہ کہ وہ زمان شناس تھے اور دٶم وظیفہ شناس تھے۔ اُسے زمانےکی پہچان تھی،  وہ زمانے کو پہچانتے تھے اور اپنے وظیفے کو تشخیص دے کر اس پر سختی سےعمل کرتے تھے۔ جو تمام باتیں میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیں ان سب کے پیچھے غالبا یہی دو نکتے تھے، ایک تو وہ اپنے زمانے سے آگاہ تھے  اور دوسری بات یہ کہ اپنے وظیفے کو جو انہوں نے مشخص کیا ہوتا تھاکوشش کرتے تھے کہ اس وظیفے کو انجام دیاجائے۔ میری نظر میں ہمارے لئیے بھی یہی چیز زیادہ مہم ہے کہ زمان شناسی اور وظیفہ شناسی اس کے بعد اپنے وظیفے پر عمل کرنا۔ میرے نزدیک شہید کی زندگی کے یہ دو اہم پہلو یا اصول تھے جن پہ وہ عمل پیرا تھے۔
*سوال : دفتر قائد ملت جعفریہ قم المقدسہ کے اندر شہید کے افکار کو زندہ کرنے کے لئے  ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کررہا ہے ۔ اس حوالے سے آپ اپنا کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟*
*سید حسین رضوی* : سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتا ہوں دفتر نمائندہ ولی فقیہ قم المقدسہ میں موجود تمام برادران کا جنہوں نے زحمت کی اور یہ کانفرنس منعقد کروائی ہے۔ ایک اہم نکتہ جو میں اکثر دیگر دوستان کو بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ شہید کے افکار کو منعکس کرنے کی ضرورت ہے ۔  شہید کا نام  زندہ ہے لیکن شہید کے اصل افکار مخفی ہیں ، پس پردہ چلے گئے ہیں ۔کوشش یہ کی جائے کہ ان کے جو افکار تھے جو نظریات تھے ان کو اجاگر کیا جائے ۔شاید یہ ایک بہت بڑی خدمت ہوگی ملت تشیع کے لئے۔
دفترقائد ملت جعفریہ قم المقدسہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے اپنے قیمتی لمحات اور قیمتی اوقات سے ہمیں وقت عنایت فرمایا۔ دفتر قائد ملت جعفریہ (قم المقدسہ) شہید راہ ولایت علامہ سید ضیاءالدین رضوی رضوان اللہ تعالی علیہ کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے۔ ہم اسی حوالے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، کیونکہ آپ ان کے فرزند ہیں ان کی شخصیت  اور زندگی کے مختلف پہلووں کے حوالے سے آپ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے ہمارا *پہلا سوال ہے: شہید راہ ولایت کی شہادت کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی اور اس وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟*
*سید حسین رضوی* : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے میں آپ تمام برادران اور دفتر قائد ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے زحمت کی اور یہاں تشریف لائے۔ شہید کی شہادت کے وقت میری عمر سترہ سال تھی۔ اس وقت پوری ملت تشیع پریشان تھی اور تمام افراد مضطرب تھے ،یہی کیفیت ہماری بھی تھی ۔ ذاتی طور پہ کوئی ایسی پریشانی نہیں تھی  لیکن اجتماعی حوالے سے تمام لوگ پریشان تھے کیونکہ یہ شہادت کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا شاید اس بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شہید کے ساتھ کبھی ایسا سانحہ بھی رونماہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے تمام لوگ پریشان تھے ،لہٰذا ہم بھی ملت کے دیگر افراد کی طرح پریشان تھے۔
