• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

عدل علی ابن ابی طالب ؑ سیاست علوی کا خوبصورت ترین پہلو

عدل و انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کا حسن اور اسکی اساس ہے۔دنیائے عالم کی مختلف اقوام اپنی تہذیب و ثقافت کی رو سے کسی نہ کسی انداز میں معاشرے میں مساوات اور عدل و انصاف کی قائل اور دعویداردکھائی دیتی ہیں۔دین اسلام کو یہ خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ اس کی بنیادی اور اولین تعلیمات میں سے معاشرے میں عدل و قسط کا قیام اور ظلم و جور کا خاتمہ ہے اور اس کی روشن و بے نظیر مثال امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کا چار سالہ دور خلافت ہے۔
جب ہم عادلانہ نظام کی بات کرتے ہیں تو ہمارے سامنے حضرت علیؑ کی عادلانہ حکومت کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔امامت کے لئے منصوب ہونے کے باوجود آپؑ نے حکمرانی عوام کے بے پناہ اصرار پر قبول فرمائی۔ عوام کا اصرار آپؑ کی بے پناہ عوامی مقبولیت اور عوامی اعتماد کی دلیل ہے اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔
وہ ایک ہی وقت میں الہی اور جمہوری عہدے کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنا منفرد اور ممتاز مقام رکھتے تھے۔ لیکن عاجزی کا ایک انداز ان کے اپنے فرمان میں ہے کہ ’’میں امیر المومنینؑ کہلانے کا حق دار نہیں بن سکتا جب تک میں عوام کے دکھ درد میں برابر کا شریک نہ بن سکوں‘‘ یہی وجہ ہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد انہوں نے کوئی امتیازی رویہ نہیں اپنایا اور اور کسی قسم کی مراعات کی رسم نہیں ڈالی بلکہ میرٹ اور شفافیت کے رہنما اصول پیش کئے۔
علوی سیاست کا یہ امتیاز رہا ہے کہ امیر المومنینؑ نے حکومت کا حصول کبھی ہدف نہیں سمجھا بلکہ اپنے اصلی اور اعلی ہدف تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دیا۔ اس حوالے سے آپ کا ایک معروف قول ہے کہ ’’میرے نزدیک حکومت ایک پھٹے پرانے جوتے سے بھی کم تر حیثیت رکھتی ہے مگر اس صورت میں جب اس کے ذریعے کسی حق کو قائم کرسکوں اور کسی باطل کا خاتمہ کرسکوں‘‘۔ ذاتی نوعیت کے مسائل پر گفتگو کے لئے بیت المال کے چراغ کو ہٹاکر حضرت کا اپنے گھر سے چراغ منگوانا حکمرانوں کے لئے ایک روشن مثال ہے کہ ذاتی ضروریات پر قومی امانت کو صرف کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ فرامین حکمرانوں کے لئے روشن مثالیں ہیں کہ وہ گڈ گورننس قائم کرتے وقت کس طرح اپنی ذات پر قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور انصاف کا قیام کسی مصلحت کے بغیر کرتے ہیں۔
امیرالمومنین ؑ کا عدل و انصاف کے نفاذ کا یہی منفرد پہلو انہیں دنیا کے تمام سابقہ اور آئندہ حکمرانوں سے جدا اور منفرد کرتا ہے آپ نے عدل و انصاف کا معاشروں، ریاستوں، تہذیبوں، ملکوں، حکومتوں اور انسانوں کے لیے انتہائی اہم اور لازم ہونا اس تکرار سے ثابت کیا کہ عدل آپ کے وجود اور ذات کا حصہ بن گیا اور لوگ آپ کو عدل سے پہچاننے لگے۔ اپنے ملک اور معاشرے میں عدل اجتماعی نافذکرنے تک آپ کی پوری زندگی عدل سے مزین رہی اور آپ نے گھر سے لے کر معاشرے اور حکمرانی تک عدل و انصاف کے معاملات میں کبھی مصلحت سے کام نہیں لیا ۔ اسی لیے کہا گیا کہ عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ۔ اسی طرح حضرت کی طرف سے مالک اشتر کو گڈگورننس اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ارسال کردہ ہدایات آج کے دور کے حکمرانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
