قدرتی و الہی نعمات سے سرشار، وفاؤں کی عظیم داستانیں رقم کرنے والی ملک و ملت، دین و مکتب کیلئے ہر آن آمادہ و تیار سرزمین گلگت و بلستان نے اپنی زرخیزی سے ایسی عزم و استقلام وحریت کی چٹانوں کی تاریخ رقم کی جن کا رہتی دنیا تک زمانہ ممنون رہے گا۔ ان عظیم شاہکاروں میں مجسمہ علم و اخلاق، بصیرت و دانائی سے منسلک علامہ سید ضیاء الدین رضوی کی ذات باکمال ہے، شہید کی زندگانی مبارک کو بیان کرنے کیلئے مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔بس اشارتاً ان کی فکری و نظریاتی مبانی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا، ہر انسان کی قدروقیمت اس کی صلاحیتوں، پختہ افکار،بلند اہداف اور نظریاتی سرحدوں سے لگائی جاتی ہیں کیونکہ غیر مستقل، مفادات پرست، چاپلوس وپرچرب افراد کسی زمانہ میں بھی قابل اعتماد نہیں ہوسکتے۔شہید والا مقام ضیاء الدین ان تمام خصوصیات کے حامل اور بہت ہی کم عرصے میں اپنی صلاحیتوں کی بنا پر افق گلگت وبلستان پر نمودار ہوئے اور پھر یہ آفتاب آب وتاب کے ساتھ قریہ قریہ دمکنے لگااور شیعیان حیدر کرار کی امید بن گیا ۔شہید کی راہ تکامل اور ارتقاء میں دیگر اہم عوامل کے ساتھ ساتھ اہم عنصر آفاقی سوچ اور ملی قیادت وملی پلیٹ فارم کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی تھی،ملک کے ایک دور دراز علاقہ میں رہنے کے باوجود ان کا دل پوری ملت کے ساتھ دھڑکتا تھا اور ملت و قومی پلیٹ فارم کے مفاد اور منزلت کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جگہ جگہ سے امیدیں لے کر پروانے جمع ہونے لگے اور انقلاب کے مراحل عروج کی منازل طے کرنے لگے۔ شہید نے ہرمیدان میں قدم رکھنے سے پہلے اپنے نظریہ اور ہدف کو سامنے رکھا،سیاست علوی سے لےکر نصاب تعلیم، دفاع ملک و ملت سمیت ہر شعبہ میں نظریہ کی پاسداری کی۔ شہید کی دوٹوک اور اٹل نظریاتی وابستگی جہاں اداروں کیلئے ناقابل برداشت تھی وہیں بعض داخلی عناصر کیلئے بھی ناقابل ہضم تھی، شہید کابنیادی محور مرکز اور قیادت کا ہر حال میں دفاع اور حمایت تھی اگرچہ سخت سے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ شہید کی فکر سے آگاہ اور ان کے ساتھ وقت گزارنے والے افراد گواہ ہیں کہ شہید نے نظریہ قیادت پر ایک لمحہ بھی سمجھوتا نہیں کیا اور تمام تر مشکلات کے باوجود قوم کو قومی و ملی پلیٹ فارم سے منسلک رکھا حتی جب بعض نافرمان لوگوں کی بے احترامی حد سے بڑھنے لگی تو شہید نے واضح الفاظ میں کہہ دیا میں ہر چیز کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں لیکن اپنے نظریہ کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوں۔ یہی وجہ تھی جب طوفان بدتمیزی کا عروج تھا، اقدار پامال ہو رہے تھے، ہر سطح پر ملی قیادت اور ملی پلیٹ فارم کو کمزور کرنے کیلئے سرتوڑ کوششیں ہورہی تھیں، ان ناگفتہ بہ حالات میں شہید کے پختہ نظریات میں تزلزل آیا نہ پاؤں لڑکھڑائے بلکہ سیسہ پلائی دیوار بن کر نظریہ قیادت کادفاع کیا اور ہر محاذ پر دشمن کو ناکام کیا۔ زندان کی سلاخوں میں بیٹھنا برداشت کیا لیکن اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا اور خون کے آخری قطرہ تک اسی نظریے پر قائم اور آخری سانس تک نظریہ قیادت کے پاسبان رہے۔ افسوس صد افسوس تاریخ کا ستم یہ ہے کہ ہر دور میں شخصیات کے افکار تحریف کرنے کی کوشش اور لوگوں کو اصل حقائق سے دور کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں، ان شخصیات میں شہید مظلوم ضیاء الدین رضوی بھی ہیں جن کی نظریاتی سرحدوں میں تحریف کی گئی اور ہر انسان کی اساس اس کا نظریہ ہوتا ہے وہ سارا کچھ حتی اپنی جان کی بازی بھی لگادیتا ہے لیکن اپنے نظریہ پر آنچ نہیں آنے دیتا ۔ شہید کی زندگی میں شہید کو ستانے والوں نے شہید کی شہادت کے بعد ان کے افکار میں تحریف کرنے کا علم اٹھایا اور جس نظریہ کیلئے شہید کٹ مرنے کیلئے تیار تھے اور اسی نظریہ پر شہید ہوگئے اس نظریہ کو مٹانے والے کس منہ سے شہید کا نام استعمال کرتے ہیں؟جس نظریہ سے شہید ایک لحظہ کیلئے جدا ہونے کو تیار نہ تھے وہ نظریہ کہاں ہے؟ شہید کی تحریک نصاب کا تو نام تک نہیں!کہیں ذاتی مفادات کیلئے اداروں سے ساز باز کا تو نتیجہ نہیں؟گلگت کے ولولے کیوں ویران ہوگئے؟؟ سیاست علوی سمیت تمام میدان خالی ہوگئے، شہید زندہ ہوتے تو گلگت بلستان کے یہی حالات ہوتے؟ وہ کس کی قیادت میں قوم کی ترجمانی فرما رہے ہوتے؟ رونقیں کیوں اجڑ گئیں؟؟ شہید کے نام پر شہید کے نظریات کو کیوں پامال کیا گیا؟؟ دشمن نے شہید کے بدن کو مارا، اپنے آپ کو شہید کے وارث کہلوانے والے شہید کے نظریہ کو کیوں قتل کر رہے ہیں؟؟ یاد رکھنا چاہئے کہ شہدا کے افکار میں ردوبدل اور تحریف شہدا کے ساتھ خیانت اور ناقابل معافی جرم ہے۔ شہید کی روح تڑپتی ہوگی اور آہ و سسکیوں کے ساتھ کہتی ہوگی جن نظریات کی وجہ سے میری زندگی میں تم ستاتے رہے میری شہادت کے بعد میرے نظریات میں تحریف کرکے میری شہادت کےبعد بھی ظلم وستم جاری ہے۔ !

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here