۲ مئی 2018 صبح تقریباً ۱۰ بجے کے قریب متحدہ مجلس عمل کے زیر اہتمام کنونشن سنٹر میں ورکرز کنونشن میں شرکت کے لیے نکلا، جے ایس او پاکستان کے سینئر رہنما برادر حنظلہ نقی، مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت برادر ملک طاہر اور جے ایس او پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے صدر رضا کاظمی بھی ہمراہ تھے۔ برادر تو اسلام آباد کی سڑکوں پر جگہ جگہ خوش آمدیدی پینا فلیکس لگے ہوئے تھے۔ جس میں متحدہ مجلس عمل کے تمام مرکزی قائدین کی طرف سے آنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا گیا تھا۔ ذاتی طور پر مجھے یہ ڈر تھا کہ ورکرز کنونشن کا اعلان تو کر چکے مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ ایم ایم اے کے قائدین اتنا مجمع نہ اکٹھا کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایم ایم اے کنونشن سنٹر کو ہی بھر نہ سکے۔ کہیں ایسا نہ ہو ، کہیں ویسا نہ ہو۔ انہیں خیالوں میں غرق کنونشن سنٹر پہنچ گیا۔ وہاں جا کر گاڑی سے اترا تو منظر ہی کچھ اور تھا۔
کنونشن سنٹر پہنچا تو مناظر آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے کافی تھے۔ سب سے پہلے رجسٹریشن کیمپ لگے تھے۔ اور وہاں رجسٹریشن کروانے کے لیے عوام کا ایک جم غفیر تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا اور بادلوں اور اسلام آباد کے موسم کو اور زیادہ خوبصورت بنا رکھا تھا۔ گاڑیوں پر لوگوں کے قافلے آرہے تھے۔ اور پھر جب اندر ہال می پہنچا، اسٹیج پر جا کر اپنی ذمہ داری کا کارڈ وصول کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا ہال مکمل بھر گیا، ایک بھی سیٹ خالی نہ رہی تو لوگ سیٹوں کے درمیان کھڑے ہونا شروع ہو گئے۔
میں سلام پیش کروں گا قائدین ایم ایم اے کی بصیرت کو کہ جن کو شاید اندازہ تھا کہ لوگ اتنے زیادہ ہوں گے کہ کنونشن سنٹر بھی تنگ پڑ جائے گا۔ اس لیے کنونشن سنٹر کے ہال سے باہر بھی ٹینٹ لگا کر کرسیوں کا اہتمام کیا گیا تھا اور وہاں پر بھی بڑی بڑی اسکرینیں لگا کر کنونشن سنٹر کے اندر کے مناظر باہر دکھانے کا اہتمام تھا۔
تمام مسالک کے علماء کو تو اکثر و بیشتر ٹی وی پر یا سوشل میڈیا میں تصاویر پر اکٹھے بیٹھے دیکھا کرتا تھا۔ اور دل میں یہ سوچا کرتا تھا کہ وہ کون سا دن ہو گا کہ جب یہ اتحاد خواص سے نکل کر عوام تک پہنچے گا اور جب تمام مسالک کے عوام مل کر باہمی اخوت و رواداری کی بنا پر مل بیٹھ کر بیٹھیں گے اور دلوں سے یہ کدورتیں نکلیں گی اور مشترکات پر اکٹھے ہوں گے۔
ایم ایم اے کے قائدین نے یہ موقع دیا۔ انہوں نے اس اتحاد کو خواص سے نکال کر عوام میں لے آئے، اور میں نے کنونشن سنٹر اسلام آباد میں دیکھا کہ وہاں کوئی مسلک نہیں تھا، وہاں کوئی شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی وغیرہ نہیں تھے۔ وہاں سب مسلمان تھے، وہاں سب پاکستانی تھے، وہاں سب مشترکات پر مجتمع تھے، جب بھی ایم ایم اے کے قائدین میں سے کوئی خطاب کے لیے اٹھتا تو اس کے لیے عوام کا احترام ایک جیسا ہوتا، کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ سنی کا قائد ہے، یا یہ شیعہ کا ، یہ دیوبندی کا قائد ہے یا بریلوی کا، وہاں سب اسلام کے نام پر مجتمع تھے اور برادری اور رواداری کی بنیاد پر ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے۔
جہاں یہ بات ہمارے لیے بہت خوش آئند تھی کہ اس قدر مختصر کال پر اتنا کامیاب ورکرزکنونشن منعقد کروایا گیا اور یقینا ایم ایم اے کے قائدین اس بات پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ وہیں ایم ایم اے کے سربراہ جناب مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ۱۳ مئی کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں ایک کامیاب ترین جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اور ہمیں اب یہ یقین ہو چلا ہے کہ یقینا ایم ایم اے وہاں پر پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے گی۔
