فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ
فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ
  • فلسطین کی وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر جو جمعے کو مسلسل اکیسویں ہفتے بھی جاری رہا صیہونی فوجیوں کی براہ راست وحشیانہ فائرنگ میں دو فلسطینی شہید اور دوسو ستر زخمی ہوگئے۔
    فلسطین کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ زخمیوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ تیس مارچ دوہزار اٹھارہ کو یوم الارض سے شروع ہونے والا فلسطینیوں کا واپسی مارچ ہر ہفتے جاری ہے۔
    اس دوران صیہونی فوجیوں نے پرامن فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک سو اٹھہتر سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور اٹھارہ ہزار سے زائد کو زخمی کردیا۔
    دنیا کے بہت سے ملکوں منجملہ اسلامی جمہوریہ ایران اور بین الاقوامی اداروں نے صیہونیوں کے ان وحشیانہ حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
    تیس مارچ کو فلسطینیوں نے یوم الارض کی مناسبت سے واپسی مارچ کے عنوان سے مظاہرہ کیا تھا یہ وہی تاریخ ہے جب تیس مارچ انیس سو سڑسٹھ کو صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کی اراضی کو ضبط کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔
    صیہونی حکومت فلسطینیوں کی اراضی کو ضبط اور ان پر غیر قانونی بستیاں تعمیر کرکے فلسطینی علاقوں کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ اس طرح فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا غاصبانہ تسلط اور قبضہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوسکے۔
    اس درمیان فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ پرامن واپسی مارچ فلسطینیوں کے سبھی مطالبات کی تکمیل تک جاری رہے گا۔
    حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینیوں کا عظیم واپسی مارچ صیہونی دشمن کو اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اس مارچ نے صیہونی دشمن کے سبھی اندازوں کو غلط ثابت کردکھایا ہے۔حماس کے ترجمان نے کہاکہ پرامن واپسی مارچ کے دوران فلسطینیوں کی فداکاریوں کا فلسطینی قوم کےحق میں جلد ہی نتیجہ برآمد ہوگا۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پرامن مظاہرے کو کچلنے کے لئے براہ راست گولیوں کا استعمال کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ فقط عالمی ادارے خاموش ہیں بلکہ امریکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here