غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے جنوبی شہر مارسیلز میں واقع مسجد ’السنہ‘ کے حوالے سے گورنر نے مسجد کے امام و خطیب پر نمازیوں کو انتہا پسندی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کرکے عدالت سے رجوع کر لیا۔ اس پر عدالت نے امام مسجد کو امامت اور خطابت سے روکتے ہوئے مسجد کو چھ ماہ کیلئے بند کردیا۔ عدالت نے امام مسجد کو لوگوں میں اشتعال انگیزی پھیلانے اور شدت پسندانہ نظریات کی حوصلہ افزائی کرنے کا مرتکب قرار دیا۔

واضح رہے کہ حکومت فرانس نے 13 نومبر 2015 کو پیرس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے فروغ میں ملوث 19 مساجد سیل کردی تھیں۔ ملک میں اب ہنگامی حالت ختم کردی گئی ہے لیکن حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے کئی قوانین اب بھی نافذ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here