ہمارے نمائندے نے فلسطین کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک فلسطینی نوجوان جو جمعے کو مرکزی غزہ کے البریج نامی علاقے میں صیہونی فوجیوں کے حملے میں زخمی ہوگیا تھا ، شہید ہوگیا ہے ۔غاصب صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے انیس فروری کو بھی غزہ کے شہر رفح پر دس راکٹ گرائے تھے ۔اسی طرح جنوبی غزہ کے شہر رفح کے مشرق میں النہضہ نامی علاقے پر صیہونی فوج کی گولہ باری میں دو فلسطینی زخمی ہوگئے ۔صیہونی حکومت ہر کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی بہانے سے غزہ کےمختلف علاقوں پر فضائی حملے اور گولہ باری کرتی رہتی ہے ۔غزہ سن دو ہزار چھے سے غاصب صیہونی کے سخت زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے میں ہے جس کی وجہ سے یہاں کے باشندوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔دوسری طرف مشرق وسطی کے امور میں اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نیکولای ملادینوف نے غاصب صیہونی حکومت سے غرب اردن میں فلسطینیوں کے رہائشی مکانات اور اسکولوں کو منہدم کئے جانے کا سلسلہ بندکرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ دو حکومتوں کی تشکیل کے لئے مذاکرت کا جلد سے جلد آغازہونا اور غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس نے بھی شرکت کی تھی ۔ادھر امریکا کے ایک امن کارکن نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں امداد رسانی بند کرنے کو نسل پرست صیہونی حکومت کی مدد اور جنگی جرم سے تعبیر کیا ہے ۔قابل ذکر ہے امریکا نے حال ہی میں انروا کے لئے اپنی تین سو ملین ڈالر کی سالانہ امداد میں سے ایک سو پچیس ملین ڈالر کی رقم روک لی ہے۔ امریکا نے اسی کے ساتھ بعد کے مرحلے میں بھی پچپن ملین ڈالر کی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے ۔امریکا کے پنک کوڈ نامی امن گروپ کے رکن ٹائی بیری نے ایک انٹرویو میں وائٹ ہاؤ‎ س کی جانب سے انروا کی امداد بند کرنے کے اقدام کو فلسطینی مہاجرین کو ختم کرنے کی پالیسی سے تعبیر کیا ۔ انھوں نے اسی طرح کہا کہ غزہ صیہونی حکومت کے ظالمانہ محاصرے کی وجہ سے ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہوگیا ہے ۔انھوں نے انروا اور فلسطین کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے نتیجے کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ یورپ نعرے لگانے کے بجائے غیر قانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر کو روکنے اور مظلوم فلسطینیوں کی مدد کے لئے عملی اقدام کرے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here