*سوال : شہید کے فرزندان یعنی آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں اور شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت کے اسلوب اور اولاد کی تربیت کے اسلوب کے حوالے سے کچھ فرمائیے؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کے کل پانچ فرزند ہیں ، میرے علاوہ میرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ، تربیتی لحاظ سے اکثر اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ ہمیں دینی معارف اور احکام سے آگاہ کریں۔ وہ خود ہمیں توضیح المسائل پڑھاتے تھے اور ایک دوسری عقائد کی کتاب تھی جو ہم بہن بھائیوں کو گھر میں پڑھایا کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ہم دینی معارف سے آگاہ ہوں اور اپنی شرعی تکالیف و عقائد کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
*سوال: شہید رضوان اللہ تعالی جب گلگت گئے تو عوامی مقبولیت کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ جوان، بوڑھے، بچے، خواتین اور ان میں ایک ولولہ اور انقلاب آیا۔ پوری ملتِ گلگت بلتستان حتی کہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کی نظریں شہید کی طرف تھیں، اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے کہ شہید کی مقبولیت اور ان کی عوامی پذیرائی و کامیابی کی اصل وجہ کیا تھی؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کے جو دوست احباب شہید کے ساتھ رہے ہیں ان سے میں نے سنا ہے اور اگر آپ خود بھی شہید کی زندگی کا تجزیہ کریں تو یہ نکتہ آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا۔  ان کی کامیابی اور مقبولیت کا جو اصل راز تھا وہ شاید ان کا تقوی تھا اور دوسری بات یہ کہ شہید اہل عمل میں سے تھے اور زمانہ شناس تھے،وہاں پہ جو بھی مختلف مسائل ہوتے تھے یا کوئی فوری اشو اٹھتا تو ان میں شہید خود صف اول میں ہوتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ عوام سے یا جوانوں سے کہیں کہ آپ احتجاج کریں یا آپ روڈ پہ نکلیں ، اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی ۔ مختصر یہ کہ مختلف قسم کےواقعات اور قومی ایشوز میں وہ ہمیشہ صف اول میں ہوتے تھے ۔ گلگت میں رسم ہے کہ ائمہ کی ولادت کے موقع پرپہاڑوں پہ چراغاں ہوتا ہے، ایک دفعہ حکومت نے پہاڑوں پہ چراغاں کی اجازت نہیں دی گرچہ سالوں سے وہاں پہ چراغاں ہوتا آرہا تھا  لیکن اس سال حکومت نے کوشش کی کہ چراغاں نہ ہوپائے تو اس وقت شہید ذاتی طور خُود پہاڑ پر چراغاں کرنے گئے اور وہاں سے چراغاں کرکے لوٹے۔ اسی طرح ہنزہ میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں اہلِ تشیع کو مسجد تعمیر نہیں کرنے دیا جارہاتھا، اس مسئلے پر ایک تحریک چلی چلو چلو ہنزہ چلو کے نام سے، اس تحریک میں بھی شہید سب سے آگے رہے اور خود ہنزہ چلے گئے۔ اسی طرح دیگر واقعات ہیں کہ جب بھی کوئی ایسا وقت آتا شہید خُودصف اول میں ہوتے تھے ۔تقوٰی اور میدانِ عمل میں سب سے آگےہونا یہ وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے لوگوں میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ تھی یا لوگوں کی جو محبتیں تھیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ تھیں۔
*سوال : الحمدللہ شہید نے جو بابرکت زندگی گزاری وہ ان کی فعالیت پر بین دلیل ہے جو ایک طولانی موضوع ہے ہم فقط آپ سے درخواست گزار ہیں کہ ان کی زندگی کی فعالیت و اقدامات کے چند ایک  اہم پہلووں پہ روشنی ڈالیے؟*
