تحریر: محمد اشرف ملک

مسلمانوں کے درمیان پایاجانے والا انتشار

بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور باقی ادیان عالم کے لئے بھی یہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل اس پرقابض  ہو رہا ہے، امریکا نے اسرئیل کےدارالحکومت سےا پنا سفارت خانہ بیت القدس میں منتقل  کر کے یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ اس کے نزدیک   بیت المقدس فلسطین کا حصہ نہیں بلکہ  اسرائیل کا حصہ ہے۔امریکا کےظلم  اور خصوصا اس اقدام کو روکنےکے لئےفلسطینی عوام نے احتجاج کیا تو اسرائیلی درندوں نے ان کے اس احتجاج کو کچلتے ہوئے دسیوں افراد کوشہید کردیا۔امریکا اور اسرائیل  کے اس ظلم پر اقوام متحدہ خاموش اور تماشائی بنی  ہوئی ہے، اقوام متحدہ کیا  اسلامی ممالک  میں بھی استعماری طاقتوں کے خلاف واقعا جو ردعمل آناچاہیے تھا وہ نہیں آیا حتی چالیس ممالک کےفوجی اتحاد کو بھی تماشائی بننے کے علاوہ کوئی اور توفیق نہیں ہوئی ۔

اگر سب مسلمان ایک ہوتے، ان کا آپس میں اتحاد ہوتا، اپنی بعض کمزوریوں کو نظرانداز کرتے اور مشترکات و بلند اہداف کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کرتے تو آج عالم اسلام کا  یہ حشر نہ ہوتا جو ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان  جو اختلاف موجود ہیں ان میں کچھ تو طبیعی ہیں اور انسانی استعدادوں اور صلاحیتوں کی بنیاد پر ہیں۔کچھ اختلاف بعض انسانوں کی پستی اور گھٹیا پن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔یہ افراد ایسے پست اور گھٹیا ہوتے ہیں کہ  نہ اعلی قسم کے افراد کو درک کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے اہداف اور منصوبوں کو سمجھنے کی ان میں صلاحیت ہوتی ہے۔بعض افر اد صرف اپنے مفادات کے پیچھے ہوتے ہیں ۔یہ دونوں قسم کے طبقات اور افراد ممکن ہے سیاست کے میدان میں ہوں، ممکن ہے  بڑی سطح پر ملکی اور دینی شخصیات ہوں اور ممکن ہے بالکل نچلی سطح پر یعنی ایک محلہ، ایک شہر یا ایک قوم کی حد تک ہوں ان سے  کبھی خیر کی امید نہیں ہونی چاہئے۔

پست اور گھٹیا افراد ، دشمن کے آلہ کار

ان کی سوچ ہمیشہ کج ہوتی ہے ایسے افراد مثبت چیزوں کو منفی بنا کر اور اعلی و عظیم کاموں کو چھوٹا بنا کر یا برعکس بنا کر پیش کرنا اپنی طبیعت ثانویہ بنا چکے ہوتے ہیں۔معصومین اور علماء کرام کے سامنے جن لوگوں نے مشکلا ت ایجاد کی ہیں ان میں بہت سارے ایسے ہی افراد ہیں۔ ممکن ہے ایسے افراد  مقدس ترین مقامات جیسے مکہ و مدینہ میں رہتے ہوں اور مقدس ترین کام میں مشغول  ہوں  لیکن ان کا خبث باطنی ظاہر ہو کر رہے گا۔دشمن ہمیشہ ایسے افراد کے زریعہ امت مسلمہ میں پہلے اختلاف ایجاد کرتا ہے پھر تسلط اور قبضہ کرتا ہے۔ان حالات میں امام زمان کے ایک سپاہی ایک طالبعم ، عالم دین، مدارس ،مساجد اور حوزہ ہای علمیہ میں رہنے والے با بصیرت انسانوں کو وحدت و اتحاد کی کوشش کرنی چاہئے ۔جب بعض افراد جو چھوٹی چھوٹی باتوں میں پڑ کر افتراق و انتشار کی فضا بناتے ہیں انہیں دیکھ کر واقعا افسوس ہوتا ہے۔

اللہ کے دین کو تھامو، اکیلے نہیں بلکہ سب ملکر

آج اس دور میں کہ جب انتشار ہی انتشار ہے اور یہ زبان کے نام پر، علاقہ کے نام پر،مذہب و مسلک کے نام پرروز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ہر کوئی ڈیڈھ  اینٹ کی مسجد بنانے کی  فکر میں ہے، مدرسہ بنانے کی فکر میں ہے  جبکہ  مدرسوں کی کیفیت کو  بہتر بنانے اور مساجد کو آباد کرنے کے بارے میں بیشتر فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ فرد کی بجائے جماعت بننے ، تنہا کام کرنے کی بجائے جماعت کی صورت میں کام کرنے، اکیلا نماز پڑہنے  کی بجائے باجماعت نماز  پڑہنے ، اکیلے تحریک چلانے کی بجائے جماعت کی صورت میں تحریک  چلانے، ان تمام حالتوںمیں جماعت  کی صورتیں وہ ہیں جوزیادہ  سے زیادہ مثمر ثمر بھی بن سکتی ہیں اور کم خرچ و کم وقت میں نتیجہ تک بھی پہنچا سکتی ہیں۔ یہی وہ چیز ہے کہ جس کا اللہ نے قرآن مجید میں حکم دیا ہے کہ:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

