قرآن کریم  اور ختم نبوت ﷺ تحریر: فرحت حسین

قانون فطرت ہےکہ اللہ نے ھدایت دینے والوں کو دنیامیں پہلے بھیجا اورھدایت لینے والوں کو بعد میں بھیجا ۔حضرت آدم علیہ السلام کی مثال ہمارے لیے واضح ہے کہ  نبی آدم ؑ ھادی بن کرسب سے پہلے آئے اور ھدایت لینےوالے بعد میں دنیا میں آئے ۔ھدایت کے اس سلسلہ کو منصب نبوت و رسالت کا
نام دیا گیا جس پر تقریبا ایک  لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرانِ خدا تشریف لائےاور ان میں آخری پیغمبر حضرت رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اس کے بعدخلافت وامامت کا سلسلہ اللہ نے اپنے بندوں میں رائج کر دیا ۔آپ ﷺ کیخاتمیت کا اعلان اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتا ب قرآن مجیدمیں نصوصصریحیہ سے ہوا ۔پس اسلام کے اندر خاتمیت ایمان مذہبی کی ایک اصلی جڑھ مانی گئی ہے یہ رسول اسلام ﷺ کے بعد کسی بھی  رسول کی نفی کرتی ہے جس وقتہم اسلام کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ہرگزپیغمبر اکرم ﷺ کی خاتمیت سےغافل نہیں ہوتے ،کو ن مسلمان ہے کہ محمدﷺ کی یاد  کے ساتھ  ان کی خاتمیتکو یاد نہ رکھے ؟اور اس بات کی تردید کرے کہ قرآن وحی الٰہی کا  آٓخری
پیغام ہے ؟قرآن مجید میں ایک سو سے زیادہ آیات کا معنی ومفہوم اس بات
پر ہے کہ حضوراکرمﷺ کی ذات گرامی خاتم النبین والمرسلین ہے ۔

وہ آیت جو حضور اکرم ﷺ کی خاتمیت کا اعلان  واضح طور پر  کرتی ہے

ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم  النبیین وکان اللہ
بکل شی ء علیما۔ [1]

محمد صلی اللہ علیہ و آلہٰ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں
ہیں۔ ہاں البتہ وہ اللہ کے رسولﷺ اور خاتم النبیین ﷺ (یعنی سلسلۂ انبیاء
کے ختم کرنے والے اور مہرِ اختتام ہیں) اور خدا ہر چیز کا خوب جاننے والا
ہے۔

لغت میں لفظ خاتم

الختم والطبع کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں کبھی تو  ختمت و طبعت کے
مصدر ہوتے ہیں اور اس کا معنی کسی چیز پر مہر لگانے  کے ہیں ۔اور کبھی اس
نشان کو کہتےہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا ہے ۔

مجازا ََکبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کر لینا اور اس کا محفوظ
کرنا مراد ہو تاہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ
کر دیا جاتا  ہے کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو ۔

قرآن پاک میں آیا ہے ۔ ختم اللہ علی قلوبھم  ۔۔۔۔۔۔ اللہ نے ان کے
دلوں پر مہر لگا دی ہے ۔

سورہ الاحزاب میں  آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین فرمانے کے معنی یہ ہیں کہ
آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد سے سلسلہ نبوت کو مکمل کر دیا(اور آپ کے بعد
کوئی نبی نہیں آئے گا )[2]

اور اسی طرح اس آیت   میں آیا ہے

ختامہ مسک ۔۔۔۔ جس کی مہر مسک کی ہو گی میں بعض نے کہ کہ ختام کے معنی
مایختم بہ کے یعنی وہ چیز جس پر اختتام ہوتا ہو۔

خاتمیت کے  معنی کو  اہل فارسی لغت والوں نے یوں تحریر کیا ہے

خاتمیت  مصدر   صناعی  باب ختم یختم ختما اس کے معنی لغت میں  ’’پایان
دادن ،مھر نھادن و امضاءاست ‘‘کے ہیں [3]

