لاپتہ شیعہ افراد کو سامنے لایا جائے ہم گفتگو کے قائل ہیں احتجاج کریں گے تو ریاست مشکل میں آجائے گی
لاپتہ شیعہ افراد کو سامنے لایا جائے ہم گفتگو کے قائل ہیں احتجاج کریں گے تو ریاست مشکل میں آجائے گی
لاپتہ شیعہ افراد کو سامنے لایا جائے ہم گفتگو کے قائل ہیں احتجاج کریں گے تو ریاست مشکل میں آجائے گی
ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی
 جعفریہ پریس : شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما  ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی نے جمعہ کے خطاب میں کہا کہ   ہم نے تاریخ میں کبھی ریاستِ پاکستان  سے بغاوت کی بات نہیں کی ریاست پاکستان  دو طرح گفتگو کررہی ہے ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں کچھ عناصر اور گروہ ایسے ہیں جو ریاست کے خلاف نعرہ لگارہے ہیں پاکستان کے اداروں کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں  ریاست ان سے بات کررہی ہے ان کو قومی دھارے میں لانے کی بات کررہی ہے کیوں ؟
  ہم ریاست پاکستان کے خلاف نعرہ لگانا گناہ سمجھتے ہیں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ عناصر ایسے ہیں  کہ انہوں نے ریاست کے خلاف نعرہ لگایا،انہوں نے ہندوستان سے فنڈنگ لی  ان پر بیرونی ہاتھ ہے   مگر آرمی چیف نے کہا کہ ان پر ہلکا ہاتھ رکھیں ہمارے لوگ اٹھائے گئے ہمارے جوان لاپتہ کئے گئے ان میں سے کس نے ریاست کے خلاف بولا کس نے ہندوستان سے فنڈنگ لی؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس راستے پر چل نکلیں جس راستے پراورگروہ  چل پڑے ہیں جو کہ غلط ہے ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا اگر ہمارے جلوسوں میں وہ ہی نعرے لگنا شروع ہوجائے اور
کچھ عناصر ایسا کریں خدانخواستہ تو آپ کیا کرینگے ؟ ہم سمیت آپ ایک مشکل میں پھنس جائینگے۔
ہم کوئی گروہ نہیں ہیں قوم ہیں ہماری مذہبی رسومات چار دیواری میں نہیں پاکستان کی بڑی شاہراہوں پر منعقد ہوتیہے اگر یہ مذہبی آزادی رسومات کسی موقع پر احتجاج میں تبدیل ہوجائے تو پورے ملک کے لئے مشکل پیدا ہوجائے گی ہم یہ نہیں چاہتے ہم انصاف آئین و قانون کے تقاضوں کے مکمل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور بہت آسان و محبت کے انداز میں ۔
علامہ شبیر میثمی کا کہنا تھا کہ اگر یہ قوم اٹھ کھڑی ہوئی تو کسی کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔ ہم اس وقت پیار و محبت کے مرحلے میں ہیں ہم گفتگو کے زریعے معاملات حل کرنے کے قائل ہیں مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے لوگ سامنے لائے جائیں عدالتیں سزا دیں تو بالکل  سزا دیں ورنہ آزاد کریں 
قائد ملت جعفریہ مسلسل اس سلسلے میں کوششیں کررہے ہیں۔ ہم مسلسل کئی سالوں سے اس سلسلے میں کوشش کررہے ہیں کچھ معاملات حل بھی ہوئے ہیں 
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے لال مسجد کیس کیسے نمٹادیا ؟  کیوں تکفیریوں کو میں اسٹریم میں لانے کی
بات ہورہی ہے؟

ریاست کے خلاف بولنے والے شیعہ مسلمانوں کی تکفیر کرنے والے اب بھی آزادانہ نفرت آمیز تقریریں کررہے ہیں

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے جو لوگ لاپتہ ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔عدالتیں ان کا جرم ثابت ہونے پر سزا دیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here