علامہ شیخ غلام محمد اور علامہ شہید سید ضیاء الدین کی یاد میں منعقدہ کانفرنس لائق قدردانی ہے
علامہ شیخ غلام محمد اور علامہ شہید سید ضیاء الدین کی یاد میں منعقدہ کانفرنس لائق قدردانی ہے
علامہ شیخ غلام محمد مرحوم اور علامہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس لائق قدردانی ہے
قائد ملت جعفریہ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام بمناسبت عظیم الشان کانفرنس برائے علامہ غلام محمد غروی و شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی ملک کے ماضی کے شمالی علاقہ جات اور موجودہ گلگت بلتستان کے گیور اور بہادر عوام کو جہاں یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرکے خود سے مملکت خداداد پاکستان سے الحاق کیا وہیں یہ اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا کہ اس خطہ کی زرخیز مٹی نے اسلامی تہذیب و تمدن اور اقدار کو پروان چڑھاکر، ملی اور مذہبی حوالوں سے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ اسلامی کلچر کے فروغ اور اصلاح معاشرہ کی جدوجہد کا سہرا ان روحانیوں، علماء و اکابرین کے سرجاتا ہے جن کی سرپرستی میں گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا مذہبی و قومی تشخص قائم رکھا ہوا ہے۔ انہی شخصیات میں سرفہرست نام حضرت علامہ شیخ غلام محمدمرحوم اور حضرت علامہ سید ضیاءالدین رضوی شہید کے ہیں ۔ اس خطے کے دو بڑے شہر اسکردو بلتستان اور علاقائی صدر مقام گلگت ہیں۔ ان دونوں مقامات کی انفرادیت اور پہچان کے ایسے اسباب فراہم ہوئے کہ ایک شہر کو حضرت علامہ شیخ غلام محمد مرحوم کی جدوجہد سے جبکہ دوسرے کو حضرت علامہ سید ضیاء الدین رضوی شہید کے متحرک و موثر کردار اور خدمات سے استفادہ کے مواقع میسر آئےجن سے کسب فیض کرکے عوام اور خواص نے مختلف شعبہ ہائے حیات میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ان دونوں محترم شخصیات کی دیگر خوبیوں اور خصوصیات کے ساتھ ساتھ ان کا خاص طرہ امتیار یہ رہاہے کہ انہوں نے اپنی مسلسل جدوجہد کو ہمیشہ قومی و ملی پلیٹ فارم سے مربوط رہ کر انجام دیا۔ ایک مدت سے گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی مسئلہ آئینی حقوق کی فراہمی رہا چنانچہ قومی و ملی پلیٹ فارم نے اس اہم معاملہ کو پر زمانے میں اپنے ایجنڈے کا اولین نکتہ قرار دیا کیونکہ ریاست کا آئین اور قانون خود ان حقوق کی فراہمی اور تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے چنانچہ اس حوالے سے ایک مدت تک یہ خطہ سرزمین بے آئین کے نام سے جانا جاتا رہا اگر چہ قومی پلیٹ فارم نے فوم سے اور مسلسل جدوجہد کے نتیجہ میں کافی پیش رفت دیکھنے کو ملی لیکن تک ہمارے مطالبہ ؛ ترقی کا بس اک منصوبہ۔۔۔ پانچواں صوبہ کی تکمیل باقی ہے۔ حضرت علامہ شیخ غلام محمد مرحوم نے پیرانہ سالی کے باوجود علاقائی صدر کی حیثیت سے اس علاقے کی ترقی و خوشحالی اور آئینی حقوق کی فراہمی کی تحریک کو آگے بڑھایا تو حضرت علامہ سید ضیاء الدین رضوی نے ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے نصاب تعلیم جیسے حساس معاملہ کی جانب ارباب اقتدار کی توجہ مبذول کرائی اور ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کے ذریعہ مسئلہ کو آگے بڑھایا اسی پاداش میں ان کی شہادت کا دلخراش سانحہ بھی قوم کو برداشت کرنا پڑا۔البتہ ان کی مثبت سوچ اور فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے خدمات کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس وقت بھی ملی و قومی پلیٹ فارم گلگت بلتستان کے اہم خطے کی ترقی و خوشحالی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کو سیاسی، اخلاقی، آئینی اور قانونی انداز میں آگے بڑھا رہا ہے تاہم ان دو عظیم شخصیات نے جس انداز میں اپنے جدوجہد کو آگے بڑھایا اور گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ان کی یاد او رخدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا سب سے اہم اور موثر ذریعہ یہ ہے کہ ہم ان کی سوچ اور فکر کو عام کریں۔ جن اہداف کے حصول کے لیے انہوں نے اپنی زندگیاں صرف کیں ان کو پیش نظر رکھ کر یکسوئی اور تسلسل سے ان کی جدوجہد اور کردار کو مشعل راہ بنائیں۔ دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم المقدسہ کے مسئولین کی جانب سے علامہ شیخ غلام محمد مرحوم اور علامہ شہید سید ضیاء الدین رضوی کی یاد میں منعقدہ کانفرنس لائق قدردانی ہے جس سے نہ صرف ان عظیم شخصیات کی خدمات کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ان کی جدوجہد سے بھرپور عملی استفادہ کا پہلو بھی سامنے آئے گا۔ ان محترم شخصیات کے درجات کی بلندی اور کانفرنس کے منتظمین کی توفیقات خیر میں اضافے کے لیے دعاگو ہیں۔ والسلام سید ساجد علی نقوی

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here