جانشین رسول مکرم ﷺ وارث دین و شریعت ‘ نشان عدل و انصاف امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا دور حکومت اور طرز حکومت انسانی تاریخ میں منفرد حیثیت کا حامل ہے جس کی دوسری مثال تاریخ انسانی میں موجود نہیں ہے۔ مختصر ترین مدت اور مشکل ترین حالات میں امیرالمومنین ؑ نے جس انداز سے حکومت اسلامی کی بنیاد ڈالی اور قرآنی احکام اور نبوی ؐ شریعت کے نفاذ کے لیے جدوجہد فرمائی تو اپنی مثال آپ ہے۔ داخلی و خارجی بحرانوں سے نبردآزما ہوتے ہوئے عدل و انصاف کا قیام اور مساویانہ حقوق پر مبنی طرز حکومت صرف اور صرف علی ؑ کے حصے میں آیا۔ ذیل کی گذارشات میں ہم علی ؑ کا طرز حکومت خود علی ؑ کی زبانی نقل کریں گے جو تاریخ کی مختلف کتب میں موجود ہے تاکہ اگر تجزیہ و تحلیل کا مرحلہ آئے تو انسانی کلام یا ہماری گذارشات کی بجائے خود صاحب و حاملِ عصمت امام کے کلام کا مطالعہ و مشاہدہ کیا جائے۔
امیرالمومنین ؑ نے سب سے پہلے خلافت اور حکومت پر براجمان ہونے والے انسان کی اہلیت کے بارے میں جو قواعد بیان کیے ہیں وہ اس طرح ہیں کہ
’’اے لوگو ۔ تمام لوگوں میں اس خلافت کا اہل وہ ہے جو اس کے نظم و نسق کے برقرار رکھنے کی سب سے زیادہ قوت و صلاحیت رکھتا ہو اور اس کے بارے میں اللہ کے احکام کو سب سے زیادہ جانتا ہو۔
جب خود منصب خلافت سنبھال چکے تو ایک موقع پر رعیت اور حکمران کے باہمی تعلق اور ان کے ایک دوسرے پر حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا
اللہ سبحانہ تعالے نے مجھے تمہارے امور کا اختیار دے کر میرا حق تم پر قائم کردیا ہے اور جس طرح میرا تم پر حق ہے ویسا ہی تمہارا بھی مجھ پر حق ہے۔ یوں تو حق کے بارے میں باہمی اوصاف گنوانے میں بہت وسعت ہے لیکن آپس میں حق وانصاف کرنے کا دائرہ بہت تنگ ہے۔دو آدمیوں میں اس کا حق اس پر اسی وقت ہے جب دوسرے کا بھی اس پر حق ہو۔ اور اس کا حق اس پر تب ہی ہوتاہے جب اس کا حق اس پر بھی ہواور اگر ایسا ہوسکتا ہے کہ اس کا حق تو دوسروں پر ہو لیکن اس پر کسی کا حق نہ ہو تو یہ امر ذات باری کے لیے مخصوص ہے نہ اس کی مخلوق کے لیے کیونکہ وہ اپنے بندوں پر پورا تسلط و اقتدار رکھتا ہے۔۔۔۔ سب سے بڑا حق کہ جسے اللہ سبحانہ تعالے نے واجب کیا ہے وہ حکمران کا رعیت پر اور رعیت کا حکمران پر حق ہے کہ جسے اللہ نے والی و رعیت میں سے ہر ایک کے لیے فریضہ بنا کر عائد کیا ہے۔۔۔۔ چنانچہ رعیت اسی وقت خوش حال رہ سکتی ہے جب حاکم کے طور طریقے درست ہوں اور حاکم بھی اسی وقت صلاح و درستگی سے آراستہ ہوسکتا ہے جب رعیت جس کے احکام کی انجام دہی کے لیے آمادہ ہو۔جب رعیت کے حقوق سے عہدہ برآ ہو تو ان میں حق باوقار ‘ دین کی راہیں استوار اور عدل و انصاف کے نشانات برقرار ہو جائیں گے۔ اور پیغمبر ؐ کی سنتیں اپنے راستے پر چل نکلیں گی اور زمانہ سدھر جائے گا۔بقائے سلطنت کی توقعات پیدا ہوجائیں گی اور دشمنوں کی حرص و طمع ‘ یاس و ناامیدی میں بدل جائے گی۔
