جعفریہ پریس – شیعہ علماء کونسل نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے اسے انتہاء پسندی کی انتہاء قرار دیدیا، مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ آج حقوق بشیریت کے نام لینے والوں کی زبانیں کیوں گنگ ہوگئی ہیں،آزادی اظہار کے نام پر کسی کو مقدس ہستیوں کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے، او آئی سی کو بھی اب جاگنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے پر اپنے سخت رد عمل میں کیا۔ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ مقدس ہستیوں کی توہین کی جائے۔ اسلام رواداری، محبت اور حسن سلوک کا درس دیتاہے جبکہ تمام انبیاء کا احترام مسلمانوں پر واجب ہے لیکن دوسری مغرب میں ایک عرصہ سے قبیح اور گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے۔ کسی کو آزادی اظہار کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ بات بات پر انسانی حقوق کی بات کرنیوالی نام نہاد حقوق بشریت کی تنظیموں کی زبانیں آج کیوں گنگ ہوگئی ہیں، کیا یہ کھلم کھلا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ، اس اقدام نے ایک مرتبہ پھر مسلم امہ کے دل چھلنی کردیئے ہیں، اقوام متحدہ کی خاموشی بھی افسوسناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم مطالبہ کر تے ہیں اس معاملے پر فی الفور اقوام متحدہ میں قانون سازی کی جائے اور مسلم دنیا کے حکمران اب خواب غفلت سے بیدار ہوں اور مقدس ہستیوں کے احترام کے حوالے سے عالمی سطح پر قانون سازی کیلئے کردار ادا کریں جبکہ او آئی سی کو بھی اب خواب غفلت سے بیدارہونا ہوگا۔
علامہ عارف حسین واحدی نے حکومت پاکستا ن سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ میں اس مسئلہ کو اٹھانے کے ساتھ مقدس ہستیوں کے احترام کیلئے بین الاقوامی قانون سازی کیلئے دیگر مسلم اور ہم خیال ممالک سے تعاون طلب کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here