سورہ الاحزاب کی چالیسویں آٰیت میں مفسرین  نے بہت ساری تفصیل کوذکر کیا
ہے مثال کے طور پر خاتم کا معنی  اور اس پر ہونے والے اعتراضات کا جواب
اور اسی طرح اس آیت میں بیان کیے گئے الفاظ کی تفسیر و تشریخ  مثلااس
آیت میں موجود لفظ’’ لکن‘‘ کا کیا معنی ہے اس میں موجود خاتم کا کیا
مطلب ہوتاہے ۔

اہل سنت مفسر قرآن  علامہ مودودی کا ختم نبوت کے بارے میں نظریہ

علامہ  مودودی نے  سورہ احزاب کی چالیس آیت کا ترجمہ کرنے کے بعد حاشیہ
میں لکھا اس موضوع کی اہمیت بہت زیادہ ہے جس وجہ سے انہوں نے اس سورہ کے
آخر میں ایک ضمیمہ کے طور پر صفحہ نمبر 139 تا 170 تک اس موضوع پر
تفصیلی تحریر لکھی ہے ۔

ایک گروہ جس نے اس دور میں نئی نبوت کا فتنہ عظیم کھڑ ا کیا ہے لفظ خاتم
کے معنی ’’نبیوں کی مہر‘ کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ نبی ﷺ کے
بعد جو انبیا بھی آئیں گئے وہ آپ ﷺ کی مہر لگنے سے نبی بنیں گئے یا
بالفاظ دیگر جب تک کسی نبوت پر آپ کی مہر نہ لگے وہ نبی نہ ہو سکے گا

لیکن جس سلسلہ بیان میں یہ آیت وارد ہوئی ہے اس کا اندر رکھ کر اسے
دیکھا جائے تو اس لفظ کایہ مفہوم لینے کی قطعا کوئی گنجائش نظر نہیں آتی
بلکہ اگر یہی اس کے معنی ہوں تو یہاں یہ لفظ بے محل ہی نہیں مقصود کلام
کے بھی خلاف ہو جاتا ہے آخر اس بات کا کیا تُک بنتا ہے کہ اوپر سے نکاح
زینب ؓ پر معترضین کے اعتراضات کے جوابات میں چلا آرہا ہے اس صورت میں
معترضین کے لیے یہ کہنے کا اچھا موقع تھا کہ آپ اس وقت یہ نہ کرتے تو
کوئی خطرہ نہ تھا ۔اس رسم کو مٹانے کی ایسی ہی کچھ شدید ضرورت ہے تو آپ
کے بعد آپ کی مہر لگ لگ کر جو انبیاء آتے رہیں گئے ان میں سے کوئی اسے
مٹا دے گا ۔

ختم نبوت کے بارے ارشادات  نبوی ﷺ

قرآن کے سیاق و سباق اور لغت کے لحظ سے اس کا جو مفہوم ہے اسی کی تائید
نبی ﷺ  کی تشریحات کرتی ہیں ۔مثال کے طور پر ایک  صحیح حدیث کو ذکر کرتے
ہیں

قال النبی ﷺ کانت بنو اسرائیل  تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی وخلفہ نبی
وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء [4]۔

نبی ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کی  قیادت انبیاء کیا کرتے تھے جب کوئی نبی
مرجاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا
۔بلکہ خلفا ہوں گئے۔

شعیہ ا ثناعشری  مفسر قرآن  آیت اللہ  محمد حسین نجفی  کا نظریہ

مسئلہ ختم نبوت بایں معنی کہ جو سید الانبیا ء بھی ہوئے ہیں کہ ان کے بعد
صبح قیامت کے طلوع ہونے تک کوئی نیا ، پرانا نبی بحیثیت نبی و رسول
تشریعی وغیر تشریعی ظلی یا بروزی منجانب اللہ نہیں آسکتا   ۔یہ ان
اسلامی مسلمات بلکہ ان ضروریات اسلام میں سے ہے جن پر تمام فرقہائے اسلام
کا اجماع و اتفاق ہے اور جن کا منکر دائرہ اسلام سے خارج متصور ہوتا ہے
۔[5]