اور جب رعیت حاکم پر مسلط ہوجائے یا حاکم رعیت پر ظلم ڈھانے لگے تو اس موقع پر ہر بات میں اختلاف ہوگا۔ ظلم کے نشانات ابھر آئیں گے دین میں مفسدے بڑھ جائیں گے۔ شریعت کی راہیں متروک ہوجائیں گی۔خواہشوں پر عمل درآمد ہوگا ۔ شریعت کے احکام ٹھکرا دیئے جائیں گے۔ نفسانی بیماریاں بڑھ جائیں گی۔ اور بڑے سے بڑے حق کو ٹھکرا دینے اور بڑے سے بڑے باطل پر عمل پیرا ہونے سے بھی کوئی نہیں گھبرائے گا۔ ایسے موقع پر نیکوکار ذلیل او بدکردار باعزت ہوجاتے ہیں اور بندوں پر اللہ کی عقوبتیں بڑھ جاتی ہیں لہذا اس حق کی ادائیگی میں ایک دوسرے کو سمجھانا بجھانا اور ایک دوسرے سے بخوبی تعاون کرنا تمہارے لیے ضروری ہے ۔
علی ؑ کے طرز حکومت میں جن دو باتوں کو امتیازی حیثیت حاصل تھی وہ عدل و انصاف کا بلاتفریق نفاذ اور کرپشن و عدم مساوات کے خلاف دلیرانہ اقدامات ہیں۔ اسی تناظر میں جب مال کی تقسیم کے معاملے میں آپ کے برابری و مساوات کا اصول برتنے پر کچھ لوگ بگڑ اٹھے تو آپ نے ارشاد فرمایا
کیا تم مجھ پر یہ امر عائد کرنا چاہتے ہو کہ میں جن لوگوں کا حاکم ہوں ان پر ظلم و زیادتی کرکے (کچھ لوگوں کی) امداد حاصل کروں تو خدا کی قسم جب تک دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور کچھ ستارے دوسرے ستاروں کی طرف جھکتے رہیں گے میں اس چیز کے قریب بھی نہیں بھٹکوں گا۔ اگر یہ خود میرا مال ہوتا میں جب بھی اسے سب میں برابر تقسیم کرتا۔ چہ جائیکہ یہ مال اللہ کا مال ہے۔ دیکھو بغیر کسی حق کے داد و دہش کرنا بے اعتدالی اور فضول خرچی ہے اور یہ اپنے مرتکب کو دنیا میں بلند کردیتی ہے لیکن آخرت میں پست کردیتی ہے۔ اور لوگوں کے اندر عزت میں اضافہ کردیتی ہے مگر اللہ کے نزدیک ذلیل کردیتی ہے۔ جو شخص بھی مال کو بغیر استحقاق کے نااہل افراد کو دے گا اللہ اسے ان کے شکریہ سے محروم ہی رکھے گا اور ان کی دوستی و محبت بھی دوسروں ہی کے حصے میں جائے گا اور اگر کسی دن اس کے پیر پھسل جائیں (یعنی فقر و تنگدستی اسے گھیر لے) اور ان کی امداد کا محتاج ہوجائے تو وہ اس کے لیے بہت ہی برے ساتھی اور کمینے دوست ثابت ہوں گے۔
ایک موقع پر حکمرانوں کی اقسام اور ان کی حکومتوں کے اثرات و نتائج کے حوالے سے ارشاد فرمایا اور ساتھ ہی اپنے زمانے کی رعیت کی حالت زار کی منظر کشی بھی فرمائی۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
’’اے الگ الگ طبیعتوں اور پراگندہ دماغ والو۔ کہ جن کے جسم موجود اور عقلیں گم ہیں۔ میں تمہیں نرمی و شفقت سے حق کی طرف لانا چاہتا ہوں اور تم اس سے اس طرح بھڑک اٹھتے ہو جس طرح شیر کی دھاڑ سے بھیڑ بکریاں۔ کتنا دشوار ہے کہ میں تمہارے سہارے پر چھپے ہوئے عدل کو ظاہر کروں یا حق میں پیدا کی ہوئی کجیوں کو ظاہر کروں۔ بارالہا تو خوب جانتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہم سے (جنگ و پیکار کی صورت میں) ظاہر ہوا اس لیے نہیں تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی یامال دنیا کی طلب تھی بلکہ یہ اس لیے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر) پلٹائیں۔ اور تیرے شہروں میں امن و بہبودی کی صورت پیدا کریں تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے۔