شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخواہ کے وفد کا ہری پور ایبٹ کا تفصیلی دورہ رپورٹ
شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخواہ کے وفد کا ہری پور ایبٹ کا تفصیلی دورہ رپورٹ

شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخواہ کے وفد کا ہری پور ایبٹ کا تفصیلی دورہ رپورٹ

18ستمبر بروز بد ھ 7بجے صبح شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی دفتر پشاور سے صوبائی صدر علامہ حمید حسین امامی کی قیادت میں ایک وفد ہری پوراور آیبٹ آباد کے دورہ کیلئے روانہ ہوئے۔ وفد میں صوبائی جنرل سیکرٹری مظفر علی آخونزادہ،صوبائی سیکرٹری مالیات مولانامر تضی جعفری اور نوازش علی شامل تھے۔تقریباً نو بجے کے قریب خان پور ڈیم پہنچے۔وہاں پہلے سے موجود ضلعی آرگنائزر ہری پور سید اسرار علی شاہ کاظمی،ملک راشد حسین اور دیگر تنظیمی احباب نے استقبال کیا۔سید اسرار علی شاہ اور ملک راشد حسین نے ناشتہ کا اہتمام کیا ہوا تھا۔وفد کے ہمراہ اور دیگر مقامی تنظیمی احباب کے ساتھ ناشتہ کیا۔
مومنین و سادات سے ملاقات
ناشتہ کے بعدپنڈگاکھڑہ،سلطان پور،گڑھی سیداں،توفکیاں،ہلی کوہالہ،ترناوہ،بخشاہی،کوٹہرہ،خانپور،کوہاس،وجیاں،جولیاں اور ہری پور سٹی سے آئے ہوئے امام بارگاہوں کے متوالیان ا ور مومنین سے نشست ہوئی۔ جس میں مومنین نے عشرہ محرم الحرام میں مشکلات و مسائل سے آگا ہ کیا۔متولیوں اور مومنین نے کہا ایسے تھانوں میں ہمارے نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئی۔حالانکہ ہمارے نوجوان محرم کے پروگرام تو دور کی بات ان تھانوں کی حدود میں عشرہ محرم میں گئے ہی نہیں۔
صوبائی صدر علامہ حمید حسین امامی نے مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تو میں آپ تمام احباب اور بزرگان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنی مصروفیات سے ٹائم نکال کر زیارت کا موقع فراہم کیا۔یہاں آنے کا مقصد آپ مومنین کے مسائل ومشکلات سنیں اور جہاں تک ممکن ہو ان کے حل کی کوشش کرنا ہے۔دوسری بات جہاں تک محرم الحرام میں صوبائی حکومت اور بلخصوص ضلعی انتظامیہ ہری پور کی طرف سے مشکلات ومسائل پیدا کئے گئے۔ہم ان کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔اس سال محرم میں مجھ پر بھی کئی ایف آئی آرز ہوئی ہیں۔راہ کربلا ہے ہی مسائل و مشکلات کا راستہ ہے۔جتنی مشکلات بڑھ رہی ہے ہمارے حوصلے اور بھی بلند ہو رہے ہیں۔آج ہماری ڈی پی او ہری پور سے ملاقات ہیں انشا اللہ تعالیٰ آپ کے محرم الحرام میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں ان سے بات کریں گے۔
صوبائی جنرل سیکرٹری مظفر علی آخونزادہ نے مومنین سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی قانونی جدوجہداور عشرہ محرم الھرام میں صوبائی حکومت سے رابطے انتظامی افسران سے ملاقاتیں اور ان کو کئی گئے خط و کتاب کے بارے میں آگاہ کیا۔آپ سب کو اکٹھا کرنے کا مقصد یہی تھا کہ آپ کے مسائل سن کر ہری پور کی انتظامیہ تک پہنچائیں اور حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں َ۔ آپ کے پاس جو بھی ایف آئی آرز اور درخواستیں ہیں۔ہمیں دیں اس سلسلے میں ڈی پی او کو ضلع ہری پور میں مومنین سے ہونے والی انصافی اور ان کو پریشان کرنے کی شکایت کریں گے۔صوبائی وفد نے مومنین سے ملاقات کے بعد بارہ بجے ڈی پی او ہری پور سے ملاقات کے ہری پور سٹی کیلئے روانہ ہوئے۔
ڈی پی او ہری پور سے ملاقات
ساڑھے بارہ بجے ڈی پی او ہری پور آفس میں پہلے سے موجود ہری پور سٹی،سرائے صالح،مانکرائے،غازی و دیگر علاقوں کے متولی اور مومنین سے مختصر گفتگو ہوئی۔شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر کی قیادت میں وفد نے متولیان و مومنین کے ہمراہ ڈی پی او ہری پور زاہد اللہ خان سے ملاقات کی۔ وفد میں صوبائی صدرعلامہ حمید حسین امامی،صوبائی جنرل سیکرٹری مظفر علی آخونزادہ،صوبائی سیکرٹری مالیات مولانا سید مرتضی علی شاہ جعفری،نوازش علی،سید اسرار علی شاہ کاظمی،ملک راشد حسین نیئر جعفری،سید نذیر حسین شاہ اور دیگر مومنین شامل تھے۔