ختم نبوت ، احادیث آئمہ طاہرین کی روشنی میں

اگرچہ اس سلسلہ میں آئمہ طاہرین علھم السلام کے بکثرت فرامین موجود ہیں
مگر بنظر اختصار چند ارشادات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے ۔

·       حضرت امام علی ؑ فرماتے ہیں

بعث اللہ محمدا  رسولہ لانجاز عدتہ وتمام نبوتہ [6]

یعنی خدا وند علام نے حضرت محمد ﷺ کو ایفائے عہد اور منصب نبوت کے تمام
کرنے کی خاطر رسول بنا کر بھیجا۔

·       حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں لقد ختم اللہ
بکتابکم الکتب وختم بینکم الانبیاء

خدانے تمھاری کتاب کے ذریعہ سے کتابوں اور تمھارے نبی کے ذریعہ تمام
انبیاء ؑ کو ختم کردیا ۔

·       حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام  فرماتے ہیں

لقد ختم بنبیکم فلا نبی بعدہ ابدا وختم بکتابکم الکتب فلاکتاب بعد ہ

یعنی خداوندعالم نے تمھار ے نبی کے ذریعے تمام انبیاء کو ختم کر دیا اب
ان کے بعد کبھی بھی کوئی نبی نہیں آئے گا اور  تمھاری کتاب کے ذریعہ
تمام کتابوں کو ختم کر دیا اب کوئی کتاب نہیں آئے گی

·       حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں : شریعۃ محمد ﷺ لاتنسخ
الی یوم القیامۃ ولا نبی بعدی الی یوم القیامۃ فمن ادعی بعدہ نبوۃ اواتی
بعد بکتاب فدمہ مباح لکل من سمع ذالک

پیغمبر اسلام ﷺ کی شریعیت قیامت تک منسوخ نہیں ہوگی اور آپ ﷺ کے بعد
قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا پس جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعوی کرے
یا کوئی کتاب لانے کاا دعا کرے تو جو شخص بھی اس کا دعوی سنے اس پر اس کا
خون مباح ہے

وہ  آیات جن میں خاتم الانبیا ء کا مفہوم موجود ہے

وہ آیات جن میں  الفاظ صراحت کے ساتھ موجود نہیں لیکن ان کے مفاھیم سے
واضح طور پر حضور اکرم ﷺ کے خاتم النبین ہونے کا علم ہو جاتا ہے وہ آیات
عمومی طور پر خاتمیت کا اعلان کرتیں ہیں ان میں  تفسیر نمونہ میں جن
آیات کاذکر کیا گیا وہ دج ذیل ہیں

·       واوحی الی ھذا القرآن لانذر کم بہ ومن بلغ [7]

یہ قرآن مجھ پر وحی ہو اتا کہ تمھیں اور ان دوسرے لوگوں کو جن تک یہ
قرآن پہنچے  میں ڈراؤں اور خدا کی طرف دعوت دوں ۔

ومن بلغ (تمام وہ لوگ جن تک یہ بات پہنچے) کی تعبیرکے مفہوم کی وسعت ایک
طرف تو قرآن مجید اور پیغمبر اسلام ﷺکی عالمی رسالت کو واضح کرتی ہے او
ر دوسری طرف ختم نبوت کو  بیان  کرتی ہے ۔

·       تبارک الذی نزل الفرقان علی عبدہ لیکون للعالمین نذیرا۔[8]

جاوید اور بابرکت ہے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تا کہ وہ
تمام اہل عالم کو ڈرائے

·       وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا و نذیرا۔[9]

ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر (تا
کہ لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیں اور جہنم سے ٖڈرائیں )

·       :قل یا یھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا- [10]