خدا کی رسی یعنی دین خدا کو مضبوطی سے تھامو اور مضبوطی سے تھامنا اس وقت صدق کرے گا جب ہر کوئی اکیلا اکیلا مضبوطی سے دین کو تھامے گا لیکن اتنا کافی نہیں ہے یعنی اللہ صرف یہ حکم نہیں دے رہا کہ اکیلے اکیلے اللہ کی رسی کو تھامو بلکہجَمِيعًا، یعنی سب ملکر جماعت کی صورت میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ وَلَا تَفَرَّقُوا، یعنی اپنی ایک ایک اینٹ کی مسجد نہ بناو اور ایک دوسرے سے متفرق اور جدا نہ ہو بلکہ  جماعت بن کر، متحد ہو کر، اکٹھے ہو کر اللہ کے دین کی رسی کا اعتصام کرو۔ آج کے  نازک ترین حالات میں جب دشمن قبلہ اول کو اپنے قبضہ میں کرنے کا پورا پروگرام بنا چکا ہے ان حالات میں اپنی مسجد، اپنا مدرسہ،اپنی جماعت ،اپنی شخصیت،اپنا مکتب ،اپنااپنا اپنا کہنا اور باقی سب اہل علم کو ، اہل فضل کو ، باقی مسلمین کو اور خصوصا باقی مومنین کو  غیر سمجھنا  یہ ایسی حقیقت ہے جو کسی فرد ، کسی ملت اور خصوصا امت کو بیدار کرنا تو کیا ، امت کو ذبح کرنے کے مترادف  بن سکتاہے۔

امت مسلمہ کی  وحدت کے لئے  اپنی طرف سے اتمام حجت

مینارپاکستان کے گراوئنڈ میں “پانچ بڑی دینی۔سیاسی “جماعتوں کے تاریخی جلسہ  کا اہتمام اور پھر اس کی کامیابی اور ملکی سیاست سےلیبرل اورسیکولار قوتوں  کے خلاف ملکرسیاست کے میدان میں دوبارہ آنا  ،امریکا،اسرائیل  اور استعماری  قوتوں اور غربی ثقافت کے خلاف واقعا ایک بی مثال اور بینظیراقدام ہے۔موجودہ دور میں  مجلس عمل کی افادیت سے کوئی   متدین اوربابصیرت انسان انکار نہیں کر سکتا۔ قائد ملت جعفریہ کے راہنما اصولوں کے پیش نظر۱۳ مئی مینار پاکستان  لاہور میں ،کلمہ گویان اسلام کے تاریخی جلسہ سے، حجت الاسلام والمسلمین علامہ عارف حسین واحدی کاا علان پاکستان کے ہرذمہ دار فرد کے لئے ملت تشیع کی طرف سے اتمام حجت تھا ۔ کس بات پر ؟ اس بات پر کہ امت مسلمہ کی وحدت و اتحاد میں مشکل ،شیعیان حیدرکرار کی طرف سے نہیں ہے بلکہ استعماری طاقتوں ، ان کے اتحادیوں اور عالم اسلام کے بعض نافہم  افراد کی وجہ سے ہے ۔ جو بھی اس وحدت و اتحاد  کے خلاف بات کرتا ہے  یا تو وہ فکری اور سیاسی حوالے سے ابھی سن بلوغ تک نہیں پہنچا ہے  یا سن بلوغ تک تو پہنچا ہے یا کسی کا آلہ کار اور ایجنٹ ہے یا واقعا حقائق سے آشنا نہیں ہے۔ ان افراد کو حقائق سمجھنے اور پاکستان میں واقعا دین کے لئے کام کرنے والی شخصیات کی شناخت اور ان کی قدر کرنی چاہئے۔

پاکستان میں صرف شیعہ ہونے کی بنیاد پر کتنے لوگوں کو شہید کیا گیا ہے ۔ آج اگر پاکستان میں ملت تشیع کا ایک وقار ہے ایک عزت ہے  تو اس میں جہاں موجودہ قائد محترم کی بصیرت اور حکمت عملی ہے وہیں پر قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کا خون بھی ہے، ڈاکٹر نقوی کی شہادت بھی ہے۔ کتنے ڈاکٹر، کتنے وکیل، کتنے پروفیسر و استاد ، کتنے علماءکتنے سٹوڈنٹس ، کتنے مومن و عزادار ایسے ہیں کہ جنکے خون شہادت کی وجہ سے آج تشیع کا یہ وقار ہے۔ کتنے علماء کی محنتیں اور کتنے مخلص افراد کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ امت مسلمہ وحدت  و اتحاد کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔ تمدن غرب کے مقابلہ میں  تمدن اسلام کو پیش کرنے کا مقام معظم رہبری مدظلہ العالی کا جو خواب  ہے وہ باقی جگہوں پر تو اپنی جگہ پر لیکن پاکستان میں  قائد ملت  علامہ سید ساجد علی نقوی  زید عزہ کے ہاتھوں شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ان حالات میں دشمن کی پریشانی کی تو سمجھ آتی ہے  کہ ان کی کئی سالوں اور کروڑوں ڈالروں کی محنت ضایع ہوتی نظر آ رہی ہے  لیکن اپنے بعض مومنین   اور انتہائی قلیل مقدار میں  اہل علم کی پریشانی کی  سمجھ  نہیں آتی۔  بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ اللہ تعالی قائد محترم ، ان کے رفقاء کار خصوصا بالخصوص حجت الاسلام والمسلمیں عارف حسین واحدی،حجت الاسلام والمسلمیں علامہ شبیر میثمی ،حجت الاسلام والمسلمیںسبطین سبزواری اور باقی تمام مومنین اور کارکناں کی توفیق میں اضافہ فرمائے۔ آمین

 

 

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here