سیکورٹی فورسسز کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ کہ انکی دن رات کی محنت سے عشرہ محرم پر امن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس طرح سیکورٹی اپنی خدمات سے عوام کو پر امن ماحول فراہم کرتے رہیں گے۔لیکن ہری پور انتظامیہ سے گلے شکوے بھی ہیں۔تو ڈی پی او نے کہا ضرور بیان کریں۔صوبائی صدر نے کہا کہ ہمارے ضلعی آرگنائزر سید اسرار علی شاہ جو اس ملاقات میں بھی موجود ہیں۔ان کے گھر سات محرم الحرام کو جلوس تھا۔تو ایس ایچ او راجہ ممتاز اور لیاقت کاظمی کی ذاتی آنا کی وجہ سے ڈی ایس پی امجد خان کی سرپرستی میں جلوس کو روکا گیا۔جو کہ قابل افسوس ہے۔اس طرح تھانہ مکنیال میں بھی تین ایف آئی آرز کاٹی گئی۔اس طرح کوہاس جلوس شیڈول میں ہونے کے باوجود اس پر بھی پرچہ کاٹا گیا۔لیاقت کاظمی کو جماعت دستور کی خلاف ورزی کی وجہ سے جماعت سے نکالا گیا۔ہم نے نوٹیفیکشن جاری کیا جو آپ تک بھی پہنچا ہو گا۔انہوں نے بھی اپنی ذاتیات کی وجہ سے اہل تشیع کومحرم الحرام میں پریشان کیا۔
آخر میں ایس ایچ او تھانہ خانپور اعجاز خان نے ہمارے مومنین کے ساتھ محرم میں بہت تعاون کیا اور محرم الحرام میں اپنے تھانہ کی حدود میں بھر پور سیکورٹی فراہم کی۔ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اوران کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
صوبائی جنرل سیکرٹری نے عدالتی فیصلے کی کاپی ڈی پی او کو دی اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت عزاداری ہمارا قانونی حق ہے جو ہم کرتے رہے گے۔کوئی بھی اس کو روک نہیں سکتا۔البتہ مسائل و مشکلات ضرور پیدا کرتے رہیں ہیں۔ ہم نے ہمیشہ قانونی و آئینی راستہ استعمال کیا ہے۔عدالت کے فیصلے ہماری عزاداری کے حق میں ہوئے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے عدالتی اقدامات کی توہین کی جاتی ہیں۔ہمارے لوگوں کو بے جاتنگ کیا جاتا ہے۔اس سال محرم میں مجھ پر بھی ایف آئی ارز درج کی گئی ہیں
ڈی پی اوزاہد اللہ خان نے وفد کی گفتگو کو با غور سنا اور کہا کہ سب سے پہلے تو میں آپ تمام مشران کو شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ کی شکایت قابل غور ہیں اور میرے آنے سے پہلے کے ریکارڈ کو بھی چیک کریں اور آپ خود موازنہ کریں کہ ہم نے تعاون نہیں کیا۔2016میں 65,65ایف آئی آرز ہوئی ہیں۔پولیس کے علاوہ دیگر ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہوتی ہیں ہمیں بھی جواب دینا ہوتا ہے۔ڈیرہ اور پشاور کے بعدسب سے ذیادہ پروگرامات یہاں ہوتے ہیں۔خانپور کے جلوس میں مقررہ وقت سے ذیادہ ٹائم لیا گیا ہم نے تعاون کیا۔شاید یہ بات آپ نے علامہ صاحب تک نہیں پہنچائی ہو گی۔مکنیال میں ایف آئی ٓآر ہوئی ہیں مجھے بھی پتہ ہے۔ لورہ کا ریکارڈ چیک کریں۔دو تین جگہوں سے آپ کے لوگوں کی طرف سے مجھے کالز آئی ہیں کہ پولیس اہلکار تھک گئے ہیں اورگرمی بھی ذیادہ ہیں۔ہم پروگرام کو وقت سے پہلے ختم کر رہے ہیں۔ میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے احساس کیا۔لیکن ہم نے ان کا وقت وہی ریکارڈ میں درج کیا جو پہلے تھا۔2013سے بند جلوس بھی نکالے گئے ہیں۔آپ کے لوگوں نے کئی جگہوں پر غیر انتظامی حرکات کی ہم نے نظر انداز کیا۔نو محرم کے مرکزی جلوس کیلئے مسئلہ تھا تو آٹھ محرم کے دن ہمیں آگاہ کیا گیا عین موقع کے بجائے ٹائم سے آگا ہ کرنے سے مسئلہ کاحل ممکن ہوتا ہے۔ جلوس کی ٹائمنگ صبح چار بجے سے شام تین بجے تک ہیں۔ایک اور بندہ آیا کہا کہ جلوس کی ٹائم یہ نہیں ہے۔تو اس کے بارے میں ہم کیا کر سکتے ہیں جب آپس میں بھی متفق نہیں ہیں۔شیڈول فور میں موجود لوگوں نے رابطہ کیا ہے تو کم از کم ان کے کیس تو چل رہے ہیں۔آخر میں ڈی پی او کو صوبائی جنرل سیکرٹری نے ایف آئی آرز اور درخواستیں دیں کہ ان کے لئے تعاون کریں۔گروپ فوٹو بھی بنائے گئے۔
ڈیڑھ بجے ہری پور سے حویلیاں کے علاقے دیوال میں ایک مومن سید شجر عباس کے گھر دوپہر کے کھانے کی دعوت پر گئے۔اس مومن کے گھر پر انتظامیہ اور سرپسندوں کی طرف سے سات محرم کو مجلس عزا نہ کرانے کے نوٹس لگائے گئے تھے۔ لیکن وہاں پرشیعہ علماء کونسل خیبر پختونخواکے تعاون سے مجلس ہوئی تھی۔مومنین و سادات سے ملاقات کے بعدواپس پشاور کے لئے روانہ ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here