قومی تحریک کی چالیسویں سالگرہ امداد علی گھلو
قومی تحریک کی چالیسویں سالگرہ امداد علی گھلو

قومی تحریک کی چالیسویں سالگرہ امداد علی گھلو

۱۲/ اپریل ۱۹۷۹ شیعیانِ پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے، ملک بھر سے اہل درد مومنین ایک داعیِ حق کی دعوت پر بھکر میں جمع ہوئے تھے اور پاکستان میں دور جدید کی سب سے بڑی شیعہ قومی تحریک کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی، اب یہ تحریک زندگی کی ۴۰ بہاریں دیکھ چکی ہے۔ تاسیسی اجتماع میں شرکت کرنے والے مومنین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی، اس کے داعی علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم تھے، تمام مرکزی رہنما ایک نہایت خوبصورت گلدستہ تھے۔ ان میں معاشرے کے ہر طبقہ کی نمائندگی موجود تھی، اسی طرح ملک بھر کے تمام علاقوں سے لوگ اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے شاملِ کارواں ہو گئے تھے۔ شُرکاء میں ملک کے مایہ ناز و مستند علما اور جدید تعلیم یافتہ وُکلا اور ماہرین تعلیم بھی شامل تھے اور ان کے پہلو بہ پہلو بہت کم پڑھے لکھے بلکہ نیم خواندہ لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ بڑے بڑے زمیندار اور معاشی لحاظ سے خوشحال لوگ بھی شریکِ اجتماع تھے اور مستری و مزدور قسم کے دردِ دل رکھنے والے باشعور مومنین بھی حاضر تھے۔ اس تاسیسی اجتماع میں جماعت کا نام ’’ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان‘‘ رکھا گیا اور علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کو متفقہ طور پر ’’قائدملت جعفریہ‘‘ منتخب کیا گیا۔ یوں یہ قافلہ بے سرو سامانی کی حالت میں ’’ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا‘‘ کے جذبات سے سرشار ایک کٹھن اور مشکل سفر پر روانہ ہو گیا۔ تنکا تنکا جوڑ کر آشیانہ بنا کے وقت کی منہ زور اور مخالف موجوں کے گرداب میں اپنی کشتی ڈال دینے والے یہ لوگ بڑے باہمت تھے۔

