عزاداری کے راستے میں رکاوٹیں ختم نہ کی گئیں تو بھرپور پر امن مزاحمت کرینگے شیعہ علماء کونسل پاکستان

اعلامیہ 4-
گزشتہ سے پیوستہ
تازہ ترین صورتحال

آج8محرم الحرام تک صورتحال انتہائی تشویشناک اور گھمبیرہے انتظامیہ اور پولیس نے بعض انتہائی معمولی اور نا ن ایشو معاملات کو انتہائی تضحیک و توہین آمیز اور دھونس دھاندلی کے ساتھ غیرمعمولی اہمیت دےکرسوشل میڈیا کی زینت بنوا دیا ہے جس سے یہ مسائل پاکستان بھر میںزیر بحث ہیں اورعوام میں شدید اضطراب ،بے چینی،غم وغصہ اور تشویش پائی جاتی ہے اور یہ صورتحال فیصلہ کن احتجاج کی طرف جا رہی ہے۔
اندر چاردیواری مجالس عزا اور روایتی جلوسوں پر پابندی کا سلسلہ جاری ہے جس میں بعض اضلاع کے انتظامی و پولیس اہلکاران کے بلاجواز سخت رویہ کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے
ضلع جہلم
تھانہ جلال پور شریف کی حدود میں سیداں والامیں 8،10سال سے جاری جلوس کو روکنے کےلئے پورے ضلع کی انتظامیہ اور پولیس مصروف عمل ہے حالانکہ اس جلوس کی اجازت عدالت بھی دے چکی ہے اوراس سے قبل اندر چاردیواری مجلس عز ا پر دھاوا بولنے اور نظر بندیاں کرنے کی وجہ سے صورتحال پہلے سے مخدوش ہے۔
ضلع مظفر گڑھ
انتہائی دھمکی آمیز رویے اور گھروں میں جاری مجالس عزا کو روکنے کی وجہ سے صورتحال انتہائی خراب اورناگفتہ بہ ہے ۔گھروں میں جاری مجالس عزا پر مقدمات در مقدمات کا اندراج کیا جا رہاہے ۔ہرجگہ پر فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور نظر بند کرنے کی دھمکیوں کی وجہ سے انتہائی خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ
تھانہ گوجرہ کے چکوک180گ۔ب،181گ ب میں روایتی جلوسوں کو روکنے کے لئے کرفیو کا سماں ہے بانیان جلوس کو نظر بند کیا جا رہا ہے اور عدالتی احکامات کے باوجودجلوس کی برآمدگی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں شدید خوف و ہراس کی وجہ سے لوگ گاﺅں چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ضلع وہاڑی
٭ مسجد علی اورامام بارگاہ قصر عباس بورےوالا میں متولی مجلس و جلوس ضلعی انتظامیہ و پولیس کی جانب سے گذشتہ 8سال کی منظوریاںلینے تھانہ سے لے کر ڈی پی او،ڈپٹی کمشنر آفس کے چکر لگا رہا ہے۔لیکن کہیں پر شنوائی نہیں ہے ۔جلوسوں کے سلسلے رکے ہوئے ہیں ۔
٭ موضع پہلوان آرائیں تھانہ متروتحصیل میلسی میں امام بارگاہ حسینیہ میں قیام پاکستان سے پہلے کے پروگرامز ہو رہے ہیں منتظم زوار حسین کا گھر بالکل امامبارگاہ کے گیٹ کے سامنے ہے دونوں دروازوں کے درمیان16فٹ کی گلی ہے عرصہ 35سال سے زوار حسین کے گھر سے7تا9محرم الحرام تک شبیہات تیار ہو کر امام بارگاہ منتقل ہوتی ہیں اس سال کچھ اہلکاروں کی ناقص اور بے بنیاد رپورٹس پر شبیہات کو امام بارگاہ میں منتقل کرنے سے روک دیا گیا ہے16فٹ کے فاصلے کو ایک اتنا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے کہ تھانےدار سے لے کر آر پی او اور امن کمیٹی سے لے ڈپٹی کمشنر تک اس کو حل کرنے سے قاصرہیں۔
ضلع بہاولنگر
ضلع بہاولنگر میں مراسم عزاداری مکمل طور پر یرغمال بنائے جا چکے ہیں جن میں ڈسٹرکٹ سیکورٹی انچارچ راﺅ انعام کا توہین ،تضحیک اور نا مناسب رویہ سرفہرست ہے۔برسوں سے جاری اندر چار دیواری روایتی جلوسوں پر پابندی ہے۔پورے ضلع میں مراسم عزاداری پر پابندی کی وجہ سے ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔
ضلع لودھراں
عدالت کے واضح احکامات کے باوجود پولیس کا رویہ انتہائی توہین آمیز ہے۔ہرجگہ پر فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور نظر بند کرنے کی دھمکیوں کی وجہ سے انتہائی خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔
مندرجہ بالا چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں جو اس وقت بالخصوص سوشل میڈیا پرعزاداران میں زیر بحث ہیںعزاداران کا ردعمل انتہائی سخت اورفیصلہ کن احتجاج کی طرف جا رہا ہے۔
جبکہ
لاہور ،راولپنڈی سمیت پنجاب کے تمام اضلاع میںدیگر تقریبات ،جلوس اور ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں مگرمجالس حضرت امام حسین ؑ وجلوس ہائے عزا میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں جو ایک خاص ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ پنجاب بھر میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے اختیارات سے تجاوز ، غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات اور اعلیٰ عدلیہ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی، ذمہ دار علماءکرام کی اضلاع میں داخلہ و زبان بندی ،جھوٹی وبوگس رپورٹس کو بنیادبنا کربانیان مجالس و جلوس عزاسے زبردستی ضمانتی بانڈزکی طلبی، برسوں سے جاری روایتی پروگرامز کو محدود یا ختم کرنے، اندر چاردیواری مجالس عزاکے انعقادپر دھونس دھاندلی ،دھمکی اور توہین و تضحیک آمیز رویے کے ساتھ ساتھ فورتھ شیڈول میں ڈالنے ،گرفتاریاں اورنظر بندیاں بھی کی جا رہی ہیں جو بلا جواز اور توہین آمیز ہیں ۔ان اقدامات کی وجہ سے ملک بھر میں شدیدغم و غصہ، اشتعال و اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔
لہذا
ایسے واقعات ملک کے پرامن حالات اور ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے اس خطرناک ترین سازش کو ناکام بنانے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کو تکفیری ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے سے باز رکھیں اورایسے لوگوںکی حوصلہ شکنی کریں اورچھپے تکفیری مائنڈ سیٹ اہلکاران کی جگہ آئین و قانون کی پاسداری کرنےوالے ذمہ دار اہلکاران کو تعینات کیا جائے تاکہ کسی غلط رپورٹنگ کے نتیجہ میں ملک کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے سے بچایا جاسکے اور بالخصوص کئی سالوں سے ایک ہی عہدوں پر براجمان اہلکاران کی پالیسی کے مطابق تبدیلیاں ناگزیر ہیں تاکہ عوام ان کی بے جا بلیک میلنگ اور غلط رپورٹنگ کے سبب پیدا ہونے والی اذیت ناک صورتحال سے بچ سکے۔آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنایا جائے۔

مرکزی محرم الحرام کمیٹی شیعہ علماءکونسل پاکستان
17اگست 2021ء

گزشتہ اعلامیہ