قم *علامہ شہید حسن ترابی رح کی برسی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئ*
قم *علامہ شہید حسن ترابی رح کی برسی عقیدت واحترام کے ساتھ منائی گئ*
_____________________________
*دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ قم کی طرف سے بتاریخ 14 جولائی 2021 کو مجاہد ملت علامہ شہید حسن ترابی کی پندرویں برسی کی مناسبت سے دارالتلاوہ حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا میں مجلس ترحیم منعقد کی گئی جس میں پاکستانی علماء وطلاب وبزرگان نے شرکت کی۔* سب سے پہلے *جناب مولانا منتظر مھدی صاحب نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کے بعد جناب مولانا سکندر علی ناصری نے سکندر علی ناصری* *صاحب نے دعا ئے توسل کے ذریعے مجلس کو رونق بخشائے۔ اس کے بعدجناب مولانا علمدار صاحب نے ترانہ شہادت پیش کیا۔اس کے بعد مولانا محمد علی انصاری نے علامہ شھید حسن ترابی کی برسی کا انعقاد کرنے پر دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ قم کے مسئولین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نذرانہ عقیدت پیش کیا۔جبکہ دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ خدمت زائرین جناب سید ناصر عباس نقوی انقلابی صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ھوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔اس مجلس کے خطیب استاد حوزہ جناب قبلہ علامہ ڈاکٹر یعقوب بشوی صاحب تھے*
*ڈاکٹر صاحب نے شرکاء محفل سے خطاب کیا آپ نے سورہ آل عمران کی 146ویں آیت کو محور سخن قرار دیا*
*وَ کَاٴَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثیرٌ فَما وَہَنُوا لِما اٴَصابَہُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ وَ ما ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَکانُوا وَ اللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرینَ ۔*
*اور کتنے پیغمبر تھے جن کی معیت میں بہت سے خدا والوں نے جنگ کی تو انہوں نے راہ خدا میں پہنچنے والی مصیبت کے مقابلہ میں سستی نہیں کی اور نہ وہ کمزور وناتواں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سر جھکایا اور خدا صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۔*
*ربیّون کالفظ ایسی ذوات کےلیے قرآن نے استعمال کیا ہے کہ جن کی پرورش خاص طریقہ سے ہوئی ہوئی ہے*
*ربیّون کی صفات*
▪️راہ خدا میں پہنچنے والی مصیبت کے مقابلہ میں سستی نہیں کی
▪️اور نہ کمزوری دکھائی
▪️اور نہ ظالم کے سامنے جھکے
چونکہ انکی منزل خدا کی ذات تھی اور ہے اور انکا راستہ صراط مستقیم ہے تو وہ اللہ کے فیصلے کے آگے سرتسلیم خم ہوتے ہیں وہ ہواؤں کی لہر دیکھ کر اپنا رخ نہیں بدلتے ہیں وہ لوگ صبر کے لباس سے مزین ہوتے ہیں کیونکہ اللہ صابرین کو بہت پسند کرتا ہے
*شہید علامہ حسن ترابی کی ذات بھی کچھ ایسی تھی وہ کسی میدان میں سست پڑگئے اور نہ کمزوری* دکھائی اور نہ دشمن کے سامنے جھک گئے بلکہ دشمن کے نرغے میں گھس کر برملا کہہ دیا ہم نہ کسی میدان سے بھاگے ہیں اور نہ بھاگنے والوں سے تعلق رکھتے ہیں ہم نے کبھی دشمن کو پشت نہیں دکھایا
آپ کی ذات ہر فرقے کے نزدیک قابل تعظیم تھی جس کی دلیل آپکی شہادت کا دن ہے جس میں بلاتفریق تمام مذاھب کے علماء اور عوام بلکہ پوری پاکستانی قوم نالہ و فغاں نظر آئے۔ آپ کی پاکستانی قیادت سے دوستی آپکی اطاعت کی دلیل ہے آپ نے اپنے رہبر اور قائد کو کبھی تنہاء نہیں چھوڑا بلکہ اسی آیت میں ربیون کا لقب جنکو دیا ہے اسکا مصداق بن کر ہر میدان میں اپنے رہبر اور قائد کے ارد گرد پروانہ بنے رہے اور خوشی خوشی جام شہادت نوش کیا اور اپنے ہدف اور مقصد سے ایک اینچ پیچھے ہٹنے کےلیے تیار نہیں ہوئے۔
*ڈاکٹر بشوی صاحب نے آپکے کمالات اور اوصاف اور شجاعانہ مبارزات کا تذکر ہ بھی کیا اور آخر میں شہیدوں کا رہبر سید الشہداء اباعبداللہ الحسین ع کی قربانی کا تذکرہ فرماکر مومنین کے دلوں کو عشق حسینی ع سے پُر کیا۔*
*مجلس میں نظامت کا وظیفہ مسؤل شعبہ زائرین جناب سید ناصرعباس انقلابی صاحب نے انجام دئیے*
*ناصر عباس نقوی انقلابی صاحب نے کہا کہ شہید کی قربانی اور سندھ کے دھرتی پر آپ کی شجاعانہ مجاہدت کو ھم خراج عقیدت پیش* کرتے ہیں اور آج بھی شہید کے مشن کو جاری رکھتے ہو ئے *علامہ ناظر عباس تقوی نے سندھ کے مومنین کی خدمت کررہے ہیں یہ بھی شہید علامہ حسن ترابی کا دیا ہوا عطیہ ہے*
*مجلس کا اختتام جناب مولانا جان محمد جانی نے مسائل شرعی اور زیارت معصومین ع سے کیا اور شہید کی روح کی بلندی درجات کےلیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ آخر میں جناب آقا ناصر عباس نقوی انقلابی صاحب نے علامہ شھید حسن ترابی کے مشن کو جاری رکھنے کی خاطر زور دار نعروں سے شہید کی روح سے تجدید عہد کا اعلان کیا جبکہ مسؤل دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان شعبہ قم حجت‌الاسلام آقای شیخ غلام محمد شاکری نے استقبالیہ کا وظیفہ انجام دے رہے تھے۔*
____________________________