*سید حسین رضوی* : جب شہید گلگت تشریف لے گئے اس وقت ۱۹۸۸؁ء کا سانحہ رونما ہوچکا تھا ۔ ۱۹۸۷؁ءچونکہ میری پیدائش ہے تو بزرگان اور علماء سے جو باتیں سنی ہیں وآپ کے سامنے رکھوں گا۔ اس وقت گلگت کے حالات انتہائی خراب تھے، مومنین کے درمیان اجتماعی طور پرمایوسی کاعالم تھا ، گرچہ علماء اپنی توانائی کے مطابق وہاں پہ کوشش کر رہے تھے لیکن ایسی کوئی شخصیت نہیں تھی کہ جو آگے بڑھتی اور سیاسی مذہبی حقوق کا دفاع کرتی۔دوسری طرف  تکفیری عوامل اور گروہوں کی جانب سے کفر کے فتوے بھی لگ رہے تھے ۔ شہید جب گلگت تشریف لے گئے تو سب سے پہلا کام جو انہوں نے کیا وہ جوانوں کو منظم  اور ملت میں اتحاد قائم کیا۔
 سب سے پہلے خود شہید نے ہی وہاں پہ نماز جمعہ قائم کی اس سے پہلے وہاں نماز جمعہ نہیں ہوتی تھی شہید نے پہلی دفعہ گلگت میں نماز جمعہ پڑھائی ۔ ااگر آپ دیکھیں تو ۱۹۸۸؁ء اور ۱۹۹۴؁ء کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ سانحہ ۸۸؁ء کے بعد ملت جو کہ مایوسی کے عالم میں تھی ، پھر اک مختصر عرصے کے بعد ۱۹۹۴؁ء میں ایسی پوزیشن میں آتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی حکومت بناتی ہے۔۱۹۹۴؁ء کے الیکشن میں تحریک جعفریہ نے اپنی حکومت بنائی۔ 
کفر و تکفیر کے جو نعرے لگتے تھے اس حوالے سے عرض کروں کہ شہید اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے داعی اور حامی تھے اور انہوں  نے اس حوالے سے کافی کوششیں بھی کیں۔ مخالفین کو اس حوالے سے مسلسل اتحاد کی دعوت دی جاتی رہی اور وہ اتحاد بین المسلمین کیلے منعقد ہونے والے تمام پروگرامز میں شریک ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب گلگت میں ایک مولوی نے اہل تشیع کے ہاتھ سے ذبح ہونے والے جانور کا  کھانا حرام قرار دیا تو ایسے میں شہید نے اپنے گھر میں اہلسنت علماء کی دعوت کی اور وہ سب تشریف بھی لائے۔ کفر و تکفیر کے فتوٶں کیوجہ سے جو فضا قائم ہوئی تھی اورجس سے عوامی سطح پر دشمنی بڑھ رہی تھی ، شہید کا یہ اقدام اس سلسلے کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔  ۔اس کے علاوہ جو کفر کے فتوے لگ رہے تھے اس دوران شہید نے اتحاد بین المسلمین کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے یہ کوشش کی کہ وہ تکفیری مولویوں کو مناظرے کی دعوت دیں وہ بھی تفرقے کے انداز یا فضا میں نہیں بلکہ شہید کا یہ کہنا تھا کہ اگر ہمارا عقیدہ غلط و باطل ہے تو آپ ہمارے پاس  آئیں دلیل کے ساتھ ثابت کریں ، اگر آپ ہمارے پاس نہیں آسکتے تو مجھے کوئی جگہ بتا دیں اپنی مسجد میں یا کسی اور جگہ میں آپ کے پاس آوں گا، میں آپ کو بتاوں گاکہ ہمارے عقائد کیا ہیں۔ اس کے علاوہ شہید کا سب سے بڑا اقدام نصاب تعلیم کے حوالے سے تھاانہوں نے اپنی توانائی کے مطابق کوشش کی کہ نصاب تعلیم میں اصلاح کروائیں۔ کیونکہ اس نصاب تعلیم کی وجہ سے جوانوں کے عقائد پہ بہت زیادہ منفی  اثر پڑ رہا تھا اس لئے انہوں نے کوشش کی کہ سب کے لئے قابل قبول نصاب مرتب ہو اور ملت تشیع کے عقائد کے خلاف جو مواد  نصاب تعلیم میں شامل ہے وہ اس نصاب سے ہٹایا جائے۔ اس حوالے سے انہوں نے تحریک چلائی اور کوشش کی کہ یہ مسئلہ حل ہوسکے اور اس کے لئے بھرپور کوششیں کیں لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا  اور اس سے پہلے وہ شہید ہوگئے۔
