قیادت نے فلان سے اتحاد کیوں کیا، فلان پالیسی اختیار کیوں کی؟ وغیرہ جیسے سوالات کے جواب کے لیے درج ذیل رائے ملاحظہ فرمائیں۔
۔ذریعہ اور مقصد
۔اعملی زندگی دو باتوں سے عبارت ہے
مقصد
ذریعہ یا طریقہ

ہمارے بہت سے احباب سماجی و سیاسی میدان میں مقصد اور ذریعے کی پہچان نہیں کر پاتے، اور دونوں کو مکس اپ کر جاتے ہیں۔ اور ذریعے کو مقصد یا مقصد کو ذریعہ سمجھ لیتے ہیں۔ جیسے بہت سی رسومات کو مقصد سمجھتے ہیں اور ان کے لیے مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ حالانکہ وہ کچھ دیگر مقاصد کے لیے ایک روش اور ذریعہ ہیں، مقصد نہیں۔

عن الامام الكاظم ع قال : ان لله على الناس حجتين : حجة ظاهرة وحجة باطنة، فأما الظاهرة فالرسل والانبياء، وأما الباطنة فالعقول

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
لوگوں پر اللہ کی دو حجتیں ہیں, ظاہری حجت رسل اور انبیاء ہیں اور باطنی حجت عقل ہے.
الکافی ,,, ج 1 ص 16

ظاہری حجت مقاصد بتاتی ہے اور باطنی حجت راستے تلاش کرتی ہے، انبیاء نے وحی کی روشنی میں زندگی کے اھداف و مقاصد واضح کردیے اور اپنے زمان و مکان کے لحاظ سے ان تک پہنچنے کے کچھ ذرائع بھی بتا دیے اور کچھ آئندہ زمانے اور دیگر مقامات کے لیے اندر کی حجت یعنی عقل پر چھوڑ دیے کہ اپنی عقل سے ان مقاصد کے لیے راستے تلاش کرتے رہنا۔ جسے ہم فقہی اصطلاح میں اجتہاد بھی کہتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہیئے کہ راستے، یا ذریعے وقت اور جگہ کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں، جیسے کسی زمانے میں گھوڑے اونٹ کہیں جانے کے ذرائع ہوتے تھے لیکن آج گاڑیاں ہیں جو انسان نے بہتر سے بہتر ذرائع تلاش کرنے کی راہ میں اپنی عقل سے بنائی ہیں۔
ہر انسان بھی عقل اور مہارت کے لحاظ سے یکساں نہیں ہوتا، لہذا تاریخ میں سماج کے لیے قیادت کا تصور پیدا ہوا اور نسبتاً فہیم تر اور ماہر تر فرد کو انتسابی یا انتخابی طریقے سے قیادت سونپی گئی۔ اور قیادت کا کام مقاصدِ حیات کے لیے اپنے اپنے زمانے اور اپنے اپنے مقام و جگہ کی مصلحتوں کے مطابق راستے اور ذرائع تلاش کرنا ہے۔
۔
ہمارے آئمہ ع نے اپنے اپنے زمانے میں مختلف طریقے اور ذریعے اختیار کر کے اپنے طے شدہ مقصدِ حیات کے لیے کردار ادا کیا کسی نے مسند خلافت پر بیٹھ کر، کسی نے مسند خلافت چھوڑ کر، کسی نے سر میدان سر کٹا کر، کسی نے دعا و مناجات کے ذریعے، کسی نے درس و تدریس کے راستے سے کسی نے ولی عہد بن کر ایک ہی ھدف و مقصد کے لیے کام کیا،
پس نظریے کا کام زندگی کا مقصد دینا ہے جبکہ قیادت کا کام راستے اور ذریعے تلاش کرنا ہے، اب سیاسی میدان میں کس سے اتحاد کرنا، کس سے الگ ہونا ہے، کہاں مصلحت ہے کہاں مفسدہ ، کونسا راستہ مقصد کی طرف لے جائے گا کونسا ذریعہ مقصد سے دور کر دے گا، یعنی مقصد اور ذریعے میں مطابقت دینا قیادت کا کام ہے۔ اگر یہ کام ہر فرد کرنے لگے تو تنظیم، تنظیم نہیں رہتی ، حتی معاشرہ بھی جو خود ایک وسیع تنظیم ہے بکھر جاتا ہے۔، اسی لیے نظریے کو تسلیم کرنے کے بعد قیادت پر اعتماد کامیابی کے لیے لازم عنصر ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here