اے پیغمبر کہہ دیجیے  کہ اے لوگومیں تم سب کی طرف خداکا بھیجا ہو اہوں

ان آیات میں عالمین ،ناس اور کافۃ کے مفہوم کی وسعت بھی اس معنی کا موید
ہے اس سے قطع نظر کہ ایک تو اس پر علما اسلام کا اجماع ہے دوسرا یہ مسئلہ
ضروریات دین میں سے ہے ۔[11]

·       وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْن[12]

اور (اے رسول) ہم نے آپ کو بس عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ
كِتٰبٍ وَّحِكْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ
لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ
وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا۔ قَالَ
فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰہِدِيْنَ      [13]

اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا
کر دوں پھر آئندہ کوئی رسول تمہارے پاس آئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس
کی تصدیق کرے تو تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہو گا اور ضرور اس کی مدد
کرنا ہو گی، پھر اللہ نے پوچھا: کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف
سے (عہد کی) بھاری ذمہ داری لیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! ہم نے اقرار
کیا، اللہ نے فرمایا: پس تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

·       اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ[14]

اس ذ کر کو یقینا ہم ہی نے اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

·       اَلْيَوْمَ يَىِٕسَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِيْنِكُمْ فَلَا
تَخْشَوْہ وَاخْشَوْن اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ
وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ
دِيْنًا  فَمَنِ اضْطُرَّ فِيْ مَخْمَصۃ۔  غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْم
فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ–[15]

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پرپوری کر
دی اور تمہارے لیے اسلام کوبطور دین پسندکر لیا، پس جو شخص گناہ کی طرف
مائل ہوئے بغیر بھوک کی وجہ سے (ان حرام چیزوں سے پرہیز نہ کرنے پر)
مجبور ہو جائے تو اللہ یقینا بڑا بخشنے والا، مہربان ہے

یہ آیت ببانگ دہل اعلان  کر رہی ہے کہ جس قصر دین کا سنگ بنیاد حضرت
آدم ؑ نے رکھا تھا اور پھر یکے بعد دیگرے سب انبیاء اس کی تعمیر میں حصہ
لیتے رہے وہ آخر کار خاتم الانبیاء کے ہاتھوں پر اپنی تکمیل کو پہنچ گیا
ہے لہذا جب عقائد ،عبادات ،معاملات ،اور اخلاق وغیرہ وغرضکہ جب ہر لحاظ
سے دین مکمل ہوگیا ہے سب احکام نازل ہو چکے ہیں پیغمبر اسلام ﷺ نے ان کی
توضیح اور تبلیغ بھی کر دی ہے اور اب قرآن و سنت میں جمیع ما یحتاج الیہ
الامۃ موجود ہے تو پھر کسی نبی کے آنے کی ضرورت کیا ہے ؟

منابع و ماخذ

1.    سورۃ الانعام آیت ۱۹

2.    سورۃالفرقان،آیت  ۲۵

3.    سورۃ الاعراف،۱۵۸

4.    سورۃ  الاحزاب 40

5.    سورۃ الاسباء۲۷

6.    سورہ آل عمران ۸۱

7.    سورہ ‎الحجرآیت 9

8.    سورہ المائدہ، 3

9.    استاد محقق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی ،تفسیر نمونہ ،
جلد9،سورہ الاحزاب آیت  ۴۰،ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ،ص۶۶۳

10.                       امام محمد الرازی فخر الدین ابن علامہ ضیا
الدین عمر ،تفسیر الفخر الرازی المشتھر بالتفسیر و امفاتیح الغیب ،المجلد
التاسع ،مکتب التوثیق و الدراسات فی دار الفکر،بیروت لبنان ،ص ۱۸۸ ۔

11.                       الشیخ فخر الدین الطریحی ،مجمع البحرین،الجزء
الاول ،قسم الدراسات الاسلامیۃ موسسۃ البعثۃ  قم ،ایران ،ص۴۹۲

12.                       محسن علی نجفی ،الکوثر فی تفسیر القرآن ،جلد
۷، ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ،ص۷۶

