• شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری پر قاتلانہ حملہ-
  • اربعین حسینی پر پاکستانی زائرین کے مسائل کے حل کے لئے کوششیں جاری ہیں علامہ شبیر میثمی
  • چار دیواری میں عزاداری کو روکنا غیر آئینی اقدام ہے ، شیعہ علماءکونسل
  • شہادتوں کا عظیم مشن کربلا سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے۔شہادتیں ہی عزاداری کی بقا ہیں۔
  • سبیل امام حسینؑ روکنے والا مجرم ہے علامہ سید ناظر عباس تقوی
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام قرآن کے پیغام کے عنوان سے کانفرنس گلگت میں منعقد
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت کی موجودہ صورتحال پر ہنگامی اجلاس
  • جعفریہ اسٹوڈنٹس کے جوانوں نے 18 ہزار فٹ کی بلندی پر علم حضرت عباس نصب کردیا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی گلگت میں شرپسندی کی شدید مذمت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی آغا حامد موسوی کی وفات پر تعزیت

تازه خبریں

قطر نے 80 ممالک کے لیے ویزا فری اسکیم متعارف کرادی

قطر نے 80 ممالک کے لئے مفت ویزا اسکیم متعارف کرا دی جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

قطر کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی فری ویزا اسکیم کے تحت یورپی یونین، مغربی ممالک، لاطینی امریکا اور ایشائی ممالک پر مشتمل 80 ممالک کے شہریوں کو مفت ویزا دستیاب ہوگا۔

حکام کے مطابق ویزا اسکیم میں شامل ممالک کے شہریوں کو صرف اپنا مستند پاسپورٹ دکھانا ہوگا جس کے بعد انہیں ملک میں داخلے کی اجازت ہوگی جب کہ ویزا فری اسکیم قطر کو خطے کا آزاد ترین ملک بنادے گی۔

فری ویزا حاصل کرنے والے نمایاں ممالک میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، جنوبی افریقا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور مشرقی افریقی ملک سیچلس شامل ہیں۔

پہلے سے ویزا فری 6 خلیجی ممالک کے علاوہ لبنان واحد عرب ملک ہے جسے اسکیم میں شامل کیا گیا ہے۔

مفت ویزا حاصل کرنے والے افراد کو ان کے ملک کی کیٹیگری کے حساب سے قطر میں قیام کی اجازت ہوگی، کم سے کم قیام کی مدت 30 روز اور زیادہ سے زیادہ 180 دن ہیں جب کہ شہریوں کے لئے 90 روز کا ویزا بھی ہے۔

قطر ٹورازم اتھارٹی کے قائم مقام چیرمین حسن ال ابراہیم کا کہنا ہے کہ فری ویزا اسکیم کے ذریعے لوگوں کو قطر کی جانب سے مہمان نوازی کا موقع ملے گا اور یہاں آکر غیر ملکیوں کو ثقافتی ورثے اور قدرتی خزانے کو دریافت کرنے کا موقع ملے گا۔

خیال رہے کہ نومبر 2016 میں قطر نے فری ٹرانزٹ ویزا متعارف کرایا تھا جس کے تحت مختلف ممالک کے مسافروں کو کم سے کم 5 گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ 4 دن تک قیام کی اجازت دی گئی تھی۔