وقت جوں جو ں گزرتا گیا، سیاسی، علمی، تحقیقی، ثقافتی، اجتماعی، فلاحی فعالیت بڑھتی اور مکتبی دعوت پھیلتی چلی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی بڑھتے چلے گئے لیکن قومی تحریک نے نورِولایت کو اندھیروں میں گِھرے دلوں میں پہنچا کر ہی دم لیا، دعائیہ پروگرامز، فہم قرآن کلاسز، شب بیداریوں، تربیتی ورکشاپس، دشمن شناسی، وظیفہ شناسی، دینی لٹریچرز وغیرہ کے سلسلہ کے ذریعے دینی ماحول کی تعمیر و تشکیل کا کام جاری رکھا۔ ظلم اور استبدادی نظام کے آگے حسینی فکر و جذبہ کا بند باندھا، مظلوم اور مستضعف کو آغوش میں لے کر احساس محرومی کو ختم کیا، اسلامی قدروں کا احیا، دینی اقدار کی پاسداری، اسلام کی سر بلندی، یزید وقت کی بیعت سے انکار، ظالم کے خلاف قیام، مظلوم کی سرپرستی، شیعہ حقوق کا تحفظ بالخصوص عزاداری سید الشہداء جیسے عملی اقدامات کر کے مکتب تشیع کو سر بلند رکھا، عظیم اسلامی تہذیب کے اِحیا کے لئے اپنی توانائیاں بروئے کار لانا، ڈسپنسریاں، بلڈبنکس، تعلیمی اداروں کا قیام، زلزلہ زدگان، سیلاب زدگان، اجتماعی شادیوں کے اقدامات، تعمیرمساجد، امام بارگاہیں و مکانات اور محروم و پسماندہ ایریاز میں منصوبہ آب رسانی کے لئے کروڑوں روپے کے ریلیف اور پروجیکٹس وغیرہ کے ذریعے شہرت اور تشہیر سے بے نیاز ہو کر قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں، ملی خدمات کی پاداش میں قومی تحریک کے کئی رہنما اور کارکن دہشتگردی کا شکار ہوئے، دشمن انہیں جھوٹی ایف آئی آرز اور قتل و غارت کے ذریعے دبانے کی مکروہ کوششوں میں ہمیشہ مصروف رہا لیکن وہ ان ظالموں کے سامنے کبھی نہیں جھکے، بلکہ دین اسلام پر قربان ہوتے چلے گئے۔
تکفیری کرائے کے قاتل جتنی تیزی سے آئے تھے ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ تحریکی کارکنان اتنی تیزی سے ان کے مقابلے میں آجائیں گے کہ انھیں (تکفیریوں کو) میدانوں و ایوانوں میں منہ کی کھانی پڑے گی، ان آندھیوں کے مقابل میں اتحاد و وحدت کا پرچم تھام کر اور اتحادِامت کی علامت بن کر قومی تحریک نے تاریخ کی وہ عظیم الشان مثال قائم کی جو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل رہی، ہے اور رہے گی۔
جس جماعت میں مفتی جعفر، شہید حسینی اور ساجد نقوی جیسے نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُر سوز قائدین ہوں نیز ان کی اُمیدوں کے پروانے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی، شہید انور علی آخونزادہ، شہید حسن ترابی، شہید ضیاءالدین رضوی، شہید خورشید انور ایڈووکیٹ، شہید صفر علی بنگش، شہید جاوید حیدر شاہ، شہید وقار حیدر نقوی، شہید قیصر چغتائی، شہید الطاف حسینی، شہید ذوالفقار نقوی، شہید حسنین ایڈووکیٹ، شہید ایوب صدیقی و۔۔۔ کی صورت میں جگمگا رہے ہوں بَھلا اس جماعت کو کون سپردِ خاک کر سکتا ہے، خیر اور شر کی جنگ ازل سے جاری ہے اور یہ جنگ تب تک پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی جب تک خیر غالب نہیں آجاتا۔
تشیع دشمن تکفیری عناصر، ان کے سہولت کار اور نادیدہ قوتوں کی اب تک تمنا رہی ہے کہ قومی تحریک کی قیادت اپنے اصولوں کو چھوڑ دے اور سمجھوتا کر لے لیکن قومی قیادت قرآن کریم اور محمد و آل محمد علیہم السلام کی گرانقدر تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے اپنے محکم دینی و آئینی اصولوں سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹی، وہ کسی بھی صورت میں اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنے والے قائد نہیں۔ قومی قیادت تکفیری پروجیکٹ کو شکست دینے میں کامیاب رہی، تمام اوچھے ہتھکنڈوں، دباؤ اور پابندیوں سے سرخرو ہو کر نکلی، دشمن کے مذموم عزائم کو بے نقاب کیا، اس کی سازشوں اور فتنوں کو ہمیشہ ناکام بنایا، دشمن کے دباؤ کے مقابلے میں کمزور موقف اختیار نہیں کیا، اسلامی نظام کے نفاذ کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کےلئے ہر قسم کی قربانی پیش کی۔ قومی تحریک نے اپنی لازوال قربانیوں، جرات، تدبیر، حکمتِ عملی، صبروتحمل اور وحدت کے ذریعے اپنی قوم کی نمائندگی کا حق ادا کیا اور دشمن پر ثابت کیا کہ اسے عوام کی وسیع اور گہری حمایت اور تائید حاصل ہے، یہ کوئی گروپ نہیں، بلکہ یہ ایک عوامی قوت اور تحریک کا نام ہے۔
قومی تحریک نے چالیس سالوں میں اپنے تجربات، فکری پختگی اور شعوری بلوغت سے مشکلات اور سخت ترین حالات میں ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھا نیز اس کی پہلی ترجیح نقصان سے بچنا اور ثانوی ترجیح جائز منفعت کا حصول رہا، قومی مفادات کے تحفظ کے لئے ’’حقوق وفرائض‘‘ کی حدود کو جانتے ہوئے کبھی بھی سرخ لائن کو عبور نہیں کیا، نہایت عجلت میں اقتدار پر فائز ہونے اور منافع حاصل کرنے کے لئے قومی مفادات کو قربان نہیں کیا، عوام کے سیاسی شعور کو مثبت انداز میں اجاگر کرنے کی کوششوں کو ہمیشہ جاری رکھا، شخصی اور گروہی محبت میں اندھی اور بہری نہیں بنی، دانش اور بصیرت پر مبنی اپنے فیصلوں اور اقدامات پر اسے شرمندہ نہیں ہونا پڑا۔
شیعہ قومی تحریک ایک ایسی مذہبی و سیاسی جماعت ہے جس کا باقاعدہ ایک دستور و منشورہے، اس کے مطابق وہ نہ تو کسی خفیہ طریقے سے ملک میں تبدیلی لا سکتی ہے اور نہ ہی فساد فی الارض کے کسی پروگرام کا حصہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح کسی غیر قانونی اور پُرتشدّد کاروائی کے ذریعے انقلاب کی بھی قومی تحریک کے دستور و منشور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے تحریک اس وقت ملک بھر میں شہروں اور قصبات سے لے کر دیہاتوں اور گوٹھوں تک متعارف و معروف ہے۔ قوم کی حمایت، بزرگوں کی دعاؤں، محنت، فکر اور اخلاص سے تحریک کا جو تنظیمی ڈھانچہ بنا تھا اب ایک شجرۂ سایہ دار اور بارآور درخت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔
الحمدللہ آج ہم قومی تحریک کی۴۰ ویں سالگرہ منا رہے ہیں تو ہمیں اپنی شاندار تاریخ اور ماضی پر فخر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here