*سوال : آپ نے شہید کی تحریک نصاب تعلیم کے حوالے سے فرمایا کہ وہاں پہ جو حالات اور معروضی حقائق تھے اس کے پیش نظر شہید نے تحریک نصاب تعلیم کو شروع کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی  نےتحریک نصاب تعلیم میں شہید کا ساتھ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے شہید نے تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ سے دوری و علحیدگی اختیار کی تھی ۔ اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے؟*
*سید حسین رضوی* : یہ باتیں محض پروپیگنڈے کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ یہ اک افواہ ہے جو کہ پھیلایا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ نصاب تعلیم کا جو مسئلہ تھا وہ محض ایک مذہبی ایشو تھا لیکن شہید کے جو مخالفین تھے انہوں نے حتی اس مسئلے میں بھی کوشش کی کہ شہید کے لئے مشکلات کھڑی کریں اور جو بات آپ نے کہی کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں تحریک جعفریہ کا ساتھ نہیں تھا تو اس وقت جو افراد نصاب تعلیم کی تحریک میں شہید کے ساتھ تھے وہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے اور وہی ہر موقع پر شہید  کے ساتھ تھے مثلا مرحوم شہید غلام حیدر نجفی صاحب، شیخ مرزا علی نگری صاحب، دیدار علی صاحب وغیرہ یہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے جو نصاب تعلیم کی تحریک میں صف اول میں شامل تھے۔جب بھی مشکلات آتی تھیں کوئی بھی ایشو ہوتا تھا تو شہید انہی افراد کو مسائل کے حل کے لئے اور مذاکرات کے لئے بھجواتے تھے ۔ ایسی بات ہم نے خود شہید سے کبھی نہیں سنی یا شہید کے نزدیک جو افراد تھے ان میں سے کسی سے ہم نے یہ بات نہیں سنی کہ شہید کا قائد ملت جعفریہ کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔شہید کا انٹرویو جو شہادت سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے کراچی میں ریکارڈ کروایا اس میں وہ واضح اور دوٹوک انداز میں یہ کہہ رہے کہ قائد محترم نے نصاب تعلیم کے مسئلے میں میرا ساتھ دیا ہے۔
 آپ کے اٹھائےگئے سوال میں جن الزامات کا ذکر ہے وہ محض اک پروپگینڈہ ہے۔ ان باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
*سوال : آپ نے فرمایا کہ شہید نے ۱۹۸۸؁ء سے ۱۹۹۴؁ء کے درمیان چھ سال سے بھی مختصر عرصے کی ان کی جدوجہد تھی کہ تحریک جعفریہ اور ملت تشیع کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حوالے سے شہید کا جو مبنی اور ذاتی نظریہ کیا تھاکہ مذہبی لوگوں کو میدان سیاست میں آنا چاہئےیا نہیں؟ اس حوالے سے شہید کا ذاتی نظریہ کیا تھا؟* 
*سید حسین رضوی*: شہید کی عملی زندگی کےجائزےاور مشاہدے سے ہیی معلوم ہوتا ہے کہ شھید مذہبی سیاست کے حامی تھے، اگر وہ مذہبی سیاست کے  قائل نہ ہوتے تو میدان سیاست میں وارد بھی نہ ہوتے، اس حوالے سے ان کا نظریہ یہ تھا خصوصًا گلگت بلتستان اور پاکستان کے حالات کےتناظر میں کہ وہ یہ چیز ناگزیر سمجھتے تھے کہ مذہبی افراد کو میدانِ سیاست میں وارد ہونا چاہئیے کیونکہ وہاں کی سیاست میں اگر آپ اپنے حقوق حاصل کرنا چاہیں تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ سیاست کے اندر وارد ہوں ۔ دوسری جو پارٹیاں ہیں ان میں گرچہ شیعہ افراد موجود ہیں لیکن وہ ملت تشیع کے اوپرہونے والے مظالم یا ملت تشیع کے جو حقوق ہیں ان کےدفاع  کے لئے وہ آواز نہیں اٹھاتے تھے۔ اس صورت حال میں شہید اپنے لئے لازمی اور ضروری سمجھتے تھے کہ میدان سیاست میں وارد ہوں ۔ 