اپنی حکمرانی کے دوران حضرت ؑ نے عدل کے قیام کی بھرپور کوشش کی اس کا ثبوت یہ ہے کہ قومی خزانے سے ہر شخص کو مساوی مواقع فراہم کرنے کا اصول سختی سے متعارف کرایا۔ لوٹی ہوئی قومی دولت کو ہر صورت میں واپس کرنے کے احتسابی عمل کی بنیاد رکھی۔ قومی خزانے اور بیت المال کو اس انداز میں صرف کیا کہ ہر شخص بلاامتیاز اس سے استفادہ کرسکے۔ انہوں نے کسی کو لوٹ مار کرنے اور بدعنوانی کی اجازت نہ دی اس سلسلہ میں آپ کا مشہور فرمان ہے کہ ’’اگر مجھے پتہ چل جائے کہ لوٹی ہوئی قومی دولت کئی ہاتھوں تک منتقل ہوچکی ہے تو اس کو تب بھی واپس قومی خزانے میں پلٹا دوں گا‘‘۔
امیر المومنینؑ نے بیت المال سے اپنے بھائی کو حصہ دینے کے بعد اپنے بھتیجوں کے خشک چہروں کو دیکھنے کے باوجود بقیہ مال قومی خانے میں پلٹاکر اقرباء پروری کو پاؤ ں تلے روندنے کی اعلی مثال قائم کی۔ آئین و قانون کی پابندی نہ کرنے والے عمال حکومت کو برطرف کرنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ کو اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طویل دینے کی فکر نہ تھی بلکہ آئین و قانون کی بالادستی آپ کا مطمع نظر تھا۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؑ نے بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کر دکھایا آپ ؑ نے تطہیر نفس کے لیے تقوی، شب بیداری، عبادت، حسن سلوک،عاجزی، انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے لیے عدل، انصاف، اعتدال، توازن، حقوق کا حصول اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے لیے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کے اندر ذاتی اور اجتماعی رہنمائی کے لیے تمام خصوصیات اور شرائط موجود تھیں جس سے ایک عام انسان سے لے کر دنیا پر حکمرانی کرنے کے خواہش مند شخص کے لیے مکمل استفادے کا سامان موجود ہے اور آپ کی سیرت ، کردار اور عمل اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دور حاضر کے اکثر مسائل کے پس منظر میں عدل کا فقدان، ناانصافی اور ظلم و تجاوز کا عمل دخل نظر آتا ہے چونکہ عدل وانصاف کا قیام سب سے مشکل اور سنگین کام ہے اس لیے مسلم ممالک عدل و انصاف پر مبنی پالیسیاں بنانے اور اقدامات اٹھانے سے گریزاں نظر آتے ہیں اور اس کے لیے مختلف بہانے تراشتے ہیں۔اقوام عالم حتی کہ مذاہب انسانی میں بھی عدل وانصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا ہے ۔ دنیا میں اس وقت عالم اسلام پر ہونے والے مظالم ، تجاوز اور مسلط کی جانے والی جنگیں اس بے عدلی اور ناانصافی کی زندہ مثالیں ہیں
عدل علی ؑ آج بھی دنیا میں ایک نمونے اور ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور امیرالمومنین ؑ کا طرز حکمرانی اور طرز جہاں بانی اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا کے مشہور دانشور جارج جرداق نے ’’ امام علی ؑ انسانی عدالت کی آواز ‘‘ کے نام سے تاریخی کتاب لکھی ہے۔
پاکستان کے مسائل کا حل بھی شفاف ، منصفانہ، عادلانہ اور غیر متنازعہ نظام حکومت میں مضمر ہے جس میں امیر المومنین ؑ کے مثالی دور کے اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے ظلم کا نام ونشان مٹایا جائے، ناانصافی اور تجاوز کا خاتمہ کیا جائے۔تمام شہریوں کو ان کے بنیادی، انسانی،مذہبی اور شہری و آئینی حقوق دستیاب ہوں۔ طبقاتی تقسیم اور تفریق کی بجائے مساوات کا نظام رائج ہو۔ اتحادووحدت اور اخوت ورواداری کا عملی مظاہرہ ہو۔دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ پرستی، جنونیت اور فرقہ وارانہ منافرت کا وجودہی باقی نہ ہو۔امن ،خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ معاشی نظام قابل تقلید ہو اور معاشرتی سطح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اتنی بلند ہوجائے کہ دنیا کے دوسرے معاشرے اس کی پیروی کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھیں۔