13.                       سید ابوالاعلی ٰ موددی ،تفھیم القرآن ،جلد ۴
،سورہ لقمان تا سورۃ  الاحقاف،ناشر ادارہ ترجمان القرآن ،رحمن مارکیٹ
لاہور

14.                       حسن بن علی خانہ ،دائرۃ المعارف قرآن کریم
،مرکز فرہنگ قرآن ،قم ایران ،جلد یازدھم ،ص528

15.                       امام راغب اصفہانی ،مفردات القران( اردو)ترجمہ
شیخ الحدیث مولانا محمد عبدہ فیروزہ پوری ،الامی اکادمی  اردو بازار
لاہور ،جلد اول ، ص310

16.                       سید منذر حکیم اور عدی غریباوی ، منارہ ہدایت
خاتم الانبیاء محمدمصطفی ﷺ ،مترجم نثار احمد زین پوری ،موسسہ البیت علیھم
السلام ،ص۱۰

17.                       استاد شھید مرتضی مطھری ،خاتمیت،مترجم سید
سعید حیدر زیدی ،ناشر دار الثقلین ،طبع اول ،شوال 1431 ھ ستمبر 2010، ص۸

18.                       حجۃ الاسلام و المسلمین سید مجتبی موسوی لاری
، اسلام کے بنیادی عقائد، مترجم حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا روشن علی
نجفی،ناشرمرکز نشر معارف اسلامی در جھان ،جلد ۲ ،ص۱۹۹

19.                       آیت اللہ محمد حسین نجفی ،فیضان الرحمن فی
تفسیر القرآن ،مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ،جلد۸ ،ص۴۷

20.                       العلامہ السید محمد حسین الطباطبائی ،المیزان
فی تفسیر القرآن ،المجلد الثامن ،منشورات جماۃ المدرسین فی الحوزۃ
العلمیۃ  قم المقدسۃ ،ایران ،325

21.                       سید رضی علیہ الرحمہ ،نہج البلاغہ ،خطبہ
۲،ثاقب پبلی کیشنز لاہور،ص۶۰

22.                       محمد ابن اسماعیل،صحیح البخاری ،جلد۲ مترجم
مولانا  الظہور باری ،مصباح العلم لاہور،بخاری کتاب المناقب ۔ باب ماذکر
عن بنی اسرائیل ،

________________________________

[1] ۔سورہ  الاحزاب 40

[2] ۔امام راغب اصفہانی ،مفردات القران( اردو)ترجمہ شیخ الحدیث مولانا
محمد عبدہ فیروزہ پوری ،الامی اکادمی  اردو بازار لاہور ،جلد اول ، ص310

[3] ۔ حسن بن علی خانہ ،دائرۃ المعارف قرآن کریم ،مرکز فرہنگ قرآن ،قم
ایران ،جلد یازدھم ،ص528

[4] ۔ محمد ابن اسماعیل،صحیح البخاری ،جلد۲ مترجم مولانا  الظہور باری
،مصباح العلم لاہور،بخاری کتاب المناقب ۔باب ماذکر عن بنی اسرائیل

[5] ۔ آیت اللہ محمد حسین نجفی ،فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن ،مصباح
القرآن ٹرسٹ لاہور ،جلد۸ ،ص۴۷

[6] ۔ سید رضی علیہ الرحمہ ،نہج البلاغہ ،خطبہ ۲،ثاقب پبلی کیشنز لاہور،ص۶۰

[7] ۔سورہ انعام آیت ۱۹

[8] ۔ الفرقان،آیت  ۲۵

[9] ۔ سورہ سباء۲۷

[10] ۔ سورہ الاعراف،۱۵۸

[11] ۔ استاد محقق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی ،تفسیر نمونہ ،
جلد9،سورہ الاحزاب آیت  ۴۰،ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ،ص۶۶۳

[12] ۔‎الأنبياءآیت 107

[13] ۔سورہ آل عمران ۸۱

[14] ۔ سورہ ‎الحجرآیت 9

[15] ۔ سورہ المائدہ، 3

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here