اور تیرے وہ احکام پھر سے جارے ہوجائیں جنہیں بیکار بنادیا گیا ہے۔ اے اللہ۔ میں پہلا شخص ہوں جس نے تیری طرف رجوع کیااور تیرے حکم کو سن کر لبیک کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی نے بھی نماز پڑھنے میں مجھ پر سبقت نہیں کی۔ اے لوگو تمہیں یہ معلوم ہے کہ ناموس ‘ خون ‘ مال غنیمت نفاذ احکام اور مسلمانوں کی پیشوائی کے لیے کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حاکم ہوکیونکہ اس کا دانت مسلمانوں کے مال پر لگا رہے گا۔ اور نہ کوئی جاہل کہ وہ انہیں اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہ کرے گا۔ اور نہ کوئی کج خلق کہ وہ اپنی تند مزاجی سے چرکے لگاتا رہے گا۔ اور نہ کوئی مال و دولت میں بے راہ روی کرنے والا کہ وہ کچھ لوگوں کو دے گا اور کچھ لوگوں کو محروم کردے گا۔ اور نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا کہ وہ دوسروں کے حقوق کا رائیگاں کردے گااور انہیں انجام تک نہیں پہنچائے گا۔ اور نہ کوئی سنت کو بیکار کردینے والا کہ وہ امت کو تباہ و برباد کردے گا۔
اپنے دور حکومت میں اپنے مقرر کردہ ایک عامل کے نام مکتوب میں اسے شدت اور سختی کی بجائے اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی ہدایت پر مشتمل ایک مکتوب میں آپ نے فرمایا ۔
’’ تمہارے شہر کے زمینداروں نے تمہاری سختی ‘ سنگدلی ‘ تحقیر آمیز برتاؤ اور تشدد کے رویہ کی شکایت کی ہے۔ میں نے غور کیا تو وہ شرک کی وجہ سے اس قابل تو نہیں آتے کہ انہیں نزدیک کرلیا جائے۔ اور معاہدہ کی بنا پر انہیں دور پھینکا اور دھتکارا نہیں جا سکتا لہذا ان کے لیے نرمی کا ایسا شعار اختیار کرو جس میں کہیں کہیں سختی کی بھی جھلک ہو۔اور کبھی سختی کرلو اور کبھی نرمی برتو۔ اور قرب و بعد اور نزدیکی و دوری کو سمو کر بین بین راستہ اختیار کرو۔‘‘
سیرت علی ؑ ابن ابی طالب میں ہر حکمران اور صاحب اقتدار انسان کے لیے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ حتی کہ کسی بھی لحاظ اور معاشرے کے کسی بھی شعبے میں کسی بھی ذمہ داری پر فائز انسان کے لیے رہنمائی کا نور موجود ہے جس کے ذریعے وہ جہاں عدل و انصاف قائم کرسکتا ہے وہاں مساویانہ سلوک ‘ مساویانہ پالیسیاں ‘ مساویانہ قواعد اور مساویانہ اقدامات کے ذریعے اپنے اردگرد ماحول کو خوشحال و پرامن بنا سکتا ہے۔مگر ایک حقیقت سب کے مدنظر رہے کہ جس طرح عدل کے قیام اور کرپشن کے خاتمے کے لیے علی ابن ابی طالب ؑ کو بہت بھاری قربانی کی صورت میں قیمت چکانا پڑی ہے اور محراب مسجد میں شہادت کی منزل پر فائز ہونا پڑا ہے اسی طرح علی ؑ کے طرز حکومت کو اختیار کرنے اور نافذ کرنے کی خواہش رکھنے والے ہر انسان کو بڑی سے بڑی قربانی کے لیے آمادہ و تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہمارے معاشروں میں بے عدلی ‘ ناانصافی‘ بے اعتدالی ‘ کرپشن اور حق تلفی اس سطح تک پہنچ کر راسخ و مستحکم ہوچکی ہے کہ اس کے خاتمے کے لیے قربانیاں دینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here