*سوال : اگر دیکھا جائے تو اختصار کے ساتھ شہید کی زندگی میں اہم  اہداف جو تھے کیا ان کا حصول ممکن ہوا ہے؟ ان کی شہادت کے بعد ان کے مشن اور اہداف کو زندہ رکھنے میں ، ان کے حصول میں  کیا ہم کامیاب ہوگئے ؟ اگر نہیں ہوئے تو اس کے علل و اسباب کیا ہیں ؟*
*سید حسین رضوی* : شہید جب تک خود زندہ تھے ان کی کوشش یہی تھی کہ ملت تشیع کے اجتماعی حقوق ، عقیدتی حقوق اور سیاسی حقوق کا دفاع کیا جائے اور شہید اپنی زندگی میں اس حوالے سے کامیاب بھی تھے۔ یہ ضروری نہیں کہ جتنے مسائل ہیں سب کےسب حل ہوجائیں لیکن شہید میدان میں موجود تھے اور جب تک زندہ تھے کوشش کر رہے تھے اس بنیاد پر وہ کامیاب رہے ۔ مثلا نصاب کا مسئلہ یا دیگر جو مسائل تھے ان میں شہید کامیاب رہے کیونکہ شہید کے اس تحرک کا ہی نتیجہ تھاجس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ملت تشیع کی پوزیشن بہت مستحکم اور مضبوط تھی۔ خود شہید اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں کہ : حکومت کوئی بھی فیصلہ لینا چاہے تو اس سے پہلے یہ بات مدنظر رکھتی ہے کہ ملت تشیع کا اس فیصلے پر ردعمل کیا ہوگا۔
لیکن اب ان کی شہادت کے بعد آپ پوچھیں کہ ہم شہید کے رستے پر ہیں یا نہیں ؟ ان کے اہداف کو حاصل کرپائے ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آج ہم نہ صرف شہید کے راستے پر نہیں ہیں بلکہ شہید کے دکھائے گئے راستے سے منحرف ہوگئے ہیں یعنی شہید اگر دائیں طرف جارہے تھے تو ہم بالکل اس کے برعکس بائیں طرف جارہے ہیں اس وقت ایسے حالات ہیں۔ میں پاکستان کی بات نہیں کررہا میں گلگت بلتستان کی خصوصًا گلگت شہر کی بات کر رہا ہوں کہ ہم مکمل طور پر  شہید کے راستے کی مخالف سمت میں حرکت کر رہے ہیں اور شہید کے مشن و اہداف سے روز بروز دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم گلگت میں مختلف مشکلات کا شکار بھی ہیں۔ اس کی جو اصل وجہ ہے وہ یہی ہے کہ جو راستہ شہید نے ہمیں بتایا تھا ہم اس راستے سے منحرف ہوچکے ہیں۔
*سوال : کیونکہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور مسلمہ چیز ہے کہ شہید راہ ولایت رضوان اللہ تعالی قومی جماعت تحریک جعفریہ کے ساتھ منسلک تھے۔ ہم یہ پوچھنا چاہیں گے باقاعدہ طور پر تحریک جعفریہ میں انہوں نے کب شمولیت کی اور قومی جماعت و قائد ملت جعفریہ کے ساتھ ان کی کس حد تک وابستگی تھی ؟*
*سید حسین رضوی* : تحریک جعفریہ میں کب شمولیت اختیار کی یہ میرے علم میں نہیں ہے لیکن جہاں تک قیادت کے  ساتھ رابطے کا تعلق ہے تو شہید ان افراد میں سے تھے جو نمائندگی ولی فقیہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے رہبر معظم کے پاس تشریف لائے تھے اور   اس بارے میں سوال کیا تھا۔ اس وفد میں چند ہی افراد تھے جن میں سے ایک شہید بھی تھے۔ جب رہبر معظم کی جانب سے قائد ملت جعفریہ کی نمائندگی کی تائید ہوئی تو پھر اس کے بعد شہید ہمیشہ قائد محترم کے ساتھ ان کےحامی رہے ہیں۔ پچھلے سوال میں بھی یہ نکتہ عرض کیا تھا کہ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ نصاب کے حوالے سے بھی مختلف حوالوں سے ، سرکاری سطح پر بھی میٹنگز وغیرہ کا انعقاد ہوتا تھا تو شہید قائد محترم کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور قائد محترم کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی میٹنگز وغیرہ میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک نکتہ جو پچھلے سوال کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ  کہ میں نے خود شہید کا ایک لیٹر پڑھا تھا جس میں شہید نے ایک مدرسے کے منتظمین سےشکوہ کیا تھا ۔