اس سب کے باوجود سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ایم ایم اے کے اتحاد کے بارے میں مختلف قسم کے راگ الاپتے نظر آئیں گے۔کوئی یہ کہتا نظر آئے گاکہ اتنا عرصہ الگ رہنے کے بعد ان مولویوں کو الیکشن کی وجہ سے اتحاد نظر آ گیا، کوئی کہتا نطر آتا ہے کہ یہ مولوی مفادات کی وجہ سے اکٹھے ہو گئے، کوئی کہتا ہے کہ نماز تو اکٹھے پڑ ھ نہیں سکتے، ووٹ لینے کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ کوئی اعتراض کرتا ہے کہ یہ مولویوں کا ایک ٹولہ ہے جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے اتحاد کر لیا ہے۔ اور ایک شخص تو حد سے بڑھ گیا، اور توہین آمیز لہجہ میں کہنے لگا کہ اگر یہ معجزہ ہو بھی جائے کہ ایم ایم اے وزیر اعظم بنانے میں کامیاب ہو جائے تو کہیں مرغی حرام تو نہیں ہو جائے گی، وغیرہ وغیرہ۔
میں ان لوگوں سے کہنا چاہوں گا کہ تم کو کس بے وقوف نے کہا ہے کہ ایم ایم اے کے علماء الیکشن کے لیے متحد ہوئے ہیں اس سے پہلے یہ الگ الگ تھے۔ کیا تم نے ملی یکجہتی کونسل نہیں دیکھی ؟ کیا کبھی ان علماء کو ایک دوسرے کے خلاف بولتے سنا ؟ کیا کبھی ان علماء کی زبان سے ایک دوسرے کے خلاف توہین آمیز بات سنی ؟ کیا کبھی ان علماء کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہوئے دیکھا ؟ اگر نہیں تو پھر مانو کہ یہ علماء ہمیشہ سے متحد تھے ،ہیں اور رہیں گے۔ ہاں اب ان علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنے اندر موجود اس اتحاد کو عوامی سطح پر لے کر نکلیں، اب ان علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو اس کی اصل شکل میں واپس لے کر آئیں ، اب ان علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اقبال نے جو خواب دیکھا تھا، اور قائد نے جس کی تعبیر کی تھی اب اس خواب کی تکمیل کریں۔
دنیا کے ۵۷ اسلامی ممالک میں اس طرح کا اتحاد کبھی آج تک دیکھنے میں نہیں آیا کہ جہاں مختلف مسالک کے علماء ایک جھنڈے تلے جمع ہو جائیں اور وطن عزیز کو بچانے کے لیے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر نکل کھڑے ہوں۔اس اتحاد کی مخالفت صرف وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے پاکستان بنتے وقت قائد اعظم کی مخالفت کی تھی، دنیا کا واحد ملک ہے جو مذہب کے نام پر وجود میں آیا، لیکن آج ۷۱ سال گزر جانے کے باوجود آج تک اس میں اسلام حقیقی معنوں میں نافذ نہیں ہوسکا۔
ایم ایم اے کی فعالیت کے بعد جہاں تکفیری قوتیں پریشان حال ہیں اور نوحہ کناں ہیں۔اب تکفیریوں کے ساتھ ساتھ لبرل قوتیں بھی مل گئی ہیں۔ اور ایم ایم اے کی فعالیت پر پریشان ہیں۔ کیونکہ اب ان کو یقین ہو چلا ہے کہ ایم ایم اے آمدہ انتخابات میں اچھی خاصی سیٹیں لینے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مخصوص صحافیوں /تنخواہ دار ملازمین کو اس کے پیچھے لگا دیا ہے ہے کہ ایم ایم اے کے بارے میں غلط باتیں لوگوں تک پہنچائیں۔ اور اس اتحاد کو سبوتاژ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اور انہوں نے بھی نمک حلالی کا حق ادا کر دیا، کبھی یہ کہتے ہوئے نظر آئے کہ یہ کوئی مقدس اتحاد نہیں ، تو کبھی اس کے بارے میں عوام کو غلط گمراہ کرتے رہے۔
لیکن میں ایم ایم اے کے تمام قائدین کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے پہلی دفعہ اس طرح کے اتحاد کی بنیاد رکھی، انشاءاللہ یہ اتحاد آنے والے الیکشن میں تاریخی کامیابی حاصل کر کے ملک عزیز پاکستان کو حقیقی اسلامی راستے پر گامزن کرے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here