لگتا نہیں موجودہ حکومت جی بی عوام کو آئینی حقوق دے اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائے، قائد ملت  علامہ ساجد نقوی
 لگتا نہیں موجودہ حکومت جی بی عوام کو آئینی حقوق دے اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائے، قائد ملت  علامہ ساجد نقوی

 لگتا نہیں موجودہ حکومت جی بی عوام کو آئینی حقوق دے اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائے، قائد ملت  علامہ ساجد نقوی

آئینی ترامیم کےلئے سیاسی بالغ نظری ضروری، حکمران جارحانہ کی بجائے شائستگی اپنائیں ، قائد ملت جعفریہ پاکستان
 اسلام آباد/راولپنڈی 10 جنوری 2019 ء(   جعفریہ پریس) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ لگتا نہیں موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دے اور جنوبی پنجاب صوبہ بنائے، آئینی مسائل کے حل کےلئے سیاسی بالغ نظری ضروری، حکمرانوں کو جارحانہ رویہ کی بجائے شائستگی کی ضرورت ہے، نئے پاکستان میں بھی سابق ادوار کی ظالمانہ پالیسیوں کا تسلسل جاری ہے، بھانت بھانت کی بولیوں سے لگتاہے سیاسی جماعتوں کا دوسروں کی بجائے اپنے آپ بھی اعتماد ختم ہوچکا۔
    ان خیالات کا اظہار انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پرتبصرہ کرتے ہوئے کیا۔علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دینے سے کیس کے دوران عدالتی معاون اور سینئر قانون دان کے مسئلہ کشمیر بارے کلمات اپنی جگہ پر البتہ انہوںنے آئینی ترمیم کے حوالے سے جو پیشکش کی اور حکومت کی جانب سے پھر بھی یہ موقف سامنے آیا کہ مطلوبہ تعداد موجود نہیں کہ ترمیم ہوسکے اس سے ذرا برابر بھی نہیں لگتا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی حقوق دینا چاہتی ہے یا جنوبی پنجاب صوبہ کےلئے کوئی اقدام کرسکتی ہے کیونکہ حکمرانوں یا ا ن کے ترجمانوں کا انداز ابھی تک جو رہاہے وہ جارحانہ ہے ، حکومتیں ہمیشہ تدبیر، تدبر، برد باری اور شائستگی سے چلائی جاتی ہیں حالیہ ایام میں جو رویہ اختیار کیاگیاہے اس سے کہیں یہ نہیں لگتا کہ حکومت عوا م سے جڑے ان دو بڑے مسائل کو سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حل کرپائےگی اور اگر حکومت کا رویہ اسی تسلسل کا شکاررہا تو پھر معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے اور آخر میں اگر پہلے کی طرح گھسا پٹا ایگزیکٹو آرڈر کا اعلان کیاگیا تو یہ بھی پہلے کی طرح بوگس ہی ثابت ہوگا اور عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوجائینگے کہ شائدموجودہ حکومت جی بی عوام کو ان کے آئینی حقوق اور جنوبی پنجاب کا صوبہ بنانے میں سنجیدہ ہی نہیں تھی۔ 
    ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جس طرح سابق دور حکومت میں شہری آزادیوں کی پامالیاں جاری رہیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا رہا، شرفاءکو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کیا جاتا رہا اور مقدمات قائم کئے جاتے رہے وہ نئے پاکستان میں بھی جاری ہیں ، کیا سابقہ پالیسیوں کے تسلسل کو نئے پاکستان کانام دیاگیاہے؟اس کے علاوہ اور بہت سے عوامل اور اقدامات بھی نظر آرہے ہیں اور انجام پارہے ہیں جس سے واضح ہورہاہے کہ نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والی حکومت کا اس میں کوئی کردار بھی نہیں ۔ ان کامزید کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں جس طرح مختلف قسم کی بولیاں بولی جارہی ہیں اس سے لگتاہے کہ سیاسی جماعتوں کا دوسری جماعتوں پر اعتماد کم ہونے کی بجائے اپنے آپ پر بھی اعتماد ختم ہوتا جارہاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here