5اگست 2017
*قائد شھید علامہ عارف حسین الحسینی کی انتیسویں برسی حرم حضرت فاطمہ معصومہ(س) قم المقدسہ*

*تلاوت قرآن کریم:* برسی کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا.تین قاری حضرات نے تلاوت قرآن مجید کا شرف حاصل کیا اور شرکا نے بھی قائد شھید کے درجات کی بلندی کے لیے قرآن خوانی کی .
*سلام :* تلاوت کلام مجید کے بعد جناب عادل حسین صاحب، جناب سعادت علی صاحب اور جناب واجد علی صاحب نے قائد شہید کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اور ان کے بعد قائد شھید کے علاقے کے ذاکر شجاعت حسین فخری نے خصوصی طور پر قائد شھید کے نام ترانہ پیش کیا۔
*قائد ملت کا پیغام:* سید شجاعت حیدر شیرازی نےقائد شھید کی برسی کے حوالے سے قائد محبوب کی جانب سے 5اگست 2017 کو جاری ہونے والا پیغام حاضرین کو پڑھ کر سنایا۔
*خطاب:*
1- شعبہ خدمت زائرین کے مسئول سید ناصر عباس انقلابی صاحب نے حاضرین سے خطاب کے دوران کہا کہ قائد شہید آج بهی ہمارے درمیان موجود ہیں. شہید قائد کے بتائے ہوئے راستے پر انکے حقیقی جانشین قائد ملت جعفریه حضرت آیت‌الله‌ علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ کی زیر قیادت یہ کارواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے. انہوں نے کہا کہ موجودہ قائد ان کے خوابوں کی زندہ تعبیر ہیں۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے اور حاضرین نے
*ساری قوم کے دل کاچین*
*عارف حسین عارف حسین*
اور
*جس قوم کا نعرہ علی ولی*
*اس قوم کا قائد ساجد علی*
کے نعروں سے شہید قائد اور شھدا ملت سے تجدید عہد کیا کہ شیعیت کے لیے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے.
اور قائد شھید سے خالصانہ محبت کا اظہار موجودہ قائد کا ساتھ دے کر کرنا ہوگا ہے۔ قائد شھید کی روح کی شادمانی یعنی موجودہ قیادت کی قدردانی و احترام ہے۔
2- قائد شھید کے پریس سیکریٹری جناب انور زیب صاحب نے خطاب کرتے ھوئے کہا کہ قائد شھید ایک عارف اور باتقوی انسان تھے۔ یہی عمل ان کی مقبولیت کا سبب تھا دوسری چیز اتحاد بین المسلمین اور تیسری چیز پیروی ولی امرالمسلمین تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ملت جعفریہ کو جو بهی مشکل درپیش ہوتی تو قائد شھید سب سے پہلے موجودہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے رابطہ کر کے لائحہ عمل تیار کرتے تھے اور انہوں نے عملی طور پر ظاہر کر دیا تھا کہ مستقبل کے دوراندیش قائد سید ساجد علی نقوی ہیں۔
3- علامہ ظفر عباس نقوی جو قائد شہید کے مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں نے خطاب کیا . انہوں نے کہا کہ قائد شہید کی شہادت کے 29 سال بعد بھی ان کا ذکر ہو رہا ہے تو یہ انکے اخلاص اور بے لوث خدمت کا نتیجہ ہے.
انہوں نے قائد شھید کی زندگی کے مختلف پہلوں پہ روشنی ڈالی۔
انہوں نے فرمایا کہ قائد شھید اتنے شگیق تهے کہ انہوں نے اپنے قاتل کی مہمان نوازی کی اور شہادت سے ایک دن پہلے جس کو اپنے ہاتھوں سے کھانا لا کر دیا وہی آپ کا قاتل نکلا. آخر میں انہوں نے دختر مظلوم کربلا حضرت سکینہ کا مصائب پڑها۔
اختتام پر قائد شھید و شھدا ملت جعفریہ کے درجات کی بلندی کی دعا کی گئی.
*منجانب شعبہ خدمت زائرین دفترقائدملت جعفریہ قم المقدسہ*

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here