جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم عاشور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 61 ھ کے بعد روز عاشور امام حسین ؑ کے اسم گرامی کے ساتھ منسوب ہوگیا اس سے قبل عاشورہ کا لغوی اور لفظی مفہوم علمی حد تک تو عیاں تھا لیکن عاشورہ کی عملی شکل امام عالی مقام کے کردار سے سامنے آئی اور اس انداز سے اجاگر ہوئی کہ عاشورہ حریت کی ایک تعبیر بن گیا اور جب بھی عاشورہ کا ذکر ہوا تو انسان کے ذہن میں امام حسینؑ اور ان کی لازوال قربانی کا نقش اجاگر ہوا۔عاشورا برپا کرنے کے لیے جن اسباب و علل اور حالات وواقعات کی ضرورت ہوتی ہے اس کی تشخیص امام عالی مقام سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے؟ سیدالشہدا ؑ حضرت امام حسین علیہ السلام نے بزور مسلط کی جانیوالی حکمرانی کوماننے سے انکار کردیا، اسلامی اصولوں اور بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی نفی پر مبنی جابرانہ نظام کو تسلیم نہ کیا، غیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو ٹھکرا دیا اور اصلاح امت ، معروف (نیکی) کو پھیلانے اورمنکر (برائی) کومٹانے کے لیے مدینہ سے ہجرت اختیار کی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا ہے کہ جس طرح حضرت امام حسین ؑ نے عاشورہ برپا کیا تھا اسی طرح پیروکاران حسین ؑ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھے کردار، احکام خداوندی اور شریعت محمدؐی پر عمل پیرا ہونے کے لیے امام حسینؑ کی جدوجہد کو سامنے رکھیں اورظلم ، ناانصافی، تجاوزاور بے عدلی کے خلاف قیام کرتے ہوئے عاشورہ برپا کریں۔ ۔ اس جدوجہد میں سب سے بڑا ہتھیار اتحاد بین المسلمین اور وحدت امت ہے اگر ہم اتحادووحدت کا ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے خارجی اور داخلی دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہو جائیں توکامیابی یقیناًہمارا مقدر ہوگی۔ چاہے ہمیں کسی کربلا کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے اور اس راہ میں شہادت جیسی سعادت حاصل کرنے کے مرحلے سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔
حضرت آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ شب عاشور حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف سے لوگوں کو اپنی بیعت سے آزاد کرنا‘ شعور و نظریہ اور آزادی و استقلال کے ساتھ شہادت کے سفر پر گامزن ہونے کا درس دیتا ہے۔ آپؑ نے جبر کے ساتھ لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ نہ رکھ کر رہتی دنیا کے لئے ہدایت و رہنمائی چھوڑی کہ کشتیاں جلا کر لوگوں کو جبری شہادت کی طرف مجبور کرنا اور ہے جبکہ چراغ بجھا کر لوگوں کو ابدی نجات عطا کرنا اور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شب عاشور جب چراغ گل کرایا گیا تو انسانوں کی تقسیم نہ ہوئی بلکہ ضمیروں کی شناخت ہوئی۔ کھوکھلے دعوؤں کی بجائے نظریہ کی پختگی کا اندازہ ہوا اور چند لمحوں کی وابستگی دائمی نجات کی ضامن بن گئی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ آج کی صورت حال 61 ھ کی صورت حال کے مشابہ ہے لیکن انداز و ماحول نیا ہے۔آج بھی حسین ؑ ابن علی ؑ کربلا سے صدائیں بلند کر رہے ہیں کہ کوئی آئے اور ہمارا ساتھ دے۔آئیے ہم حسین ؑ ابن علی ؑ کا ساتھ دیں اور ان کی صدا پر لبیک کہیں۔احکام خداوندی اور شریعت نبوی پر عمل پیرا ہو کر اپنے اچھے اور مضبوط کردار کے ذریعے۔۔۔کردار سیدہ زینب ؑ اور سیرت حضرت زین العابدین ؑ پر عمل کے ذریعے۔۔۔مشن حسین ؑ اور اسلام کے عادلانہ نظام کے لیے عملی جدو جہد کے ذریعے۔۔۔دشمن کے عزائم اور مظالم سے اتحاد و اخوت اور وحدت کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے ذریعے۔۔۔اور اس راستے میں اگر مشکلات پیش آئیں حتی کہ شہادت کی سعادت بھی نصیب ہو تو اس کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھا جائے بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ ایک اور عاشورہ برپا کرنے کے لیے آمادہ رہا جائے کیونکہ آج بھی دنیا کے مختلف کونوں سے یزیدیت مختلف صورتوں میں سر اٹھا رہی ہے ہمیں حسینیؑ بن کر ان یزیدی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی ہر دور کا پیغام عاشور ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here