حکومت نے نصاب کی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے   کسی مدرسے کے بعض بزرگان کو بلایا تھا اور ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھاتاکہ گلگت میں جو تحریک چل رہی تھی اس کو نقصان پہنچایا جائے۔ شہید نے اس مدرسے کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ ہماری مدد نہیں کرسکتے توکم از کم ہمارے موقف کو نقصان نہ پہنچائیں، ہماری تحریک کو کمزور نہ کریں۔ اگر قیادت کے حوالے سے ایسا کوئی ایشو ہوتا تو حتمًا شہید اپنی کسی تحریر یا تقریرمیں  عرض کرتے۔ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ مربوط رہے ہیں ، پرویز مشرف کے دور میں جب قائد محترم کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت خود شہید قائد محترم کی رہائی کے لئے گلگت میں مختلف احتجاجی جلسوں کا انعقاد کرتے تھےاور ان میں خود صف اول میں شریک ہوتے تھے۔ بعض علماء کی طرف سے دھرنا دیا گیا یا مختلف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ان سب میں خود شہید شریک ہوتے تھے۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ شہید کا قیادت کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔
*سوال : جس طرح آپ نے ملت تشیع کے حوالے سےمختلف مشکلات کی طرف اشارہ فرمایا ۔ شہید کی ذات یقینا ہمارے لئے اسوہ ہے اور ہمارے لئے ایک آئیڈیل ہے۔ اس حوالے سے آپ کی نظر میں شہید کے کن افکارو نظریات کو احیاء کرنے کی ضرورت ہےجن پر عمل پیرا ہوکر ملت تشیع اپنی مشکلات کو دور کرسکے؟*
*سید حسین رضوی* : شہید کی زندگی کےدو پہلو خصوصی طور پر اہمیت کےحامل تھے۔ اول یہ کہ وہ زمان شناس تھے اور دٶم وظیفہ شناس تھے۔ اُسے زمانےکی پہچان تھی،  وہ زمانے کو پہچانتے تھے اور اپنے وظیفے کو تشخیص دے کر اس پر سختی سےعمل کرتے تھے۔ جو تمام باتیں میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیں ان سب کے پیچھے غالبا یہی دو نکتے تھے، ایک تو وہ اپنے زمانے سے آگاہ تھے  اور دوسری بات یہ کہ اپنے وظیفے کو جو انہوں نے مشخص کیا ہوتا تھاکوشش کرتے تھے کہ اس وظیفے کو انجام دیاجائے۔ میری نظر میں ہمارے لئیے بھی یہی چیز زیادہ مہم ہے کہ زمان شناسی اور وظیفہ شناسی اس کے بعد اپنے وظیفے پر عمل کرنا۔ میرے نزدیک شہید کی زندگی کے یہ دو اہم پہلو یا اصول تھے جن پہ وہ عمل پیرا تھے۔
*سوال : دفتر قائد ملت جعفریہ قم المقدسہ کے اندر شہید کے افکار کو زندہ کرنے کے لئے  ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کررہا ہے ۔ اس حوالے سے آپ اپنا کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟*
*سید حسین رضوی* : سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتا ہوں دفتر نمائندہ ولی فقیہ قم المقدسہ میں موجود تمام برادران کا جنہوں نے زحمت کی اور یہ کانفرنس منعقد کروائی ہے۔ ایک اہم نکتہ جو میں اکثر دیگر دوستان کو بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ شہید کے افکار کو منعکس کرنے کی ضرورت ہے ۔  شہید کا نام  زندہ ہے لیکن شہید کے اصل افکار مخفی ہیں ، پس پردہ چلے گئے ہیں ۔کوشش یہ کی جائے کہ ان کے جو افکار تھے جو نظریات تھے ان کو اجاگر کیا جائے ۔شاید یہ ایک بہت بڑی خدمت ہوگی ملت تشیع کے لئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here